EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سانحہ ڈیرہ غازی خان اور سرائیکی وسیب کی محرومیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز تونسہ کے قریب راجن پور کی جانب جانے والی ایک مسافر بس حادثے کا شکار ہوئی۔ جس کے نتیجے میں تقریباً 40 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور کئی مسافر زخمی ہوئے۔

جس روڈ پر یہ حادثہ پیش آیا اس کا نام انڈس ہائی وے ہے لیکن مقامی لوگ اسے قاتل روڈ کہتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سانحہ اپنی نوعیت کو کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے اسی شاہراہ سے لاشیں اٹھائی جا چکی ہیں۔ اور اس سانحہ کی وجہ بھی اس سڑک کی خرابی ہے۔ روڈ چھوٹی ہے اوپر سے جگہ جگہ پر کھڈے ہیں۔ کئی سالوں سے لوگ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انڈس ہائی وے کو ڈبل کیا جائے۔ لیکن تاحال ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔

اس کے باوجود کہ حادثوں کی وجہ یہ روڈ ہے، اس حادثے کے بعد وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے ایک ٹویٹ داغی جس میں انہوں نے حادثے کی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور ڈرائیور کی غفلت قرار دی۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر زر تاج گل صاحبہ نے وزیر اعلی سے درخواست کی کہ وہ ذمہ داروں کی نشاندہی کریں اور انہیں کڑی سزا دلوائیں۔ ان محترمہ کو کون جا کر کہے کہ ان کے وزیر اعلی خود ذمہ دار ہیں جس نے چار سال اقتدا میں رہتے ہوئے اپنے علاقے کے روڈ کی مرمت نہیں کروائی، ان کی حکومت ذمہ دار ہے جس نے وعدوں کے باوجود سرائیکی وسیب کو کوئی ترقیاتی پیکج نہیں دیا اور ریاست خود ذمہ دار ہے جس نے ذرائع کی غیر منصفانہ تقسیم کی دلالی کی جس کی بدولت 70 برسوں سے وسیب کے ذرائع اور زمین زادوں کی محنت کا استحصال ہوتا آ رہا ہے۔

کل کے سانحے پر حکومتی نمائندوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا گویا جاں بحق ہونے والے خود ہی حادثے کے ذمہ دار تھے۔ اور شاید یہی درست ہے کیونکہ یہ لوگ ملک کے پسماندہ رکھے گئے وسیب سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی ان کا جرم تھا کہ وہ سرائیکی مزدور تھے جو پنجاب کی صنعتوں میں کام کرتے تھے۔ اور اب چند پیسے لئے عید منانے اپنے وسیب کو جا رہے تھے جہاں جانے والی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جدھر رہنے کو بجلی، پینے کو صاف پانی نہیں، جہاں ان کے بچوں کے پڑھنے کو تعلیمی ادارے نہیں ہیں اور جہاں صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ یہ ریاست کا سوتیلا سرائیکی وسیب ہے اور اس کا یہی حال ہے۔ یہاں کے مکینوں کی قسمت میں پردیس میں مزدوری کرنا ہے اور پھر کسی حادثے کا شکار ہو کر مر جانا ہے۔ ان کے مر جانے کا دکھ بھی کم ہوتا ہے۔ کل 40 بندوں کے مرنے کی خبر آئی اور چلی گئی ریاست کی جانب سے کسی سوگ کا اعلان نہیں ہوا، نہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کا کوئی وعدہ ہوا۔ ہونا بھی کیسے چاہیے عید آ گئی ہے اونچے طبقے کے پاکستانی مسلمان عید منائیں گے اور اس ملک کی مظلوم قومیتوں کی ویسے بھی کوئی عیدیں نہیں ہوتیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امجد مہدی، ڈیرہ اسماعیل خان کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے