EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کراچی کے جوڑے کی بیٹی کی سالگرہ اور تقریب ولیمہ ایک ہی دن: ’سب کہتے ہیں آپ نے ایک تیر سے دو شکار کیے‘

ثنا آصف ڈار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماما پاپا جب آپ کی شادی ہوئی تو میں کہاں تھا؟

آپ نے اکثر چھوٹے بچوں کو اپنے والدین کی شادی کی تصاویر یا ویڈیوز دیکھتے ہوئے یہ سوال کرتے دیکھا ہو گا۔

لیکن کراچی میں ایک شادی ایسی بھی ہوئی ہے جس کی تقریب ولیمہ میں دلہا اور دلہن کی ایک سال کی بیٹی بھی اُن کے ساتھ تھی اور یہی نہیں بلکہ بچی کی پہلی سالگرہ کا کیک بھی اُسی دن کاٹا گیا۔

کراچی کے رہائشی جوڑے ماہ نور عرفان اور دانش پرویز کی شادی تو جولائی سنہ 2019 میں ہوئی تاہم ولیمہ دو برس بعد جولائی 2021 میں منعقد ہوا۔

جی ہاں تو ہوا کچھ یوں کہ ماہ نور کی ساس اچانک اُن کی بارات والے دن وفات پا گئی تھیں جس کی وجہ سے نہ تو بارات دھوم دھام سے اُن کے گھر پہنچی اور نہ ہی ان کی تقریب ولیمہ ہو سکی۔

’جس دن میری شادی تھی اس دن میری ساس کا انتقال ہو گیا اور دن چار بجے میرے گھر والوں کو اطلاع دی گئی، لیکن میں اس وقت پارلر میں تھی تو مجھے کچھ علم نہیں تھا۔ مجھے اس لیے نہیں بتایا گیا کہ میں ٹینشن میں آ جاؤں گی کہ میری بارات نہیں آ رہی۔‘

ماہ نور کہتی ہیں کہ جب وہ پارلر سے شادی ہال پہنچیں اور وہاں کم تعداد میں مہمانوں کی موجودگی دیکھ کر انھیں لگا کہ شاید مہمان آنے میں ابھی وقت ہے۔

’میری ساس کی تدفین بھی اسی دن کر دی گئی جس کے بعد میرے شوہر کی دو رشتہ دار خواتین سادے کپڑوں میں روتے ہوئے شادی ہال پہنچیں۔ میں انھیں دیکھ کر صدمے میں آ گئی کہ یہ ایسے کیوں آئی ہیں۔ وہ میرے گلے لگ کر رونے لگیں تب مجھے بتایا گیا کہ میری ساس کا انتقال ہو گیا ہے۔‘

’میرے شوہر شادی ہال کے باہر کھڑے تھے، وہ اندر نہیں آئے بلکہ مجھے باہر لے جایا گیا جہاں سے وہ مجھے اپنی دادی کے گھر لے کر گئے، وہاں سب سے ملوایا اور پھر مجھے واپس میری والدہ کے گھر چھوڑ دیا۔‘

چونکہ ماہ نور کا نکاح 26 جولائی کو ہی ہو چکا تھا تو پھر ان کی ساس کے سوئم کے بعد انتہائی سادگی سے اُن کی رخصتی کر دی گئی۔

بیٹی کی سالگرہ اور اپنا ولیمہ ایک ساتھ کرنے کا آئیڈیا میرے شوہر کا تھا

لیکن ماہ نور کی دھوم دھام سے شادی کرنے اور اپنے دولہا میاں کے ساتھ رومانوی فوٹوشوٹ کی خواہش پھر بھی باقی رہی۔

’میرے دماغ میں ہمیشہ سے تھا کہ میرا ولیمہ ہونا چاہیے، میں اپنے شوہر کے پیچھے پڑی رہی کہ میرا کوئی فنکشن صحیح طرح نہیں ہوا تو ولیمہ تو ضرور ہونا چاہیے۔‘

لیکن پھر ماہ نور حاملہ ہو گئیں اور ایک بار پھر ماہ نور کا خواب ادھورا رہ گیا۔

’حمل کے دوران میری طبیعت اتنی خراب رہی کہ پھر میں خود ہی چپ کر گئی، پھر جب بیٹی ہوئی تو میرے شوہر نے کہا کہ جب بیٹی ایک برس کی ہو جائے گی تو پھر ولیمہ کریں گے۔‘

ماہ نور نے بتایا کہ یہ ان کے شوہر کا آئیڈیا تھا کہ بیٹی کی پہلی سالگرہ پر اپنا ولیمہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

’پہلا بچہ ہوگا جو اپنے ہی والدین کے ولیمے میں شرکت کر رہا تھا‘

گوجرانوالہ کے ہسپتال میں شادی: ’دلہن نے کہا میں اس حالت میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی‘

مٹن کا سالن نہ ہونے پر بارات واپس: ’دولہے کو مٹن کری چاہیے تھی، دلہن مستقبل کی اذیت سے بچ گئی‘

انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا ’میرے شوہر کو پتا تھا کہ اگر ولیمہ نہ کیا تو میں ان کے پیچھے پڑی رہوں گی۔ کورونا کی وجہ سے بھی دو بار ہمارا ولیمہ منسوخ ہوا، لیکن پھر اس سال 10 جولائی کو ہم نے اپنا ولیمہ اور بیٹی کی سالگرہ ایک ساتھ کر لیں۔‘

ماہ نور بتاتی ہیں کہ زیادہ تر لوگوں نے ان کے اس فیصلے کی تائید کی لیکن ’کچھ لوگوں نے ولیمے والے دن کہا کہ دو سال بعد ولیمہ کون کرتا ہے لیکن ہم نے کہا کہ کرنے والے کر لیتے ہیں۔‘

میں ڈر رہی تھی کہ میرا جوڑا اب مجھے پورا نہیں آئے گا‘

ماہ نور بتاتی ہیں کہ ان کی بیٹی بھی سر سے پاؤں تک انھیں دلہن کے روپ میں دیکھ کر بہت حیران ہوئی اور کچھ دیر کے لیے انھیں پہچان نہیں پائی۔

ولیمے کی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہ نور نے بتایا کہ تیاری تو ان کی دو سال سے مکمل تھی۔

’میری تیاری تو پہلے سے تھی میں نے صرف نئی جیولری خریدی۔ میک اپ میں نے اسی پارلر سے کرایا جہاں میں بارات کے لیے تیار ہونے گئی تھی۔‘

ماہ نور نے انتہائی خوشی سے اور نئی نویلی دلہن کی طرح شرماتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ انھیں وہ جوڑا ہی پورا آ گیا جو انھوں نے دو سال پہلے اپنے ولیمے کے لیے لیا تھا۔

’میں بہت ڈر رہی تھی کہ اب یہ مجھے پورا نہیں آئے گا لیکن آرام سے مجھے وہ ہی جوڑا پورا آ گیا۔‘

’ہمیں ڈبل سلامی ملی‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا بیٹی کی سالگرہ اور اپنا ولیمہ ساتھ کرنے سے ان کو ملنے والی سلامی پر کوئی ’اثر‘ نہیں پڑا،ماہ نور نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں ڈبل ڈبل سلامی ملی، ہمیں الگ سلامی ملی اور بیٹی کو الگ تحائف اور پیسے ملے۔‘

تاہم ماہ نور نے بتایا کہ دو سال قبل ولیمے میں تو شاید چار بانچ سو مہمانوں کو دعوت دی گئی تھی لیکن اس بار ہم نے صرف 200 کے قریب لوگوں کو بلایا۔

انٹرویو کے اختتام پر ماہ نور نے کہا کہ انھیں اپنے ولیمے کے لیے بہت انتظار کرنا پڑا لیکن اب یہ چیز ہو گئی ہے تو بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ’اب لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20015 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp