لوگ کیا کہیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب نے اپنی زندگی میں کم سے کم ایک بار تو مشہور فلاسفر ارسطو کا وہ قول سنا ہی ہوگا کہ ”انسان فطری طور پر معاشرتی جانور ہے، معاشرہ انسان سے پہلے ہوتا ہے“ یعنی اس کے بنیادی طرز عمل کے بارے میں ایک عام تصور یہ ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ معاشرے میں رہنا پسند کرتا ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کے کوئی بھی شخص تنہائی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایسا کرنے کے لیے ہم معاشرے کا ایک فعال حصہ بننے اور اپنا اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ تا ہم بعض اوقات ایسا کرتے ہوئے ہم معاشرے کے طور طریقوں کے مطابق خود کو ڈھالنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کاموں سے اجتناب کرنے لگتے ہیں جو ہمارے ارد گرد ”شجر ممنوعہ“ سمجھے جاتے ہیں۔ ہم معاشرے کی قبولیت کے چکر میں اپنے اندرونی سکون اور خوشی سے خود کو محروم کرنے لگتے ہیں۔

جب بھی ہم دوسروں سے کچھ ”مختلف“ یا ”غیر معمولی“ کرنا چاہتے ہیں تو یہ خیال ہمارے ذہن میں سب سے پہلے آ تا ہے کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“

اس خوف نے دنیا میں سب سے زیادہ خواب توڑے ہیں اور کئی زندگیوں کو برباد کیا ہے، ان الفاظ نے بہت سی زندگیوں میں بے سکونی پیدا کی ہے اور ڈپریشن کا باعث بنے ہیں۔

اگر کوئی لڑکا آرٹسٹ، فوٹو گرافر یا کچھ ایسی پیشہ پسند کرنا چاہے جو ”نا قابل قبول“ ہو تو یہی خوف سب سے پہلے ظاہر ہوتا ہے۔ در حقیقت بہت سے لوگ اسی وجہ سے اپنی پسند کا پیشہ ہی نہیں چن پاتے اور وہی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو گھر والے کہیں یا پھر معاشرہ قبول کرے۔

اسی طرح اگر کوئی لڑکی اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہے یا ایک خاص عمر ”کے بعد

شادی نہ کرنا چاہے تو بھی لوگ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکا اپنی ڈگری مکمل کرنے یا نوکری کرنے سے پہلے شادی کرنے لگے تو بھی لوگوں کو یہی خیال آ تا ہے کہ ”ابھی کیوں؟“ ”

اگر ذات، مذہب یا فرقے سے باہر شادی کا سوچیں تب بھی یہی سوچتے ہیں کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“ اور اپنے دل کی بجائے لوگوں کی سنتے ہیں۔ حالانکہ شادی اپنی خوش کے لیے کی جاتی ہے ناں کہ لوگوں کی خوش کے لیے۔

اگر کوئی سالہا سال سے نا خوشگوار ازدواجی زندگی گزا ر رہا ہے اور طلاق کا سوچتا ہے تو یہ خیال اسی ڈر کی وجہ سے اپنے دماغ سے نکال دیتا ہے کے اس عمر میں طلاق سے ”لوگ کیا سوچیں اور کہیں گے“ ۔

اگر کوئی رائٹر بننا چاہتا ہے اور اس میں یہ ٹیلنٹ موجود بھی ہے تو وہ نہیں بن پاتا اور ایک فقرہ بھی نہیں لکھ پتہ یا اپنی تحریر لوگوں کو نہیں دکھا پاتا کے اچھی نا ہوئی تو ”لوگ کیا کہیں گے”۔ یہاں تک کے عمر کے ساتھ ساتھ ہم ایسا طرز زندگی اپنا نے لگتے ہیں جو معاشرتی طور پر قابل قبول ہو۔

یاد رکھیں کہہ یہ ہماری زندگی ہے اور ہمیں ایک ہی بار ملتی ہے اور اس پر اختیار بھی ہمارا ہی ہونا چاہیے۔ اور پھر کل کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ خوشی ایک انتخاب ہے نا کہ نتیجہ۔

ہمیں اپنی زندگی لوگوں کی سوچ اور رائے کی پرواہ کیے بغیر گزارنی چاہیے۔ لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی مرضی اور خوشی کی زندگی گزارنا ہی بہترین انتخاب ہے۔

جیسا کے البرٹ آئن اسٹائن نے کہا ہے ”عظیم لوگوں کو ہمیشہ معمولی ذہنوں کی طرف سے پر تشدد مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معمولی ذہن اس شخص کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جو روایتی سوچ کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے اور اس کی بجائے جرات اور ایمانداری کے ساتھ اپنی رائے کے اظہار کا انتخاب کرتا ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *