جھیل سے منگنی کی انگوٹھی ڈھونڈنے والے غوطہ خور کو خراج تحسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک نئے نویلے منگنی شدہ جوڑے نے انگلینڈ کی وینڈرمیئر جھیل میں گر کر کھو جانے والی منگنی کی انگوٹھی ڈھونڈنے والے غوطہ خور کو ‘شاندار انسان’ قرار دے کر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

شمالی لندن سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ وکی پٹیل نے برمنگھم سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ ربیکا چوکریا کو حال ہی میں وینڈرمیئر جھیل پر منگنی کرتے ہوئے وائٹ گولڈ اور ہیرے سے بنی انگوٹھی دی تھی۔

وکی پٹیل نے ربیکا کو وائٹ گولڈ اور ہیرے کی چمچماتی انگوٹھی سنیچر کو جھیل کے کنارے فوٹو شوٹ کےدوران گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پہنائی تھی۔ ان کی منگنی کی رسم کورونا وبا کے باعث سفری پابندیوں کی وجہ سے پانچ مرتبہ ملتوی ہوئی تھی۔

لیکن منگنی کے دو دن بعد ہی جب جوڑا مزید تصاویر لینے اور جھیل میں سکی جیٹ کی سواری کے لیے دوبارہ آیا تو اس دوران یہ انگوٹھی ربیکا کی انگلی سے پھسل کر جھیل میں جا گری تھی۔

یہ بھی پڑھیے

منگیتر کی آخری خواہش، دلہن کا اکیلے ہی فوٹو شوٹ

’انھوں نے پوچھا کہ کیا ہم نے نیچے کپڑے پہن رکھے ہیں؟‘

دلہن کی جانب سے حق مہر کی انوکھی شرط، 32 قیدیوں کی ضمانت اور 32 نفلوں کی ادائیگی

انگوٹھی جھیل میں گرنے کے بعد نئے منگنی شدہ جوڑے کو اس کے ہمیشہ کے لیے کھو جانے کا خدشہ تھا لیکن وہاں موجود انگس ہوسکنگ نامی ایک غوطہ خور نے اس انگوٹھی کو 20 منٹ کی تلاش کے بعد ڈھونڈ نکلا۔

وکی پٹیل کا کہنا تھا کہ ‘ جب ہم سکی جیٹ سے اٹھے تو اس (ربیکا) کا ہاتھ تھوڑا آگے کی جانب پھسل گیا اور انگوٹھی اس کی انگلی سے نکل کر گر پانی میں تقریباً دو میٹر آگے جا گری۔’

‘ہم نے اسے ڈوبتے ہوئے دیکھا اور ہم اسے نیچے سے چمکتا ہوا دیکھ سکتے تھے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں بالکل گھبرا گیا اور جلدی سے کپڑے اتار کر پانی میں چھلانگ لگانے والا تھا جب ربیکا نے مجھے ایسا نہ کرنے کا کہا تو میں جلدی سے ہوٹل کی جانب واپس دوڑا تا کہ نیکر اور بنیان لا سکو۔’

وہاں ہوٹل میں واٹر سپورٹس کی ایک جگہ تھی جہاں میں نے سوچا کہ شاید پانی میں تیرنے والا چشمہ بھی ہو۔’

وکی پٹیل کا کہنا تھا کہ جب میں نے وہاں کی انتظامیہ کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تو انھوں نے مجھے جھیل کے غوطہ خوروں انگس اور ڈیکلن کے بارے میں بتایا۔’

سب غیر یقینی تھا

وہ غوطہ خور جو ندی میں سے کچرا اکٹھا کرتے ہیں انھیں اکثر کھوئی ہوئی چیزوں کی تلاش کرنے کا بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن یہ خیال کرتے ہوئے کہ وقت اہم اور قیمتی ہے وکی پٹیل نے ابتدا میں خود ہی اس کی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا اور ‘یخ بستہ پانی’ میں اتر گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘جب میں نے دیکھا کہ جھیل کی سطح پر سب کچھ غیر واضح ہے تو میں نے اس انگوٹھی کے ملنے کی تمام امیدیں کھو دیں تھیں۔’

تب انھوں نے غوطہ خور انگس ہوسکنگ سے رابطہ کیا جو اپنے ساتھ زیر آب دھات کی تلاش کرنے والا آلہ بھی لے کر آئے۔

وکی پٹیل کا کہنا تھا کہ ‘اس نے کچھ دیر تلاش کیا اور جب میں پریشان ہونے لگا تو وہ مسکراہٹ کے ساتھ پانی میں سے یہ کہتے ہوئے باہر آیا کہ میرے خیال میں ہمیں یہ مل گئی ہے۔’

وہ دونوں واپس ہوٹل گئے جہاں وکی کی منگیتر ان کا انتظار کر رہی تھی اور انھوں نے وہ انگوٹھی انھیں جا کر دی۔

وکی پٹیل کا کہنا تھا کہ ‘وہ بہت خوش تھی لیکن صدمے میں بھی تھی اس لیے اس نے زیادہ کچھ نہیں کہا۔ بعد میں اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے امید نہیں تھی، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔’

وکی پٹیل اور ان کی منگیتر آنگس ہوسکنگ اور جھیل کی غوطہ خور انتظامیہ کے گن گا رہے تھے اور وہ صرف اس لیے نہیں کہ وہ لوگوں کی مدد کرتے ہے بلکہ جھیل اور ماحول کی صفائی کے لیے بھی اور یہ غوطہ خور صرف عطیات کے ذریعے سے یہ کام کرتے ہیں۔

وکی پٹیل کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ان کے فنڈنگ پیج پر کچھ عطیہ کیا ہے کیونکہ وہ ذاتی حیثیت میں کوئی معاوضہ نہیں لیتے ہیں۔’

‘لہذا انھیں گھر لانے کے بعد میں نے آنگس اور ان کے ساتھی کے لیے دکان سے جن (شراب) کی ایک بوتلی خریدی اور انھیں پیش کی جس سے مجھے اچھا محسوس ہوا۔’

‘وہ یقیناً ایک شاندار آدمی ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp