افغان مستقبل پر بے معنی بحث کا خاتمہ بھی ناگزیر!


افغانستان میں دو دہائیوں یا چار عشروں سے جاری جنگ ختم ہو چکی، اس کا اعلان، فاتح کابل کے بعد کر دیا گیا، لیکن سوشل میڈیا اور ٹاک شوز میں ایک نئی جنگ کا آغاز شروع ہو چکا کہ آیا، خواتین کے حقوق پورے کیے جائیں گے یا نہیں، بچیوں کی تعلیم کا مستقبل، انسانی حقوق، عوام میں خوف و ہراس، قومی حکومت قائم ہوگی یا اسلامی، غرض یہ ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ امارات اسلامی کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنی تمام ترجیحات و گائیڈ لائن کو وضاحت سے بیان کر دیا، ان کے رہنما نے اپنے شدید مخالف نیوز چینل میں خاتون اینکر کے ہمراہ لائیو شو بھی کر دیا، افغان نیوز چینل کی خاتون رپورٹرز کو مرکزی شاہراؤں پر رپورٹنگ کرتے دیکھا گیا، عالمی میڈیا کی خواتین بھی کوریج کرتی نظر آئیں، شاید عالمی ادارے دیکھنا چاہتے تھے کہ اب افغان طالبان آئیں گے اور ان پر کوڑے برسانا شروع کردیں گے، مخالفین کے سر کاٹ کر چوراہوں پر لٹکا دیے جائیں گے، مجالس جلوس روک دیے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

تحفظات و خدشات اپنی جگہ ہیں، لیکن کوئی اس امر کو تسلیم بھی تو کرے کہ افغانستان غیر ملکیوں کی جارحیت و قبضے سے آزاد ہوا، امریکی صدر کے اعتراف پر غور کیا جائے کہ وہ افغان قوم کی تعمیر کرنے نہیں آئے تھے، تو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کے بعد ان کا ایجنڈا تو پورا ہو چکا تھا، 02 مئی 2011 کے بعد بھی افغانستان میں رہنے کا جواز کیا تھا، افغان فوجیوں پر اربوں ڈالر خرچ کیوں کیے جا رہے تھے، امریکہ بتائے کہ اس نے جب 20 برس میں افغان عوام کے لئے مفاد عامہ کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تو دو ٹریلین ڈالر، کابل انتظامیہ کو رشوت کے طور پر کیوں دیتے رہے، القاعدہ کے نام پر اگست 2011 اور جون 2012 میں شیخ عطیہ اللبی، شیخ ابو یحیی اللبی، ایمن الظواہری کے بعد سب سے سینئر رہنما شیخ ابو الخلیل المدنی، یمن میں القاعدہ کے سربراہ ناصر الوحیشی کو امریکی ڈرون حملوں میں مارا گیا۔

الوحیشی نائن الیون سے قبل اسامہ بن لادن کے سیکرٹری بھی رہے تھے۔ ’القاعدہ کے جن تین سرکردہ رہنماؤں کو ایران نے 2015 میں آزاد کیا ان میں ابوالخیر المصری اور الظواہری کا متوقع جانشین سمجھے والے ابومحمد المصری بھی مارے جا چکے ہیں۔ ”القاعدہ کے رہنماؤں کی ہلاکتوں میں اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن بھی مارے گئے۔ اسامہ بن لادن کے علاوہ قریبا القاعدہ کے مرکزی رہنماؤں کو امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک کیا گیا، القاعدہ عملی طور پر ختم ہو گئی، تو زمینی جنگ افغانستان میں کیوں لڑتے رہے، بہیمانہ فضائی حملوں کا کیا جواز تھا، اپنی مرضی کا نظام نافذ کیا گیا، کبھی حامد کرزئی کو لائے تو کبھی عبداللہ عبداللہ کی جیت کو تبدیل کر کے دوہری حکومت بنوائی کہ نصف عرصہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ٰ (چیف ایگزیکٹو) اور نصف اشرف غنی (صدر) پورا کریں گے۔

لیکن جب اشرف غنی کی مدت صدارت ختم ہوئی تو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو اقتدار حوالے نہیں کیا گیا، افغان انتخابات میں تاریخ کے کم ترین ٹرن آؤٹ کے باوجود، دھاندلی کے بدترین الزامات کے باوجود ایک مرتبہ پھر اشرف غنی کو صدر تسلیم کروا دیا، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو امن کونسل کا سربراہ بنا دیا یہ سب افغانستان میں داخلی معاملات میں مداخلت نہ تھی تو اور کیا تھا۔

امارات اسلامی اور افغان عوام اس امر کی منتظر ہیں کہ امریکہ و غیر ملکی افواج اپنے عسکری مشن ختم کریں، وہ اپنا گھر کا مسئلہ اپنی روایات و اقدار کے مطابق بیٹھ کر حل کر لیں گے۔ انہیں کسی اتحادی کی ضرورت نہیں، جو انہوں نے کرنا ہے انہیں وہ کرنے کی آزادی تو دی جائے، عالمی برداری ان پر دباؤ کیوں ڈال رہی ہے کہ یہ کرو، وہ کرو، فلاں نظام قائم کرو، حقوق انسانی کی پامالی نہ ہو، تو معذرت کے ساتھ وہ بیس برسوں میں جھک مار رہے تھے، انہوں نے کون سے انسانی حقوق کا خیال رکھا، نہتے عوام پر بمباریاں، مساجد مدارس، شادی کی تقاریب، جنازوں پر حملے اور قتل عام، خواتین کی عصمت دری، سمیت جنگی جرائم کو یونامہ کی رپورٹ منکشف کرتی رہی ہے۔

، اگر عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے تو امریکہ، برطانیہ سمیت نیٹو کے تمام ممالک قصور وار قرار پائیں گے۔ امارات اسلامی کی حکومت کو بے شک ابھی قبول نہ کریں لیکن افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا کے دانشور اپنی حدود میں رہیں تو بہتر ہیں، پاکستان کے ساتھ افغان طالبان کے تعلقات خراب کرنے کی کوششوں پر ٹھنڈا پانی ڈالیں، اس سے نقصان صرف ہمیں ہی ہوگا، بعض وزرا ء کی جانب سے بلاوجہ کا کریڈٹ لینے اور امریکہ کو طعنے بازی کرنے کی روش کو اب ختم کریں، سفارتی تعلقات میں بہتری کے لئے اپنے مثبت بیانیہ میں تبدیلی نہ لائیں، اور سب سے بڑھ کر تیل دیکھیں اور تیل کی دھار، پہلے ہیپوری دنیا ہاتھ دھو کر افغان طالبان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے جیسے افغانستان انہوں نے امارات اسلامی کے حوالے کیا ہو، اس سے تنگ آمد بجنگ آمد والی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

اس امر پر شکر ادا کرنا چاہیے کہ پاکستان کو کسی بھی جانب سے مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا، ورنہ موجودہ حکومت کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا، امریکہ نے اپنی ناکامی کا ملبہ افغان صدر اور فوج کے سر پر ڈال دیا اور اتحادیوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کو تمام صورت حال کا ذمے دار قرار دے دیا۔ یہ پاکستان کے لئے ایک مثبت خبر ہے، حکومت کو افغانستان میں عوام کی اکثریت یا سیاسی و مذہبی سٹیک ہولڈر کی متفقہ حکومت قائم ہونے کے بعد افغانستان کی باقاعدہ قانونی حکومت کو فوراً تسلیم کرلینا چاہیے، اور پاکستان میں موجود تمام افغان مہاجرین کو واپس اپنے وطن جانے کا آخری ڈیڈ لائن دے دینا چاہیے تاکہ افغانستان کے داخلی معاملات میں کسی بھی امن دشمن ملک کی جانب سے ناخوشگوار واقعہ ہونے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہ کیا جاسکے، افغان طالبان کے رہنماؤں کے رشتے داروں کو بھی عزت کے ساتھ رخصت کرنا چاہے تاکہ پشاور یا کوئٹہ شوری کا ملبہ پاکستان پر نہ گرایا جا سکے، یہ تو طے ہے کہ امریکہ، پاکستان پر برہم ہے لیکن ابھی اس کا کھل کا اظہار نہیں کر رہا، لیکن انکل ٹام و سام ضرور اپنی ہزیمت کا بدلہ پاکستان سے لینے کی کوشش کریں گے، لہذا بہتر یہی ہے کہ مستقبل کی قبل از وقت تیاری کرلی جائے کیونکہ یہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے۔

Facebook Comments HS