قیادت اور مستقبل کا شعور


1994  میں پہلا لیڈیز پولیس اسٹیشن قائم ہوا تھا پاکستان میں، ساتھ ہی 5 خواتین ججز کو بھی ترقی ملی اور ویمن ہیلتھ ورکر جیسے کمال منصوبے کی بھی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ وقت مسلم دنیا اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کا تھا کہ جس نے معاشرہ میں عورت ذات کو عزت و احترام بخشا کہ جو غریب مزدور کسان ہاری طلباء خواتین اقلیت سمیت ہر مظلوم محکوم محروم کا حوصلہ اور پیشانی پر سکون کے آثار ثابت ہوئی جنھوں نے زبانی کلامی کے بجائے عملی طور پر خواتین کی ترقی کے لیے گرانقدر اقدامات سرانجام دیئے۔

ان سب کے پیچھے ان کے ویژن کا عمل دخل تھا جو کہ ان کا خاصہ تھا اب وہ چاہے خواتین کی ترقی رہی ہو یا اپنے وقت سے بہت پہلے توانائی کی ضروریات کا ادراک ہونا اور اسکے لیے بھی دور رس اقدامات کرنا تھا۔ لیکن پھر جو ان کے ساتھ اور انکی آل اولاد کے ساتھ کیا گیا، وہ تاریخ کا ایک تاریک باب بن چکا ہے، ملک آج بھی ان کی اور ان کے انقلابی والد کی شہادتوں کے نقصان تلے دبا ہے۔

یہ سب تمہید باندھنے کی وجہ ہے 14 اگست پر پاکستان میں ہونے والے واقعات جو لاہور تا کراچی تا کشمیر باعث ندامت بلکہ ملامت بھی ہیں۔ اب جتنے منہ اتنی باتیں تو ہمیشہ ہوتی ہی ہیں لیکن جو ان سب سے زیادہ دلخراش بات Victim Blaming ہے۔ جیسا کہ ہمارے آج کے وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو ان کی ہی شہادت کا قصور وار قرار دیتے ہیں اب اس میں آنجناب کا قصور ہے بھی نہیں بھی کیونکہ یہ ہے وہ نسلیں جو آمر در آمر پروان چڑھی ہیں اور انہی کے اگلوں کی شہ پر اب اقتدار کی مسند پر بٹھائی گئی ہیں۔ ان نسلوں کے لئے چاہے موٹر وے والی مظلوم خاتون ہوں یا ایک رکشے میں جاتی مجبور خاتون، قصور ان کا اپنا ہی ہے۔ ادھر نہ جاتیں،ایسے کپڑے نہ پہنتیں وغیرہ جیسے کئی جملے انکی گھٹی میں جیسے پلائےگئے ہیں، تبھی تو وہی ہمارے ملک کے آج کے وزیراعظم ان جملوں سے بھی مزید آگے بڑھ کر فرماتے ہیں کہ بھئی آخر مرد کوئی روبوٹ تو نہیں۔

اگر اب بھی میرا مدعا سمجھ نہیں آیا تو لیں سیدھی بات سنیں! قومیں راہنما بناتی ہیں جن کو نہ صرف مستقبل کا شعور ہو بلکہ وہ آنے والی مشکلات کے حل کا ادراک بھی رکھتے ہوں، اب آپ دوبارہ سے پہلا جملہ پڑھیں۔ لیکن شومئی قسمت یا پھر ہمارے ہم سے زیادہ سگوں کی مہربانی ہے کہ مسلط ہوگئے ہم پر عین ہم جیسے اپنے لوگ اور یہ وقت کا سبق ہے کہ جو قومیں اپنے محسنین کو فراموش کرتی ہیں، وہ معاشی بدحالی کے ساتھ معاشرتی بدحالی کا بھی شکار ہوکر رہتی ہیں۔ پانی تو خیر سر سے بہت اونچا ہوچکا مگر اگر اب بھی ہم اور ہماری ٹوٹی پھوٹی قوم کے ٹھیکیدار غلطی کا اعتراف کر لیں اور کفارے ادا کرنے کا راستہ اختیار کر لیں تو شاید آگے آنے والی چوتھی یا پانچویں پیڑھی میں جاکر یہ ملک اپنا کھویا راستہ پا لے وگرنہ۔۔۔خیر ایک پیارے دوست حسن گیلانی کا شعر یاد آگیا

ہم تو قابل اس قدر بھی نہیں

پر یہ شاید شہیدوں کا فیضان ہے

ابھی تک آشیانہ، نام ہی کا سہی

سلگ رہا ہے، راکھ ہوا نہیں

Facebook Comments HS