’افغانستان اسلامی امارات‘ کا قیام اور سنگین سوالات

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کو ’افغانستان اسلامی امارات‘ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ٹویٹ پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’ملک کو برطانوی سامراج سے آزادی کے 102 سال مکمل ہونے کی خوشی میں ہم افغانستان اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ اس دوران ایک اہم طالبان لیڈر وحید اللہ ہاشمی نے رائیٹرز نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ شرعی قوانین نافذ ہوں گے۔

اس دوران افغانستان میں مستقبل کی حکومت کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی اس بات کے واضح اشارے موصول ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ مجاہد نے سب لوگوں کو عام معافی دینے کا جو اعلان کیا تھا، اس پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے یا کب تک طالبان اس وعدے پر قائم رہتے ہیں۔ امریکی ذرائع نے یہ خبر دی ہے کہ طالبان ایسے افغان شہریوں کو کابل ائر پورٹ جانے سے روک رہے ہیں جو ملک سے جانا چاہتے ہیں جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ جو جانا چاہے چلا جائے لیکن کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔ آج طالبان نے ملک کی تمام مساجد کے آئمہ کے لئے جو ہدایت جاری کی ہیں اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ افغان شہریوں کو ملک چھوڑ کر جانے سے باز رہنے کی تلقین کریں۔

افغانستان کے دو شہروں میں قومی پرچم لہرانے کی کوشش کرنے والے ہجوم پر طالبان کی فائرنگ سے پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ خوست میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض ذرائع نے کابل سے بھی بعض لوگوں کی طرف سے قومی پرچم کے ساتھ احتجاج کرنے کی اطلاع دی ہے تاہم کسی نیوز ایجنسی نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ البتہ طالبان کے ترجمان نے اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے ’افغانستان اسلامی امارات‘ کے جھنڈے اور سرکاری نشان کی تصویر شیئر کی ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ طالبان ملک کا نام، پرچم اور آئین تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹ پیغامات کے سلسلہ میں ایک بار پھر یہ اعلان کیا ہے کہ ’امارات اسلامی تمام ممالک کے ساتھ بہتر سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے‘ ۔

اس دوران طالبان کے ایک سینئیر رہنما وحیداللہ ہاشمی پاکستانی سرحد کے قریب کسی نامعلوم مقام پر رائیٹرز نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں ہوگی بلکہ ایک حکمران کونسل امور حکومت کی نگرانی کرے گی جبکہ طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوند زادہ سربراہ مملکت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جمہوریت کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور ہمیں کسی نظام حکومت پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں شرعی قوانین نافذ ہوں گے۔ وحیداللہ ہاشمی نے اس بات کی تصدیق کی طالبان افغان کے فوجیوں اور ائرفورس کے پائلٹوں سے رابطے کر رہے ہیں اور انہیں طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا نیا ڈھانچہ بنایا جائے گا جس میں طالبان جنگجوؤں کے علاوہ افغان فوج کے افسروں سے بھی شامل ہونے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان لوگوں نے اعلیٰ عسکری تربیت حاصل کی ہے اور وہ ملک کی خدمت میں اب مل کر کام کر سکتے ہیں۔ وحید اللہ ہاشمی نے بتایا کہ طالبان نے مختلف شہروں پر قبضے کے دوران متعدد ہیلی کاپٹر اور طیارے اپنے قبضے میں لئے تھے لیکن ان کے پاس انہیں چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس لئے ہم ائر فورس پائلٹوں کو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔

اگرچہ طالبان یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مصالحت اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے ملک میں حکومتی ڈھانچہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔ جو اعلانات اور عملی اقدامات سامنے آئے ہیں، ان سے بھی یہ واضح ہے کہ طالبان پشتون گروہ کے علاوہ دیگر نسلی گروہوں کو بھی حکومت میں نمائندگی دینے پر تیار ہیں لیکن ان سب کو طالبان کی سربراہی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ ملکی قوانین اور نظام حکومت کے بارے میں بھی طالبان زیادہ رعایت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وحید اللہ ہاشمی نے جس حکمران کونسل کا اشارہ دیا ہے یہ اسی طریقہ سے ملتا جلتا نظام ہو گا جو 1996 سے 2001 کے دوران طالبان حکومت کے دور میں نافذ تھا۔ اس وقت بھی روزمرہ حکومتی معاملات چلانے کے لئے ایک کونسل بنائی گئی تھی جبکہ ملا عمر کو ’امیر المومنین‘ کا درجہ حاصل تھا۔ ابھی ہیبت اللہ اخوند زادہ کو امیر المومنین بنانے کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی بیعت کا تقاضا سامنے آیا ہے لیکن کابل ائر پورٹ پر غیر ملکیوں اور افغان باشندوں کے انخلا کا کام مکمل ہونے کے بعد حالات کی زیادہ درست تصویر سامنے آ سکے گی۔

صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں ایک طرف یہ اشارہ دیا ہے کہ اگر 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک تمام امریکی اور دیگر لوگ ملک سے باہر نہ نکالے جاسکے تو امریکی افواج ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں ٹھہر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اب طالبان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں یا وہ اپنی پرانی ڈگر پر ہی قائم رہیں گے۔ یہی سوال اس وقت دنیا کے بیشتر ملکوں میں زیر بحث ہے اور مبصرین اور ماہرین اس پر اپنے علم اور قیاس کی بنیاد پر رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک نارویجئین محقق کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں یہ غور کرنا بھی اہم ہوگا کہ طالبان جب 1996 میں برسر اقتدار آئے تھے تو اس وقت ملک طویل خانہ جنگی کے بعد تباہ حال تھا۔ لیکن 2021 میں کابل پر قبضہ کے بعد انہیں ایک ایسا ملک ملا ہے جس میں ایک نظام کام کر رہا تھا اور عوامی بہبود کے متعدد منصوبے شروع کیے جا چکے تھے۔ تعلیم، روزگار، اور امور حکومت کے لئے باقاعدہ ڈھانچہ موجود ہے۔ طالبان کے لئے یہ فیصلہ کرنا اہم ہوگا کہ کیا وہ ملک کو دوبارہ تباہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں یا اس تعمیر شدہ ملک کو مزید ترقی اور امن کی طرف گامزن کرنا چاہتے ہیں۔

قیاس آرائیوں، تبصروں اور اندازوں کا سارا مرکز البتہ اس وقت کابل میں جاری سیاسی سرگرمیاں ہیں جن میں طالبان کے بانی لیڈر اور سیاسی ونگ کے سربراہ ملا برادر شامل ہیں جو تین روز پہلے دوحہ سے کابل پہنچے تھے۔ کابل میں پاکستانی سفیر منصور علی خان نے تصدیق کی ہے کہ طالبان نے بات چیت کے لئے ان سے رابطہ کیا ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا۔ پاکستانی سفیر نے اس دوران مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام کے لئے کام کر رہا ہے۔ چین نے اقوام عالم سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں استحکام کی کوشش کرے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک راب سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا ہے کہ ’دنیا کو افغانستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کی رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے۔ افغانستان میں صورتحال عدم استحکام اور بے یقینی کا شکار ہے۔ عالمی برادری کی حمایت استحکام لانے میں مددگار ہو گی‘۔

دوسری طرف ماسکو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ طالبان ابھی تک پورے افغانستان پر قابض نہیں ہیں۔ وادی پنجشیر میں مزاحمت موجود ہے جس کی قیادت سابق نائب صدر امر اللہ صالح اور طالبان مخالف لیڈر احمد مسعود کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے احمد مسعود نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں امریکہ سے اسلحہ و گولہ بارود فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہماری مدد کر کے اب بھی افغانستان میں جمہوریت کے لئے تعاون کر سکتا ہے۔

اسی طرح طالبان کے حوالے سے دو مختلف مگر متضاد تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔ ایک میں معاف کرنے، دنیا کو ساتھ لے کر چلنے، دہشت گردی سے تائب ہونے اور تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کے دلفریب وعدے اور نعرے ہیں۔ دوسری تصویر ملی جلی خبروں اور مختلف مقامات پر طالبان جنگجوؤں کے پر تشدد اقدامات سے بنتی ہے جو پہلی تصویر کا سہانا تصور ماند کرتی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کا ماضی، کسی وضاحت کے بغیر شرعی قوانین پر اصرار، جمہوریت اور انسانی حقوق کی غیر واضح تصویر سے صورت حال میں مزید الجھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کرنا قبل از وقت ہے کہ طالبان تبدیل ہوچکے ہیں یا اب افغانستان میں پائیدار امن کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور جلد ہی ملک میں ایک فعال اور متفقہ حکومت کام کرنے لگے گی۔

موجودہ حالات میں طالبان کے لئے یہ اہم ہوگا کہ وہ چین اور پاکستان کو یقین دلائیں کہ ان دونوں ملکوں کے خلاف افغان سرزمین سے متحرک دہشت گرد جنگجو گروہوں کے ساتھ اس کا برتاؤ کیسا ہوگا۔ پاکستان تحریک طالبان کے متعدد لوگ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد جیلوں سے رہا کیے گئے ہیں۔ اسی طرح چین اگر عالمی سطح پر طالبان کو سفارتی تعاون فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے یہ یقین دلانا ضروری ہوگا کہ ترکستان اسلامی پارٹی کے جنگجو افغانستان سے چینی صوبے سنکیانگ میں سرگرم نہیں ہوں گے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اس حوالے سے طالبان کی پوزیشن واضح نہ ہوئی تو اسلام آباد اور بیجنگ میں یکساں طور سے پریشانی محسوس کی جائے گی۔

طالبان اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں نوجوانوں کی ایک پوری نسل پروان چڑھی ہے جو جمہوری روایات سے روشناس ہے اور اپنی آزادی قائم رکھنا چاہتی ہے۔ اگرچہ اس دوران ملک میں اتحادی افواج موجود تھیں لیکن انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، تعلیمی سہولتوں اور متعدد فلاحی منصوبوں پر بھی کام کیا گیا۔ افغان عوام کی اکثریت اب ان سہولتوں کی عادی ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب طالبان غیر ملکی افواج کے خلاف جہاد کے نام پر دہشت گرد حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہے تھے۔ اسی لئے دو روز پہلے کابل میں ذبیح اللہ مجاہد نے جب عام معافی کا اعلان کیا تو ایک نوجوان افغان صحافی نے برجستہ سوال کیا کہ ’کیا تشدد کا نشانہ بننے والے افغان عوام بھی طالبان کو معاف کردیں گے‘؟ ذبیح اللہ مجاہد کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ جنگ میں جانی نقصان تو ہوتا ہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سوال کی گونج نمایاں ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words