EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اگر آپ بہت ذہین ہیں تو آپ امیر کیوں نہیں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے زیادہ کامیاب لوگ انتہائی قابل نہیں، بلکہ صرف خوش قسمت ہیں، دولت کی پیداوار کا ایک نیا کمپیوٹر ماڈل اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ اسے مد نظر رکھتے ہوئے کئی قسم کی سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔

دولت کی تقسیم ایک معروف نمونے کے مطابق ہوتی ہے جسے بعض اوقات 80 : 20 کا اصول بھی کہا جاتا ہے ؛ 80 فیصد دولت 20 فیصد لوگوں کی ملکیت ہے۔ در حقیقت، پچھلے سال ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صرف آٹھ افراد کے پاس موجود دولت دنیا کے 8.8 ارب غریب ترین لوگوں کی مجموعی دولت کے برابر ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ صورتحال تمام معاشروں میں ہر سطح پر ایسی ہی ہے۔ یہ ایک معروف چیز ہے جسے طاقت کا قانون کہتے ہیں، جس میں معاشرتی مظاہر غیر متوقع طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ لیکن املاک کی تقسیم ان امور کے سبب جو اس کی شفافیت اور میرٹ یا استحقاق کے بارے میں اٹھتے ہیں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ اتنے کم لوگوں کے پاس اتنی کثیر دولت کیوں ہونی چاہیے؟

روایتی جواب یہ ہے کہ ہم ایک میریٹو کریسی (Meritocracy) میں رہتے ہیں جہاں لوگوں کو ان کی صلاحیتوں، ذہانت اور کوشش وغیرہ کی بنا پر نوازا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ، یہ نظم دولت کی اس تقسیم پر منتج ہوتا ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، حالانکہ کوئی بڑی خوش قسمتی بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

لیکن اس تصور کے ساتھ ایک مسئلہ ہے : جبکہ دولت کی تقسیم طاقت کے قانون کی پیروی کرتی ہے، تبھی انسانی صلاحیتوں کی تقسیم عموماً ایک عام تقسیم (normal distribution) کی پیروی کرتی ہے جو ایک اوسط قدر سے ہم آہنگ ہے۔ مثال کے طور پر ذہانت، جیسا کہ آئی کیو (IQ) ٹیسٹ سے ماپی جاتی ہے، اسی طرز کی پیروی کرتی ہے۔ اوسط آئی کیو 100 ہے، لیکن کوئی بھی 1000 یا 10، 000 آئی کیو کا حامل نہیں ہے۔

محنت کا بھی یہی حال ہے، جسے کہ با کار گھنٹوں (hours worked) سے ماپا جاتا ہے۔ بعض لوگ اوسط سے زیادہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور بعض کم، لیکن کوئی بھی کسی سے بھی ارب گنا زیادہ گھنٹے کام نہیں کرتا ہے۔

اور جب اس کام کے معاوضے کی بات آتی ہے تو، کچھ لوگوں کے پاس دیگر کے مقابلے میں اربوں گنا زیادہ دولت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ متعدد مطالعات سے یہ پتہ چلا ہے کہ عام طور پر دولت مند افراد دیگر پہلوؤں سے سب سے زیادہ قابل نہیں ہوتے۔

پھر کون سے عوامل طے کرتے ہیں کہ لوگ کیسے دولت مند بنتے ہیں؟ کیا قسمت توقع سے بڑا کردار ادا کر سکتا ہے؟ اور ان عوامل سے، چاہے وہ جو بھی ہوں، دنیا کو ایک بہتر اور شفاف جگہ بنانے کے لئے کسی طرح کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟

آج ہمیں اٹلی کی کٹانیہ یونیورسٹی (University of Catania، Italy ) ، میں ایلیسنڈرو پلوچینو (Alessandro Pluchino) اور ان کے ساتھیوں کے کام کی بدولت ایک جواب ملا ہے۔ ان لوگوں نے انسانی صلاحیتوں کا اور جس طرح سے لوگ انہیں زندگی میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں، ایک کمپیوٹر ماڈل تیار کیا ہے۔ یہ ماڈل ٹیم کو اس عمل میں قسمت کے کردار کا مطالعہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔

اسکے نتائج حیرت انگیز انکشاف کرتے ہیں۔ ان کی نقالی (simulation) حقیقی دنیا میں دولت کی تقسیم کو بعینہٰ پیش کرتی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ دولت مند افراد سب سے زیادہ قابل نہیں ہوتے (حالانکہ ان میں ایک خاص درجہ قابلیت کا موجود ہونا ضروری ہے ) ۔ وہ خوش قسمت ترین افراد ہیں۔ اس مطالعہ کے، معاشرے میں کاروبار سے سائنس تک ہر چیز میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کو بہتر بنانے کے طریقوں سے متعلق اہم مضمرات ہیں۔

پلوچینو اور شرکاء کا ماڈل بالکل صاف ہے۔ اس میں (N) افراد شامل ہیں، ہر فرد صلاحیتوں کے ایک خاص درجے (مہارت، ذہانت، قابلیت وغیرہ ) کا حامل ہے۔ یہ صلاحیتیں عمومی طور پر کسی اوسط درجے سے متعلق کچھ معیاری ان خرافات کے ساتھ منقسم ہیں۔ لہذا کچھ لوگ اوسط سے زیادہ با صلاحیت ہیں اور کچھ اس سے کم، لیکن کوئی بھی کسی دوسرے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ با صلاحیت نہیں ہے۔

یہ ویسی ہی تقسیم ہے جیسی مختلف انسانی مہارتوں، یا حتی کہ قد یا وزن جیسی خصوصیات میں نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ اوسط قد سے لمبے یا چھوٹے ہوتے ہیں، مگر کوئی بھی چیونٹی یا فلک بوس عمارت کے سا‏ئز کا نہیں ہوتا۔ در حقیقت، ہم سب ایک جیسے ہیں۔

یہ کمپیوٹر ماڈل ہر فرد کو 40 سالہ با کار یا مصروف زندگی کے حوالے سے پرکھتا ہے۔ اس مدت میں، افراد خوش قسمت واقعات کا تجربہ کرتے ہیں اور اگر وہ کافی با صلاحیت ہوں تو ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنی دولت کو بڑھا سکتے ہیں۔

تاہم، انہیں بد قسمت واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی دولت کو کم کرتے ہیں۔ یہ واقعات بے ترتیب ہوتے ہیں۔

40 سال کے اختتام پر، پلوچینو اور شرکاء ان افراد کی درجہ بندی دولت کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کامیاب ترین افراد کی خصوصیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ دولت کی تقسیم کا بھی حساب لگاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ نتیجہ کی پائیداری کو جانچنے کے لئے simulation کئی بار دہراتے ہیں۔

جب ٹیم افراد کی درجہ بندی دولت کے لحاظ سے کرتی ہے تو، تقسیم بعینہٰ ویسی ہی ہوتی ہے جیسی حقیقی دنیا کے معاشروں میں نظر آتی ہے۔ پلوچینو اور شرکاء نے رپورٹ کیا ہے کہ 20۔ 80 اصول قابل غور ہے، کیونکہ 80 فیصد آبادی کل دولت کے صرف 20 فیصد حصے کی مالک ہے، جبکہ بقیہ 20 فیصد لوگ کل دولت کے 80 فیصد حصے کے مالک ہیں۔

اگر امیر ترین 20 فیصد افراد سب سے زیادہ قا بل ہوں تو یہ حیرت انگیز یا غیر منصفانہ بات نہیں ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ امیر ترین افراد عام طور پر سب سے زیادہ قابل یا اس کے آس پاس نہیں ہوتے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ”انتہائی کامیابی کبھی بھی انتہائی صلاحیتوں کے ساتھ یا اس کے برعکس نہیں ملتی۔

لہذا اگر قابلیت نہیں تو، دوسرا کیا عنصر دولت کی اس انحرافی تقسیم کا سبب بنتا ہے؟ پلوچینو اور شریک کہتے ہیں، ”ہماری simulation واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ ایسا عنصر محض خوش قسمتی ہے۔“

ٹیم اس کی وضاحت کے لئے لوگوں کی درجہ بندی ان کے 40 سالہ کیریئر میں پیش آئے خوش قسمتی اور بدقسمتی کے واقعات کی تعداد کے مطابق کرتی ہے۔ ”یہ واضح ہے کہ کامیاب ترین افراد خوش قسمت ترین بھی ہوتے ہیں۔“ ”اور کم کامیاب افراد بدقسمت بھی ہیں۔“

معاشرے کے لئے اس تحقیق کے اہم مضمرات ہیں۔ کامیابی میں قسمت کے کردار سے فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے موثر حکمت عملی کیا ہے؟

پلوچینو اور شرکاء سائنس ریسرچ فنڈنگ ​​کے نقطہ نظر سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں، واضح طور پر یہ مسئلہ ان کے دلوں کے قریب ہے۔ دنیا بھر میں فنڈنگ ​​کرنے والی ایجنسیاں سائنسی دنیا میں سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ منافع میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ در حقیقت، یورپی ریسرچ کونسل نے حال ہی میں Serendipity یعنی سائنسی دریافت میں قسمت کے کردار اور کس طرح فنڈنگ کے نتائج کو بہتر بنانے کے لئے اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک منصوبے پر 1.7 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

پتہ چلتا ہے کہ پلوچینو اور شرکاء اس سوال کا جواب دینے کے لئے اچھے سے تیار ہیں۔ وہ اپنے ماڈل کو مختلف قسم کے فنڈنگ ​​ماڈل کھوجنے میں استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ قسمت کو مد نظر رکھنے کے بعد کس ماڈل سے بہترین منافع ملتا ہے۔

اس ٹیم نے تین ماڈلز کا مطالعہ کیا، ایک میں تحقیقی فنڈ تمام سائنسدانوں میں یکساں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دوسرے میں فنڈ، سائنسدانوں کے ایک ذیلی سیٹ میں بے ترتیب تقسیم کیا گیا ہے۔ تیسرے میں ان لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو ماضی میں سب سے زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ ان میں سے کون سی حکمت عملی عمدہ ہے؟

چلتا ہے کہ جو حکمت عملی بہترین منافع فراہم کرتی ہے وہ ہے کہ فنڈ کو تمام محققین میں یکساں طور پر تقسیم کیا جائے۔ اور دوسری اور تیسری بہترین حکمت عملیوں میں اسے بے ترتیب طور پر 10 یا 20 فیصد سائنسدانوں میں تقسیم کرنا ہے۔

ان معاملات میں، محققین، ان خوش قسمت انکشافات سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں جو ان کو وقتاً فوقتاً حاصل ہوتے ہیں۔ بر بصیرت، یہ ظاہر ہے کہ اس حقیقت کا کہ ماضی میں خوش قسمتی سے اگر کسی سائنسدان نے ایک اہم دریافت کی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقبل میں اس کا کوئی اور دریافت کرنے کا امکان زیادہ ہے۔

ایسا ہی طرز فکر دوسرے قسم کے کاروباری اداروں جیسے کہ چھوٹے یا بڑے کاروبار، ٹیک اسٹارٹ اپس، تعلیم جو ہنر میں اضافہ کرے، یا حتی کہ بے ترتیب خوش قسمت واقعات کی تخلیق میں بھی سرمایہ کاری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واضح طور پر، اس میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ ہم کس انتظار میں ہیں؟

(ترجمہ)

آرٹیکل اور ریسرچ پیپر کے لنکس

https://www.technologyreview.com/2018/03/01/144958/if-youre-so-smart-why-arent-you-rich-turns-out-its-just-chance/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمر عدیل کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے