EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

قومی اسمبلی: کیا ایک دن میں 21 بِلوں کی منظوری ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی وجہ بنی؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی اسمبلی
BBC
پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی سے ایک ہی دن میں 21 قانونی مسودے منظور تو کروا لیے تاہم مبصرین کو خدشہ ہے کہ ’عجلت میں اٹھایا گیا یہ قدم‘ حکومت کے لیے بیک فائر نہ کر جائے کیونکہ حزب اختلاف اب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف جمع کروائی گئی تحریک ان کی جانب سے ایوان کی کارروائی مبینہ طور پر قواعد کے مطابق نہ چلانے پر ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافی علی شیر نے بی بی سی کو بتایا کہ بات عدم اعتماد تک اس لیے پہنچی کیونکہ ڈپٹی سپیکر نے حزب مخالف کی جماعتوں کو ان بلوں کی منظوری کے دوران بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور نہ ہی ان کے مطالبات پورے کیے۔

ان 21 بلوں کی منظوری کے دوران حزب مخالف کی جماعتوں نے تین بار کورم کی نشاندہی کی اور جب بھی گنتی کی گئی تو کورم پورا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کا 80 نکاتی ایجنڈا تھا، جس کو ایک ہی دن میں مکمل کیا جانا تھا۔

علی شیر کا کہنا تھا کہ پیر اور جمعرات کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں کُل ملا کر 31 بل منظور کیے گیے جو کہ پارلیمانی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیے جائیں گے جہاں پر حکمراں جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

’عجلت میں قانون سازی قومی مفاد میں نہیں‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خرم دستگیر نے ڈپٹی سپیکرکے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت اپنی مرضی کی قانون سازی کر رہی ہے اور اس بارے میں حزب مخالف کی جماعتوں سے رائے نہیں لی جا رہی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جتنی عجلت میں حکومت قانون سازی کر رہی ہے وہ کسی طور پر بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل نومبر 2019 میں بھی پاکستان مسلم لیگ نواز نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی اور اُس وقت بھی ڈپٹی سپیکر پر قواعد و ضوابط سے ہٹ کر ایوان چلانے کا الزام تھا۔

تاہم حکومت کی اس یقین دہانی پر کہ ان بلوں پر قانون سازی کے لیے قواعد وضوابط پر عمل کیا جائے گا، ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی گئی تھی۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ’پورے سال کے دوران حکومت نے قانون سازی کے لیے پارلیمان کو کوئی اہمیت نہیں دی اور آرڈیننس کے ذریعے قانونی معاملات کو چلاتے رہے ہیں۔ اب وہ جلد بازی میں قانون سازی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ قانون سازی کے معاملے میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا رویہ جانبدارانہ ہے اور یہ دونوں افراد حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو پائے گی تو پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی جماعتیں مل کر اس عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کروانے کی کوشش ضرور کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا حکومت اور حزبِ اختلاف احتساب کے معاملے میں سنجیدہ ہیں؟

قاسم سوری کو ’ڈی سیٹ‘ کیے جانے کے فیصلے پر حکمِ امتناع

’جمہوری نظام چلانا ہے تو یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی‘

عدم اعتماد کی تحریک اور اپوزیشن کا لائحہ عمل

جمعے کو قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور بجٹ اجلاس کے بارے میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مشاورت بھی کریں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ پی ڈی ایم میں اختلافات کے باوجود اس معاملے پر حزب مخالف کی تمام جماعتیں بظاہر متحد نظر آتی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری خفیہ ہوتی ہے اور وقت حکمراں جماعت میں ایک ایسا دھڑا بھی ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا حمایت یافتہ ہے۔ اس دھڑے کی قیادت رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کر رہے ہیں اور ان کے بقول قومی اسمبلی میں اس گروپ کے ارکان کی تعداد دس سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ عددی اعتبار سے پاکستان تحریک انصاف کو بہت کم ووٹوں سے برتری حاصل ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں کے بعض ارکان کو امید ہے کہ اس دھڑے کے لوگ بھی ووٹنگ کے دوران تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروانے میں ساتھ دیں گے۔

عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیسے ہوا؟

صحافی علی شیر کے مطابق جب جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی ارکان حزب مخالف کی جماعتوں کے شور شرابے کے باوجود ایک ساتھ ہی 21 بل منظور کر رہے تھے تو اپوزیشن نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی شق وار منطوری کے لیے گنتی کروائی جائے کہ کتنے افراد اس بل کے حق میں ہیں اور کتنے اس کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہونا تو ایسے ہی چاہیے تھا لیکن اگر یہ طریقہ استعمال کیا جاتا تو پھر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیے بغیر تین سے چار روز تک جاری رہتا۔’

اس وقت پریس گیلری میں موجود علی شیر کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے فیصلے کے پیچھے زیادہ پلانگ نہیں تھی۔

ہوا کچھ یوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کھڑے ہو کر اعلان کر دیا کہ حزب مخالف کی جماعتیں قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت عبدالقادر پٹیل نے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تو اس وقت ان کی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان میں موجود نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان سے اس تحریک پر دستخط کروائے گئے اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے تین ارکان نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی۔

’کوئی اچھی روایت قائم نہیں ہوئی‘

پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے صحافی ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے جلد بازی میں قانون سازی کرکے پارلیمان میں کوئی اچھی روایت قائم نہیں کی۔‘

قومی اسمبلی

AFP

انھوں نے کہا کہ قواعد کے مطابق ’اگر کسی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جاتی ہے تو یہ رپورٹ قومی اسمبلی کے ہر رکن کو پیش کی جاتی ہے تاکہ وہ بھی اس کا مطالعہ کرسکے کہ قائمہ کمیٹی نے اس پر قانون سازی کے لیے کیا رائے دی ہے یا اس میں کیا ترمیم تجویز کی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے ارکان کی تعداد 15 سے 20 تک ہوتی ہے اور اس میں ہر جماعت کی نمائندگی ہوتی ہے جبکہ قومی اسمبلی کا ایوان 342 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں جو معاملہ بھجوایا جاتا ہے اس کی رپورٹ آنے کے بعد اس پر قانون سازی کے لیے کم از کم 48 گھنٹے دیے جاتے ہیں تاکہ قومی اسمبلی کے تمام ارکان قائمہ کمیٹی کی اس رپورٹ کو پڑھ سکیں لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا اور جمعرات کو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے تمام رولز کو معطل کرکے ان بلوں کو منظور کروا دیا۔

مزید پڑھیے

پاکستان تحریکِ انصاف کے دو سال: عمران خان کی حکومت کی کامیابیاں اور چیلنجز

میری حکومت، میرا ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین؟

پی ٹی آئی کے پہلے برس میں کیا قانون سازی ہوئی؟

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے رولز میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی ہنگامی صورت حال ہو تو قانون سازی کے لیے سپیکر قوائد کو معطل کرسکتا ہے۔

قانون کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے کے سات روز کے اندر اندر سپیکر قومی اسمبلی تمام ارکان کو نوٹسز جاری کرے گا اور جس روز عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹننگ ہوگی اس کا اعلان کرے گا۔

جس روز ووٹنگ ہوگی تو جس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے وہ اس روز اجلاس کی کارروائی کی صدارت نہیں کرسکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20052 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp