میڈیا اتھارٹی کے ذریعے زبان بندی کا نیا سرکاری منصوبہ

صحافیوں، میڈیا تنظیموں، مالکان اور انسانی حقوق کے گروہوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ایسا ہمہ گیر ادارہ استوار کرنے پر بضد ہے جو اخبارات و جرائد سے لے کر، ٹی وی نشریات، سوشل میڈیا اور فلم و ڈرامہ تک ہر قسم کے میڈیم کو کنٹرول کرے گی۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ روز ڈیجیٹل براڈ کاسٹرز کے ساتھ ایک مکالمہ کے بعد بتایا ہے کہ اس اتھارٹی کے قیام سے میڈیا کو کنٹرول کرنے والے سابقہ تمام ادارے اور قوانین ختم ہوجائیں گے اور تمام میڈیا کی نگرانی کا کام ایک ہی ادارہ کرے گا۔

حکومت ایک آرڈی ننس کے ذریعے اس نئی میڈیا اتھارٹی کو متعارف کروانا چاہتی ہے۔ اس طرح ملک میں میڈیا کی نگرانی، اجازت ناموں کے اجرا اور اشتہارات کی فراہمی کے معاملات ایک ہی اتھارٹی کی نگرانی میں انجام پائیں گے۔ نئی میڈیا اتھارٹی کے تحت ٹریبونلز بھی قائم کئے جائیں گے جو میڈیا میں کام کرنے والے کارکنوں کے تنازعات یا میڈیا کے خلاف سامنے آنے والی شکایات کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ان ٹریبونلز کے خلاف اپیل یا تو اسی اتھارٹی کی نگرانی میں قائم کئے جانے والے فورمز پر ہوسکے گی یا پھر صرف سپریم کورٹ کو کسی معاملہ میں اپیل سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یعنی حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت میڈیا کے تمام شعبوں کو ملک کے عام عدالتی نظام کی پہنچ سے دور کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح اس میڈیا اتھارٹی یا نئی قانون سازی کو آرمی ایکٹ سے مشابہ سمجھا جا سکتا ہے جس کےتحت فوجیوں کے خلاف ملکی عدالتی نظام سے بالاتر ہو کر فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ میڈیا کو نکیل ڈالنے کے اس طریقہ کو بدترین آمرانہ ہتھکنڈا کہا جا سکتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس نئی قانون سازی اور اتھارٹی قائم کرنے کی منصوبہ بندی میں زیادہ فوکس ڈیجیٹل میڈیا کی ضرورت اور مستقبل پر کیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات ’ڈیجیٹل میڈیا ‘ کو مستقبل کا میڈیم قرار دیتے ہوئے خاص طور سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ بالواسطہ طور سے ملک کے پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت کو کم کرنے کے ایک ایسے دوررس منصوبہ پر کام شروع کیا گیا ہے جس سے رائے کی تشکیل کے ہر ذریعہ کو سرکاری کنٹرول میں لایا جا سکے گا۔ ایک ایسی اتھارٹی خبروں کی فراہمی سے لے کر رائے دینے کے ذرائع، ریڈیو و ٹی وی ٹاک شوز اور فلم و ڈرامہ تک کو کنٹرول کرے گی جس کا نگران وزیر اطلاعات ہوگا۔ یہ اتھارٹی نہ صرف لائسنس جاری کرنے، ڈکلئیریشن دینے، فلموں کو سنسر سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور مواد کنٹرول کرنے کے اختیار کی حامل ہوگی بلکہ اسے آجروں اور کارکنوں کے تنازعات حل کروانے اور میڈیا ورکرز کی اجرتوں کے تقرر کا حق بھی حاصل ہو گا۔ یوں تو میڈیا سے متعلق سب معاملات ایک ہی چھت کے نیچے لا کر ’میڈیا کو سہولت‘ فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن درحقیقت اس طرح حکومت کو میڈیا کا بازو مروڑنے کے ایک سے زیادہ ذرائع حاصل ہوجائیں گے جنہیں مالکان اور صحافیوں پر دباؤ ڈالنے اور من پسند مواد کی تشہیر پر مجبور کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کی حکومت پہلے دن سے میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے لئے کوششیں کرتی رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ حکومت میڈیا کی آزادی اور خود مختاری پر کامل یقین رکھتی ہے۔ نئی مجوزہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کا منصوبہ ان دعوؤں کے برعکس ہے۔ اس کے باوجود فواد چوہدری اپنی چرب زبانی سے اس آمرانہ قانون کو جدید میڈیا کو سہولت بہم پہنچانے اور ملک میں مواصلاتی نظام کو مؤثر اور ہم گیر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بات خاص طور سے نوٹ کی جائے گی کہ میڈیا اتھارٹی آرڈی ننس کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان میں میڈیا کو مختلف سطحوں پر کنٹرول کرنے کا ذکر تو زور شور سے موجود ہے لیکن یہ یقین دہانی کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ نئی اتھارٹی کے پاس آزادی رائے کو یقینی بنانے، صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی روک تھام اور انہیں ہراساں کرنے والے اداروں اور اہلکاروں کے خلاف کیا اقدام کئے جائیں گے۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کی سب سے بڑی پریشانی یہی رہی ہے کہ خود مختاری سے کام کے مواقع کم کئے جارہے ہیں۔ جب بھی کسی صحافی کو غیر قانونی کارورائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو حکومت کے دعوؤں اور بیان بازی کے باوجود کسی بھی معاملہ میں نہ تو مجرموں کا سراغ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی حکومت اس بارے میں کسی پریشانی کا اظہار کرتی ہے بلکہ اسے معمول کا حصہ بنا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ متاثرہ صحافی کسی ایک حادثہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ حکومت کی نیک نیتی کو مشکوک کیا جا سکے۔ میڈیا کے حوالے سے ایک بااختیار اور ہمہ گیر اتھارٹی بناتے ہوئے یہ اہتمام کیا جا سکتا تھا کہ صحافیوں اور میڈیا مالکان کو یقین دلایا جاتا کہ نیا میڈیا ادارہ آزادی رائے اور میڈیا کی خود مختاری کا محافظ ہو گا۔ مختلف قسم کے ضابطوں کی کارروائی بھی معمول کا حصہ ہوگی لیکن یہ اتھارٹی قائم کرنے کا اصل مقصد ملک میں میڈیا سے متعلق تمام شعبوں کو آزادی اور اعلیٰ جمہوری روایات کے مطابق خود مختاری سے کام کرنے کا ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے مگر میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا کی آزادی و خود مختاری سے زیادہ اسے کنٹرول کرنے، سرکش عناصر، افراد یا اداروں کو سزا دینے اور بھاری بھر کم جرمانے کرنے کے علاوہ معمول کے مطابق اپیل کے حق سے محروم کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات کو ہرگز یہ فکر نہیں ہے کہ ملک کے صحافی شدید گھٹن محسوس کرتے ہیں اور میڈیا مالکان مالی و قانونی پابندیوں اور قدغنوں سے عاجز آئے ہوئے ہیں۔ البتہ انہیں یہ ملال ضرور ہے کہ موجودہ پیمرا کسی میڈیا ہاؤس پر دس لاکھ سے زیادہ جرمانہ عائد نہیں کرسکتا۔ اگر یہ جرمانہ عائد کیا جائے تو متعلقہ ادارہ عدالتوں سے سٹے آرڈر لے لیتا ہے۔ حکومت اب اس راستہ کو بند کرنا چاہتی ہے تاکہ ملکی عدالتی نظام کو میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لئے استعمال نہ کیا جا سکے۔ بلکہ میڈیا و صحافیوں کے خلاف جرمانہ کی شرح بڑھا 25 کروڑ روپے تک کرنے کی تجویز نئے قانون میں شامل کی جائے گی۔ صرف اس ایک اقدام سے حکومت کی بدنیتی اور میڈیا کو مجبور و پابند کرنے کی خواہش کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔

عام روایت کے برعکس حکومت نے نئی میڈیا قانون سازی کے حوالے سے میڈیا مالکان، ایڈیٹروں یا صحافی تنظیموں سے رابطہ کرنے اور رائے لینے کا اہتمام نہیں کیا۔ بلکہ اس شعبہ سے متعلق لوگوں اور اداروں و تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی تفصیلات کو بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس سے حکومت کے پوشیدہ عزائم کے بارے میں شبہات پیدا ہونا یقینی ہے۔ فواد چوہدری نے موجودہ حکومت میں وزیر اطلاعات کے طور پر اپنے پہلے دور میں بھی میڈیا کو کمرشل کرنے اور نیا بزنس ماڈل بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس طرح میڈیا ہاؤسز کو مالی وسائل بچانے اور کم وسائل سے زیادہ کام لینے کے نام پر کم اجرت پر کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کی چھانٹی کرنے یا ان کی تنخواہوں و سہولتوں کو کم کرنے کی روایت کا آغاز کیا گیاتھا۔ اب میڈیا اتھارٹی کی صورت میں مین اسٹریم میڈیا کو ایک طرف سرکاری کنٹرول کا سامنا ہوگا تو دوسری طرف سرکاری اشتہارات کی صورت میں ملنے والے وسائل پر یوٹیوبرز اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع کو حصہ دار بنا کر میڈیا کے مختلف شعبوں کو ایک دوسرے کے مقابل لانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سب حکومت کے زیر نگیں رہیں اور مراعات یا اشتہاروں میں زیادہ حصہ کے نام پر بہتر خدمت فراہم کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور ہوں۔

وزیر اطلاعات نے گزشتہ روز نئے قانون اور میڈیا اتھارٹی کے حوالے سے ’ڈیجیٹل براڈ کاسٹرز‘ کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کر کے حکومت کی نئی حکمت عملی کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔ حکمران جماعت اور متعدد سرکاری ادارے پہلے ہی پسندیدہ لوگوں کو ڈیجیٹل میڈیا براڈ کاسٹنگ میں لانے اور جگہ بنانے کے لئے مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔ اب میڈیا اتھارٹی کے نام سے کی جانے والی قانون سازی میں انہی عناصر کی سرپرستی کی جائے گی۔ حکومت کی پالیسی پر نکتہ چینی کرنے والے اکا دکا ڈیجیٹل براڈ کاسٹر کو معاشی و انتظامی طور سے محروم و تنہا کیا جائے گا۔ اسی طرح ڈیجیٹل میڈیا کو مستقبل قرار دیتے ہوئے بڑے میڈیا گروپس کو مزید سرکاری دباؤ میں لانے کا اہتمام ہوگا۔

یوں تو نئی میڈیا اتھارٹی کے نام میں ’ڈویلپمنٹ‘ کا لفظ شامل کرکے حکومت یہ واضح کررہی ہے کہ اسے میڈیا کی خود مختاری سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ وہ ملکی میڈیا کے ہر شعبہ میں ایسا مزاج اور سوچ راسخ کرنا چاہتی ہے جو ایک خاص سیاسی و سماجی رویہ کو مستحکم کرنے کا سبب ہو۔ یہ وہی طریقہ ہے جو تاریخی طور فاشسٹ حکومتیں رائے سازی کے طریقہ کو کنٹرول کرنے کےلئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ حکومت اپنی اس زور زبردستی میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ اور جمہوریت اور آزادی رائے کی معروف تعریف کو کیوں کر پابند و محدود کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words