کیا سقوط کابل واقعی شکست سائیگون کے مترادف ہے
سقوط کابل کے بعد جو افسوس ناک آڈیو ویڈیو تصویری مناظر دکھائے جاتے ہیں اس کا مرکز کابل میں کرزئی ائرپورٹ بنا ہوا ہے۔ تفصیلات میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ یہ دل دہلانے والے واقعات اور رونگٹے کھڑے کرانے والی خبریں کسی سے بھی پوشیدہ اور ڈھکی چھپی نہیں۔ لوگ ہیں کہ جوق در جوق کابل سے امریکن ائر فورس کی مدد سے انخلا کے لئے صف در صف، قطار در قطار یا کہیں کہیں بے ہنگم انداز میں کابل ائر پورٹ میں موجود ہیں۔
ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنھوں نے گزشتہ حکومت کے دوران امریکہ اور ان کے اتحادی ممالک کے فوجیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، گزشتہ حکومت میں اہم ذمہ داریوں پر فائز تھے یا وہ نئی پود ہے جو گزشتہ بیس سالوں میں ایک جمہوری حکومت میں جوان ہوئی ہیں جو یا تو اپنی نئی مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں یا پھر ان کے اکابرین نے ان کو طالبان کے گزشتہ دور کے غضبناک قصے کہانیاں سنا سنا کر ان کو دہشت زدہ کیا ہے چنانچہ وہ کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں سر چھپانے کے لئے تگ و دو میں مصروف ہیں۔
یہ جو سب عمل اب تک ہوا ہے یا جو ہو رہا ہے، یعنی کابل ائر پورٹ میں امریکن فائرنگ، جہاز سے گرنے، جہاز سے لٹکنے، جہاز کے پیچھے لاری یا ٹرک یا بس کی طرح لوگوں کو بدحواسی میں بھاگنے اور دیگر جو مڈھ بھیڑ کے عکاسی کے دل خراش مناظر ہی کو سائیگون سے تشبیہ کیا جا رہا ہے۔
امریکن کانگریس کے رکن ایلس سٹیفنک نے ٹویٹ کیا ہے اور اس کو بائیڈن کا سائیگون کہا گیا ہے۔
یہ 30 اپریل 1975 ہے عوامی فوجی ویت نام، ویت کانگ کے نام سے شکست جنوبی ویت نام کو آزادی شمالی ویت نام سے موسوم کر کے منا رہے ہیں۔ جسے اب ہوچی منہ شہر کہا جاتا ہے جو اب ویت نام کا سب سے بڑا شہر ہے جو جنوبی شہر ہونے کے ناتے سائیگون دریا کے کنارے 280 مربع میل ہر پھیلا ہوا ہے۔ لیکن سقوط کابل کے بعد کئی دنوں سے یہ ”فریز“ اب کابل کے لئے بھی پکارا اور استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ جب سے امریکہ نے انخلا کیا ہے تو کابل شہر میں امریکن ایمبیسی اور کابل ائرپورٹ پر ہیلی کاپٹرز اور یو ایس ائر فورس کے جہازوں کے اردگرد لوگوں کا ایک ہجوم اور جمگھٹا اور ان کی یہ تصاویر ہم کو 1975 کی دہائی میں لے جاتا ہے جب ویت نام میں جنگ ختم ہوتی ہے تو سائیگون میں لوگ امریکن ایمبیسی اور گھروں کے چھتوں پر ہیلی کاپٹرز پر ایک بھیڑ کی صورت میں سوار ہو رہے ہوتے ہیں۔
ویت نام جنگ اصل میں شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام کے مابین تھی۔ شمالی ویت نام کو روس اور ہمنوا جب کہ جنوبی ویت نام کو امریکہ اور اتحادی سپورٹ کر رہے تھے۔ یہ بھی قریباً بیس سال تک چلی تھی۔
امریکہ نے 1973 سے جنوبی ویت نام سے انخلا کیا اور دو سال بعد ملک نے شمالی فورسز کے سامنے سرنڈر کیا جسے بعد میں ہوچی منہ شہر کا نام دیا گیا جو ویت نام کا مرحوم لیڈر ہے۔ اس کے ردعمل میں امریکہ نے اپنی ایمبیسی سائیگون میں بند کر دی اور اپنے پھنسے ہوئے سات ہزار شہریوں سمیت دیگر خارجیوں کو بھی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکالا جسے ”آپریشن فریکونٹ ونڈ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکہ کو بلین ڈالرز کا نقصان ہوا اور اٹھاون ہزار امریکن زندگیاں بھی جان سے چلی گئی۔ اب کئی امریکن پالیسی ساز سقوط کابل کو شکست سائیگون کے متوازی گردانتے ہیں جسے جو بائیڈن سائیگون کہا جا رہا ہے، جس کا روح رواں ٹویٹر پر ایلس سٹیفنک ہے۔ جو اس عمل کو ایک بین الاقوامی تباہ کن عمل بھی گردانتے ہیں اور جس کے بقول جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔


