گجرات، گوجرانوالہ اور جہلم میں انسانی سمگلنگ


پنجاب کے چند اضلاع میں انسانی سمگلنگ اس وقت اپنے عروج پر ہے ان اضلاع میں گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین اور جہلم شامل ہیں۔ دور حاضر میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا کر سکونت اختیار کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے جنگ زدہ اور غریب ممالک کے شہریوں کی اکثر یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہاں کسی خوشحال ملک کی طرف ہجرت کر جائیں اس کے لیے وہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہیں۔ پاکستان میں غیر قانونی طور پر سرحدوں کو عبور کرنے جنون دیکھنے میں آیا ہے خاص کر دیہاتوں کے لوگوں کو ایجنٹ ورغلا کر اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ آپ کو بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے وہاں آپ ایک پر آسائش زندگی گزار سکتے ہیں جبکہ ان سادہ لوح لوگوں کو اس بات کا اندازہ بالکل نہیں ہوتا کہ راستے میں کس طرح کے حالات گزرتے ہیں ایران تک تو راستہ آسانی سے طے ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو زائرین کی شکل میں ایران کی حدود میں داخل کر دیا جاتا ہے اس کے بعد ایک مشکل امتحان شروع ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں سے غیر قانونی طور پر ترکی کا بارڈر کراس کرنا ہوتا ہے اور ظاہری بات ہے بارڈر پر بہت سختی ہوتی ہے زیادہ تر تو بارڈر کراس کرتے وقت پکڑے جاتے ہیں ہیں مگر کچھ خوش قسمت کراس کر جاتے ہیں یہیں امتحان ختم نہیں ہوتا بلکہ بارڈر کراس کرنے کے بعد بھی اگر آپ بارڈر کے نزدیک پکڑے جاتے ہیں تو آپ کو واپس ایران بھیج دیا جاتا ہے اور اگر آپ ترکی پہنچ گئے ہیں تو پھر آپ محفوظ ہیں اور آپ کو براستہ پانی ایک کشتی میں یونان اور پھر یونان سے اٹلی کی طرف روانہ کیا جاتا ہے اور چھوٹی سی کشتی کے سمندر میں ڈوبنے کے واضح امکانات موجود ہوتے ہیں اگر آپ یہاں سے بچ گئے تو پھر آپ اٹلی پہنچ جائیں گے۔

اس حوالے سے میں نے منڈی بہاؤالدین کے عدنان گوندل سے بات کی تو اس نے بتایا کہ شروع میں تو یہ سب آسان لگ رہا تھا مگر جب ہم ایران پہنچے تو اس کے بعد مشکل دور شروع ہوا کیونکہ چار دفعہ بارڈر کراس کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر بار ناکامی کا سامنا ہوا کیونکہ ان دنوں بارڈر پر بہت سختی تھی پانچویں بار ہم بارڈر کراس کرنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہمیں کردوں نے پکڑ لیا تھا اور پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے ہمارے پاس جو کچھ تھا سب لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ جو بندہ گھر سے دو ہزار ڈالر منگوا کردے گا صرف اس کو رہائی ملے گی چند دنوں کے بعد ان کا رویہ بدل گیا اور انہوں نے ہم پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا جس کے بعد مجبوراً ہمیں گھر سے دو ہزار ڈالر منگوانے پڑے اور اس طرح انہوں نے ہمیں زخمی حالت میں فوج کی ایک چوکی کے پاس اس حالت میں چھوڑا کہ ہمارے جسم پر صرف ایک پینٹ تھی اس کے بعد ہمارا پاکستان واپسی کا سفر آسان ہی رہا۔

میرے لیے یہ ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ تھا۔ اس طرح کہ واقعات آئے دن سننے کو ملتے ہیں کہ تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی اور اس ہیں مرنے والے زیادہ تر پاکستانی ہی ہوتے ہیں۔ میری ان تمام نوجوانوں سے گزارش ہے جو اس بات کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں کہ یورپ ہی جانا ہے کہ ان ایجنٹوں کے جھانسے میں ہر گز نہ آئیں کیونکہ ان کو آپ کی سلامتی سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کو صرف پیسہ چاہیے جو ان کو مل رہا ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ نوجوانوں کو سکلز سکھانے کے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ وہ جان کا رسک لے کر بیرون ملک جانے کی بجائے اپنے ملک میں رہ کر باعزت طریقے سے زندگی گزاریں۔ اس کے علاوہ حکومت کو ایجنٹ مافیا کہ خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے جو لوگوں کو موت کے راستے سے گزارتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محسن ریاض کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments