EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کووڈ 19: چین نے وائرس سے متعلق تحقیقات کے دوسرے مرحلے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے منصوبے کو مسترد کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چین

Reuters
چینی نائب وزیر صحت کا کہنا ہے کہ چین کے لیے یہ منصوبہ نا قابل قبول ہے

چین نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی طرف سے کووڈ 19 کے وبائی مرض کے ماخد کی مزید تحقیقات کے لیے تجویز کردہ منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس وبا کے ابتدا کے ماخذ کو جاننے کے حوالے سے مزید تعاون کریں، جس میں لیبارٹریوں کا آڈٹ بھی شامل ہے۔

چین کے نائب وزیر صحت زینگ یی شن نے کہا کہ یہ ’عام فہمی کی توہین اور سائنس کے تئیں گستاخی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیاست شامل ہے اور چین اسے قبول نہیں کر سکتا۔

ڈبلیو ایچ او رواں برس جنوری میں ماہرین کی ایک ٹیم کو ووہان شہر بھیجنے میں کامیاب ہوا تھا۔ ووہان وہی شہر ہے جہاں سب سے پہلے دسمبر 2019 میں وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا تھا۔

اگرچہ عالمی ادارہ صحت کے تفتیش کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ کورونا وائرس چین کی کسی تجربہ گاہ سے نکلا ہے تاہم اس نظریے کو ماننے والے اب بھی موجود ہیں۔

رواں ماہ کے شروع میں، ڈاکٹر ٹیڈروس نے ڈبلیو ایچ او کی تحقیقات کے مجوزہ دوسرے مرحلے کی شرائط کا خاکہ پیش کیا تھا جس میں اس علاقے میں واقع ان سائنسی ریسرچ اداروں کی لیبارٹریز کا آڈٹ بھی شامل ہے جہاں سب سے پہلے وائرس کی شناخت ہوئی تھی۔

انھوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ ’شفافیت ، آزادانہ اور باہمی تعاون‘ سے پیش آئیں۔ اور چین میں موجود مریضوں کے خام کوائف فراہم کریں جو تحقیقات کے پہلے مرحلے کے دوران شیئر نہیں کیے گئے تھے۔

یھ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کے چینی لیب سے نکلنے کا نظریہ دوبارہ کیوں مقبول ہونے لگا ہے؟

عالمی وبا کے ابتدائی مرکز ووہان میں ایک سال بعد زندگی کیسی ہے؟

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا کے بارے میں آپ کے سوال اور ان کے جواب

جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، زینگ نے کہا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی تجویز سے بہت حیران ہیں کیونکہ یہ چین کے لیبارٹری پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مشتمل ہے۔

انھوں نے کہا کہ چین کے لیے ان شرائط کو قبول کرنا ’ناممکن‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک نے وائرس کے ماخد کا پتہ لگانے سے متعلق اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زینگ کا کہنا تھا ’ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت چینی ماہرین کے خیالات اور مشوروں کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا اور کووڈ 19 وائرس کی اصل نشاندہی کو ایک سائنسی معاملہ سمجھتا ہے اور اسے سیاسی مداخلت سے نجات دلائے گا۔‘

ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں نیشنل بائیوسفیٹی لیبارٹری کے ڈائریکٹر یوان ژیمنگ بھی پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ وائرس قدرتی تھا اور سنہ 2018 میں اس لیبارٹری کے کھلنے کے بعد سے اس میں سے نہ تو کوئی وائرس لیک ہوا نہ ہی عملے میں کسی کو انفیکشن ہوا تھا۔

اس وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں چالیس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ڈبلیو ایچ او کو اس وائرس کے ماخد کی مزید تفتیش کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔

رواں سال کے شروع میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی امریکی انٹیلیجنس عہدیداروں کو وبائی مرض کے بارے میں اپنی تحقیقاتی کوششوں کو ’دگنا‘ کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19983 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp