کھدی رام بوس: انڈیا کی تحریکِ آزادی کے لیے جان دینے والے سب سے کم عمر مجاہد کی کہانی

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


امت شاہ

Getty Images
انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ کھدی رام بوس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

30 اپریل، 1908۔ بہار کا علاقہ مظفر پور۔ رات کے ساڑھے آٹھ بجے کا وقت۔

مقامی برطانوی کلب سے دو بگھیاں نکلتی ہیں۔ ایک میں علاقے کے میجسٹریٹ ڈگلس کنگس فورڈ اور ان کا خاندان سوار ہے۔ کنگس فورڈ کے ظلم کی کہانیاں پورے بنگال میں مشہور ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس کی سنائی گئی سزائیں تحریکِ آزادی سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں پر تشدد کا باعث بنی ہیں۔

دوسری بگھی میں ایک برطانوی بیرسٹر، پرنگل کینیڈی کی اہلیہ اور بیٹی موجود ہیں۔

دونوں سواریاں کلب سے نکل کر کنگس فورڈ خاندان کی رہائش گاہ کی جانب مڑتی ہیں۔ رات خاصی اندھیری ہے اور جونہی ایک بگھی کنگس فورڈ کے بنگلے کے مشرقی دروازے کے قریب پہنچتی ہے، دو افراد سڑک کے دوسری جانب سے نمودار ہوتے ہیں اور اس کی جانب کچھ پھینکتے ہیں۔

یک دم ایک زور دار دھماکے کی آواز آتی ہے اور خواتین کی بگھی سے جتا گھوڑا ڈر کے مارے دوڑ پڑتا ہے۔ گھوڑے کو جلد ہی قابو کر لیا جاتا ہے اور بگھی میں موجود خواتین کو طبی امداد کے لیے لے جایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’سندھ کا بھگت سنگھ‘ جسے اپنی ہی دھرتی نے بھلا دیا

وہ رہنما جن کی قبر کو بھی برطانوی سرکار نے قید میں رکھا

سلطانا ڈاکو اور برصغیر میں امیر کو لوٹ کر غریب کو دینے کی روایت

پرنگل کینیڈی کی بیٹی اسی رات دم توڑ دیتی ہیں جبکہ ان کی اہلیہ 2 مئی کو جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔

یہ حقائق کلکتہ ہائی کورٹ میں اسی کیس میں ملزم کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں درج ہیں۔ اس ملزم کا نام کھدی رام بوس ہے، جنھیں انڈیا کی تحریکِ آزادی کے سب سے کم عمر ‘شہید’ کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

کھدی رام بوس کون تھا؟

کھدی رام بوس کے حالات زندگی پر ہتندر پٹیل کی کتاب “Khudiram Bose: Revolutionary Extraordinaire” کے مطابق: ‘کھدی رام بوس 3 دسمبر 1889 کو بنگال ایک کے چھوٹے سے گاؤں حبیب پور میں پیدا ہوا تھا مگر سات سال کی عمر میں وہ اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو گیا۔ اس کی بہن انرویا نے اس کی پرورش کی ذمے داری سنبھالی۔ کھدی رام کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی ہوئی اور پھر وہ کلکتہ آ گیا جہاں اس نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔’

یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے تمام رہنے والوں کے دلوں میں برطانوی سامراج کے خلاف نفرت کی آندھی چل رہی تھی۔ ہر شہر اور قصبے میں اکثر ایسے جلوس نکلتے تھے جن میں ‘انقلاب زندہ باد’ کے نعرے لگائے جاتے۔

‘کھدی رام بوس بھی ایسے جلوسوں میں شریک ہوتا تھا اور اسے بھی برطانوی سامراج سے شدید نفرت تھی۔’

ایسی ہی تفصیل انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ، نئی دہلی کی شائع کردہ کتاب ‘جدید ہندوستان کے معمار’ میں بھی درج ہے۔

کتاب کے مطابق: ‘کھدی رام بوس سودیشی تحریک میں شامل ہونے کے لیے اپنی تعلیم ترک کر کے کھدی رام چھاترا بھنڈار سے وابستہ ہوگئے۔ وہ اپنے ضلع کے انقلابی نوجوانوں کے افکار سے متاثر تھے اور 1906 میں ایک باغیانہ ہینڈ بل ‘سونار بنگلہ’ بانٹتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ ان پر مقدمہ چلا مگر ان کی کم عمری کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں چھوڑ دیا گیا۔’

کھدی رام بوس کی اس گرفتاری کا ذکر ایم ایل آہوجا کی کتاب “Eminent Indians: Revolutionaries” میں بھی موجود ہے۔

آہوجا لکھتے ہیں کہ جب کھدی رام بوس سونار بنگلہ نامی ہینڈ بل بانٹ رہے تھے تو وہ ساتھ ساتھ ‘وندے ماترم’ کا نعرہ بھی لگا رہے تھے اور اسی نعرے کی وجہ سے وہ پولیس کی نظروں میں آگئے۔

آہوجا نے مزید لکھا ہے کہ ‘جلد ہی کھدی رام بوس ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگے جو آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے حامی تھے۔ ان لوگوں میں ستین بسو اور وریندر گھوش کے نام شامل تھے۔ ڈگلس کنگس فورڈ ان افراد کا خاص ہدف تھا۔ انھوں نے اسے مارنے کے لیے پہلے ایک بم کتاب کے اندر اچھی طرح پیک کر کے اس کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیا، مگر خوش قسمت کنگس فورڈ نے کتاب کو کھولے بغیر الماری میں رکھ دیا۔ یہ کوشش ناکام ہوئی تو پھر میجسٹریٹ پر بم حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کام کی انجام دہی کے لئے کھدی رام بوس اور پرافولاچاکی کا انتخاب کیا گیا۔ کھدی رام بوس دیسی ساخت کے بم بنانے میں مہارت حاصل کر چکے تھے اور کئی مقامات پر ان بموں کا استعمال بھی کرچکا تھے۔’

قتل کی منصوبہ بندی

ڈگلس کنگس فورڈ کو اس سے پہلے بھی قتل کرنے کی ایک کوشش ناکام ہوچکی تھی۔ انھوں نے 1906 میں نارائن گڑھ ریلوے اسٹیشن پر انگریز گورنر کی گاڑی پر بم پھینکنے والے نوجوانوں کو کڑی سزائیں سنائی تھیں۔

جدید ہندوستان کے معمار کے مطابق: ‘اب کنگس فورڈ کا تبادلہ مظفر پور ہوگیا تھا چنانچہ کھدی رام بوس اور پرافولاچاکی کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے کے لیے مظفرپور پہنچ گئے۔’

کنگس فورڈ روزانہ شام کے وقت اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ برج کھیلنے کے لیے کلب جایا کرتے تھے۔

کھدی رام بوس اور پرافولا چاکی نے منصوبہ بنایا کہ جب وہ برج کھیلنے کے بعد کلب سے باہر نکلیں گے، اس وقت انھیں بم سے اڑا دیا جائے گا۔

30 اپریل کو انھیں اپنے منصوبے پر عمل درامد کرنے کا موقع مل گیا مگر کنگس فورڈ اور ان کے مہمان الگ الگ بگھیوں میں کلب سے باہر نکلے۔

ان سے اس بگھی کو پہچاننے میں چوک ہوگئی جس میں کنگس فورڈ سوار تھا اور غلطی سے اس بگھی پر بم پھینکا جس میں پرنگل کینیڈی کا خاندان سوار تھا۔ دونوں خواتین بم دھماکے میں ماری گئیں اور کنگس فورڈ ایک مرتبہ پھر بچ نکلا۔

کھدی رام کی گرفتاری

کھدی رام بوس مظفر پور سے فرار ہوگیا لیکن چاروں جانب پولیس کی کڑی نگرانی تھی۔ وہ 25 میل پیدل چلتا ہوا قریبی ریلوے اسٹیشن بینی پور پہنچا، جہاں وہ اپنے خستہ حلیے اور پیروں میں جمی دھول کی وجہ سے پولیس کی نظر میں آگیا اور پولیس کانسٹیبلز فتح سنگھ اور شیوپرشاد سنگھ نے اسے حراست میں لے لیا۔

جب کھدی رام بوس گرفتار ہوا تو اسے ہتھکڑی لگا کر مظفرپور لایا گیا۔ اس 18 سالہ ‘دہشت گرد’ کو دیکھنے کے لیے پورا شہر سڑکوں پر امڈ آیا۔ اگلے دن بنگال کے تمام اخبارات اس کی گرفتاری کی خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔

پھر کھدی رام بوس پر کنگس فورڈ کی بیوی اور بیٹی کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔

ادھر پرافولا چاکی اپنے ایک مہربان کی مدد سے ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا اور کلکتہ جانے والی ٹرین میں سوار بھی ہو گیا۔ برطانوی پولیس کے افسران چاروں جانب بم دھماکے کے ملزمان کو تلاش کرتے پھر رہے تھے اور ٹرین میں ایک سب انسپکٹر نند لال بینرجی کو پرافولاچاکی کی حرکات و سکنات پر شبہ ہوا۔

اس نے مظفر پور پولیس کو اس کے بارے میں اطلاع دے دی جنھوں نے اگلے سٹیشن پر پرافولاچاکی کو گرفتار کرنے کا بندوبست کیا۔ مگر جونہی پولیس نے اسے گرفتار کرنا چاہا، اس نے اپنے ریوالور سے خود کو گولی مار لی۔

کلکتہ ہائی کورٹ

Getty Images

مقدمہ اور سزا

شروع شروع میں تو کوئی وکیل کھدی رام بوس کا مقدمہ لڑنے کے لیے آمادہ نہ ہوا مگر پھر کالی داس باسو، اوپندر ناتھ سین اور کشیتر ناتھ بندو پادھیائے نے ان کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

21 مئی 1908 کو جج کارن ڈوف کی عدالت میں مقدمے کا آغاز ہوا۔ چند ہی پیشیوں میں کھدی رام بوس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اس نے جج کو اپنی بم بنانے کی صلاحیت سے بھی آگاہ کیا اور عدالت نے اسے موت کی سزا سنا دی۔ کھدی رام بوس کو ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے سات دن کی مہلت دی گئی مگر پہلے تو انھوں نے یہ اپیل کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں اپنے وکلا کے سمجھانے پر کہ اس سے سزائے موت عمر قید میں تبدیل ہوسکتی ہے، کھدی رام نے اپیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ہائی کورٹ میں کھدی رام بوس کی جانب سے نریندر کمار باسو پیش ہوئے۔ انھوں نے ملزم کی کم عمری کو جواز بنا کراس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی مگر13 جولائی 1908 کو عدالت نے اپیل خارج کر دی۔ اب یہ مقدمہ گورنر جنرل تک پہنچا جو اس سزائے موت کو ختم کر سکتا تھا مگر وہاں بھی اس سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا۔

11 اگست 1908 کو صبح چھ بجے کھدی رام بوس کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 18 سال آٹھ ماہ تھی اور وہ انڈیا میں سزائے موت پانے والے سب سے کم عمر ‘مجاہد آزادی’ تھے۔

اگلے روز کلکتہ کے سب سے بڑے روزنامہ امرت بازار پتریکا نے کھدی رام بوس کو خراج تحسین پیش کیا۔ بنگالی زبان کے عظیم شاعر قاضی نذر الاسلام نے ان کے لیے ایک نظم تحریر کی اور جلد ہی کھدی رام بوس بنگالیوں کا ہیرو بن گیا۔

بنگالی نوجوان گلی گلی میں قاضی نذر الاسلام کی نظم گاتے پھرتے تھے اور وہ لباس پہنا کرتے تھے جو کھدی رام بوس کے حلیے کی یاد میں تیار کیا گیا تھا۔

ایم ایل آہوجا نے لکھا ہے کہ ‘کھدی رام بوس کی سزائے موت کے بعد کنگس فورڈ کو ایک پل بھی سکون نہیں ملا۔ وہ موت کے خوف سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گیا اور اس نے مسوری میں رہائش اختیار کر لی۔ کھدی رام بوس کی قربانی سے نہ صرف کنگس فورڈ اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے بلکہ حکومت برطانیہ بھی بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ وہ ظلم کے بل بوتے پر ہندوستان پر حکومت نہیں کرسکتی۔’

1947 کے بعد

1947 میں ہندوستان سے برطانیہ کا راج ختم ہوگیا۔ اب وقت آگیا تھا کہ آزادی کے لیے قربانیاں دینے والے مجاہدین کو ان کے شایان شان خراج تحسین پیش کیا جائے۔ چنانچہ آزادی کے بعد 1965 میں انڈیا کی حکومت نے کلکتہ میں کھدی رام بوس سینٹرل کالج قائم کیا اور کلکتہ ہی میں ان کی یاد میں ایک ہسپتال قائم کیا گیا۔

مظفرپور جیل، جہاں سنہ 1908 میں انھیں سزائے موت دی گئی تھی، ان سے موسوم کر دی گئی اور وہ سٹیشن جہاں سے کھدی رام بوس گرفتار ہوئے تھے اسے بھی ان ہی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

کلکتہ میں ایک میٹرو اسٹیشن بھی کھدی رام بوس کے نام سے منسوب ہوا اور 1990 میں انڈیا کے محکمہ ڈاک نے کھدی رام بوس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 11 اگست 2017 کو کھدی رام بوس کی یاد میں ایک بائیوپک (سوانحی فلم) ‘میں کھدی رام بوس ہوں’ تیار کی گئی۔ اس کے فلم ساز اشوک سہانی اور ہدایت کار منوج گری تھے جبکہ فلم کا مرکزی کردار کنشک کمار جین نے ادا کیا تھا۔

ایم ایل آہوجا نے لکھا ہے: ‘ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں کھدی رام بوس کا ذکر اتنا نہیں ہوتا جتنا اس کے بعد آنے والے دیگر مجاہدین مثلاً بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، رام پرشاد بسمل اور مدن لال ڈھینگرا کا ہوتا ہے مگر کھدی رام بوس کی زندگی اور ان کی موت ان تمام مجاہدین کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18857 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp