EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی نریندر مودی سے ملاقات: ’کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا فیصلہ اسمبلی انتخابات کے بعد ہو گا‘

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے آج انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ایک طویل ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ انڈیا کے زير انتظام کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔

کشمیری رہنماؤں نے بتایا ہے کہ ریاست میں پہلے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور نئی حد بندی کے بعد اسمبلی انتخابات منقعد کرائے جائیں گے جبکہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست بنانے کے بارے میں غور انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے نریندر مودی سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ بعض رہنماؤں نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ کیا لیکن کئی رہنماؤں نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے اس کا فیصلہ اب ‏عدالت پر ہی چھوڑ دینا چاہيے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟

کشمیر: بارہ مہینے، بارہ کہانیاں

کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت: ’دلی نے کشمیر کو برائے فروخت رکھ دیا‘

غلام نبی آزاد نے بتایا کہ کشمیر کو دوبارہ ریاست بنانے کے مطالبے پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کشمیر میں جمہوریت کے عمل کی بحالی کی پابند ہے لیکن اس سے پہلے جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا کام پورا کیا جائے گا اور اس کے بعد انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

اس ملاقات میں شریک وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے پر غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ہند نواز کشمیری رہنماؤں کی یہ میٹنگ وزیراعظم نریندر مودی نے بلائی تھی۔ یہ ملاقات وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک چلی۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے تقریباً دو برس بعد مودی سے کشمیری رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

اس ملاقات میں سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔

ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’یہ میٹنگ بہت اچھے ماحول میں ہوئی۔‘

وزیراعظم مودی نے اچانک کشمیری رہنماؤں کی یہ میٹنگ کیوں بلائی؟

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی وجوہات کے علاوہ سرحد پر چین سے کشیدگی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی اس میٹنگ کا سبب تھی۔

اس میٹنگ کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ اس میں علیحدگی پسند رہنماؤں کو نہيں بلایا گیا تھا کیونکہ بیشتر علیحدگی پسند رہنما یا تو جیل میں ہیں یا نظربند ہیں۔

ریاست کی ہند نواز جماعتیں ریاست کے اختیارات اور خودمختاری کی نہیں بلکہ اپنے کھوئے ہوئے حقوق کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔

آج کی ملاقات سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کشمیر میں انتخابات کے لیے سیاسی عمل شروع کرنا چاہتی ہے لیکن اس میٹنگ کے نتائج کا کشمیر میں کیا ردعمل ہوتا ہے یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چل سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20015 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp