کراچی میں تحریک انصاف کی شکست حکومت پر عدم اعتماد ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) انتخابی نتائج کے حوالے سے بیان بازی میں مصروف ہیں۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندو خیل یہ انتخاب 16156 ووٹ لے کر جیت گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل 15473 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ حیرت انگیز طور پر 2018 میں یہ نشست جیتنے والی حکمران پاکستان تحریک انصاف کا امید وار مقابلے میں پانچویں نمبر پر آیا ہے اور اسے 8922ووٹ ملے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کا اعتراض ہے کہ پولنگ ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد نتائج کا اعلان شبہات پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے مریم نواز نے ان انتخابی نتائج کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے فاؤل پلے کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کا امید وار جیت جاتا تو وہ خود شہباز شریف کو فون کرکے مبارک باد دیتے لیکن ہارنے کے بعد مسلم لیگی قیادت نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کا نقصان اسی کو اٹھانا پڑے گا۔ اپوزیشن کی دونوں پارٹیوں میں پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں اختلاف کے باعث فاصلے پیدا ہوئے تھے ۔ اگرچہ اسلام آباد سے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر منتخب کروانے میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے ہی بنیادی کردار ادا کیا تھا لیکن بعد میں لانگ مارچ اور استعفوں کے سوال پر اختلاف پیدا ہؤا تو پیپلز پارٹی پہلے سے طے شدہ معاہدے سے منحرف ہوگئی اور سینیٹ کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کی وجہ سے یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے پر بضد ہوگئی۔
صادق سنجرانی اور ان کی حمایت کرنے والے سینیٹرز کی مدد سے یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ تاہم اس کامیابی نے پاکستان جمہوری تحریک کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ ملکی سیاست میں اس قسم کی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے تاہم اس تنازعہ میں عمران خان اور تحریک انصاف کو سکھ کا سانس نصیب ہؤا ہے اور حکومت پر فوری طور سے اپوزیشن کا دباؤ کم ہوگیا ہے۔ اس وقت ملک میں رمضان المبارک کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں لیکن عید الفطر کے بعد بھی کسی بڑی تحریک کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کی ایک وجہ تو اپوزیشن کا سیاسی اختلاف اور دو بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان ٹکراؤ کی کیفیت ہے لیکن کورونا کی صورت حال میں بھی کسی قسم کے اجتماعات کا انعقاد ذمہ دارانہ اقدام نہیں ہوگا۔
این اے 249 سے 2018 کے انتخابات میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم انہیں دوہری شہریت کے معاملہ پر نااہلی کا خطرہ لاحق تھا کیوں کہ قومی اسمبلی کے انتخاب میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت وہ بدستور امریکی شہری تھے۔ اس شہریت سے وہ بعد میں دست بردار ہوگئے تھے لیکن انتخابی قواعد کے تحت غلط بیانی کے الزام میں ان کے خلاف الیکشن کمیشن کارروائی کرسکتا تھا۔ اسی اندیشے کی وجہ سے عمران خان نے انہیں مارچ میں سینیٹ کا رکن بنوا لیا ۔ 3 مارچ کو قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر سینیٹ انتخاب میں ووٹ دینے کے بعد فیصل واوڈا نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا اور اسی روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوہری شہریت پرچلنے والا مقدمہ خارج کروالیا۔ اس طرح تحریک انصاف نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا اقدام ضرور کیا لیکن گزشتہ روز این اے 249 کی نشست ذلت آمیز طریقے سے ہارنے کے بعد اسے سنگین سیاسی سوالات کا سامنا ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور شپنگ کے وزیر علی حیدر زیدی نے تحریک انصاف کی ناکامی کو ’دھاندلی‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ علی حیدر زیدی کا دعویٰ ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب چوری کیا ہے ۔ جبکہ فواد چوہدری نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پولنگ سے پہلے آنے والے تمام سروے تحریک انصاف کی کامیابی کی اطلاع دے رہے تھے۔ لیکن جس طرح پی ٹی آئی کے امید وار امجد آفریدی ناکام ہوئے ہیں، اس سے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان میں انتخاب ہارنے والا ہر امید وار اور سیاسی جماعت انتخابی نتیجہ قبول کرنے کی بجائے دھاندلی کا الزام عائد کرتی ہے۔ اس لئے حکومتی وزرا کی جانب سے شکست کی ندامت کو چھپانے کے لئے اسی پرانے ہتھکنڈے کا استعمال حیران کن نہیں ہے۔ تاہم یہ ناکامی حکمران جماعت کی عدم مقبولیت اور عوام کی عمران خان کی قیادت سے مایوسی کی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے پہلے بھی پنجاب اور سندھ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امید وار مسلسل ناکام ہوئے ہیں۔ حتی کہ یہ جماعت نوشہرہ کی ایک محفوظ سیٹ کی حفاظت بھی نہیں کرسکی تھی۔
الزام تراشی کے ذریعے مقبولیت کا ڈھونگ قائم رکھنے سے تحریک انصاف کو حقیقی کامیابی نصیب نہیں ہوگی۔ 2023 کے انتخابات میں عوام کے سامنے جانے کے لئے تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ حکومت کو یہ اندازہ کرنا ہوگا کہ صرف مخالفین پر الزام تراشی ، اپوزیشن لیڈروں پر مقدمات اور سہانے مستقبل کے بارے میں بیان بازی سے عوام کو ہمیشہ کے لئے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ ملک میں مہنگائی اور معاشی انحطاط اس وقت تحریک انصاف کی حکومتوں کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے باوجود اب بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی طرح ناکامیوں کا سارا بوجھ سابقہ حکومتوں پر ڈال کر اپنے لئے نجات کا کوئی راستہ تلاش کیا جاسکے۔ یہ طریقہ البتہ کسی بھی ایسی حکومت کے لئے کارگر نہیں ہوسکتا جو پانچ برس بعد بہر حال مینڈیٹ کی تجدید کے لئے عوام کے پاس جانے کی پابند ہو۔ کراچی کے ضمنی انتخاب میں یہی بات سامنے آئی ہے کہ کس طرح ایک ایسی پارٹی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جو محض اڑھائی برس قبل امیدوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان نے آج گلگت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ماضی میں پارٹی ٹکٹ دینے اور وزارتیں بانٹنے میں سنگین غلطیاں ہوئی تھیں۔ یہ اعتراف کسی اصلاح کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نیت میں کوئی خرابی نہیں ہے بس کچھ فیصلے غلط ہوگئے تھے۔ عام شہریوں کو اس سے غرض نہیں ہے کہ وزیر اعظم اور حکمران جماعت کے چئیرمین اپنے ساتھیوں کی ناکامیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ انہیں تو حکومت کی کارکردگی اور اپنے حالات بہتر ہونے پر ہی یہ یقین آسکتا ہے کہ عمران خا ن نے غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔اس مقصد کے لئے وزیر اعظم کو جارحانہ طرز تکلم اختیار کرنے کی بجائے مفاہمانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایک جمہوری حکومت کو آمرانہ طریقے سے چلانے کی بجائے اپوزیشن کے تعاون سے پارلیمنٹ کو فعال بنانا اہم ہے۔ جب تک حکومت کرنے والی سیاسی جماعت اس سچائی کا ادراک نہیں کرے گی کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت نافذ ہے اور اقتدار ملنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وزیر اعظم خود مختار اور مطلق العنان حکمران بن چکا ہے جو پارلیمنٹ کی مرضی اور اپوزیشن کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بھی اقدام کر سکتا ہے۔ اسی عاقبت نااندیشانہ حکمت عملی کی وجہ سے اس وقت عمران خان کو ہر طرف سے سیاسی مایوسی و ناکامی کا سامنا ہے۔
2018 کے انتخابات میں تحریک انصا ف کے فیصل واوڈا کو این اے 249 سے 35344ووٹ ملے تھے ۔ ان کے مد مقابل شہباز شریف34626ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے اور تقریباً سات سو ووٹوں سے ہارے تھے۔ اگر حکومت کی کارکردگی قابل ذکر ہوتی تو گزشتہ روز کے انتخاب میں اس کے امید وار کو سنگین ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ضمنی انتخاب میں روائیتی طور سے کم ووٹ پڑتے ہیں۔ رمضان المبارک اور ملک میں کورونا کی صورت حال بھی ووٹوں کی شرح میں کمی کا سبب بنی ہے لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) اس حلقے میں اپنی مقبولیت قائم رکھنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ تحریک انصاف کا امید وار ووٹ لینے والوں میں پانچویں نمبر پر رہا ۔ پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل کو 2018 کے انتخاب میں 7236 ووٹ ملے تھے ۔ ضمنی انتخاب میں ووٹ بھی کم تعداد میں پڑے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ملنے والے ووٹ دو گنا سے بھی بڑھ گئے۔ اس نتیجہ پر مسلم لیگ (ن) کا استعجاب قابل فہم ہے۔
بہتر ہوگاکہ موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے مد مقابل آنے اور ایک نشست کے لئے الزام تراشی کا سہارا لینے کی بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں۔ ملک میں سیاسی اصلاحات اور انتخابی عمل کو شفاف اور سیاست کو عسکری اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے بڑے مقصد کے سامنے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر ہار یا جیت زیادہ معنی نہیں رکھتی ۔لیکن اگر کوئی بھی سیاسی پارٹی سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے حقیقی مقصد کو پس پشت ڈالے گی تو جلد یا بدیر اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ پیپلز پارٹی کو خاص طور سے اس پہلو پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ کیا بیک وقت دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے کی سیاست اس کے لئے سود مند ہوسکتی ہے ؟
آصف زرداری کو جیسا بھی سیاسی ہنر مند ثابت کیا جائے لیکن اپوزیشن میں ان کی سیاست سے اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کو ریلیف ملا ہے۔ حالانکہ عوام کو جب بھی رائے دینے کا موقع مل رہا ہے، وہ پی ٹی آئی کو مسترد کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو سوچنا چاہئے کہ کیا اپوزیشن میں انتشار کی سیاست اس کے لئے وسیع تر بنیاد پر سیاسی کامیابی کا زینہ ثابت ہوسکتی ہے اور کیا عمران خان کی حکومت میں آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر زعما کو مقدمات میں کوئی سہولت مل سکے گی؟ فی الوقت ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔ اس لئے این اے 249 کے بعد مفاہمت کا آغاز ہونا چاہئے۔ ایک بار پھر جمہوری جد و جہد کو قوت دینا ضروری ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1834 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *