مظلوم کے ساتھ ہمدردی انسانیت کی دلیل ہے


جی نہیں مجھے اس ٹک ٹاکر لڑکی کی حمایت میں کچھ نہیں کہنا کیونکہ اس کے ’بدکردار‘ ہونے کی گواہی مینار پاکستان میں موجود چار سو ’فرشتوں‘ نے دی تھی اور اسے سزا سنا کر عبرت کا نشان بھی بنایا جا چکا ہے۔ اور تو اور عوام میں موجود تمام ’پارساؤں‘ نے اسے بد چلن ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے اس رجحان کی بنیاد بھی ڈال دی ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والی کسی بھی قسم کی زیادتی پر پہلا ٹرائل عورت کا ہونا چاہیے۔ اس کے لباس سے لے کر اس کے کردار تک ہر پہلو پر تحقیق کیے جانے کے بعد ہی اس کے مجرم کو سزا سنائی جانی چاہیے۔

یہ تو تھی ایک ’بے حیا‘ لڑکی کی داستان عبرت جس پر مجھے کوئی بات نہیں کرنی کیونکہ کسی بھی لڑکی کے کردار کو تار تار کرنے کے کار خیر میں شامل ہو کر مجھے ثواب دارین حاصل نہیں کرنا۔ کیونکہ میں جس اسلام سے واقف ہوں اس میں کسی عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی میں اس کے لباس اور کردار کو نہیں ٹٹولا جاتا، میں جس پیغمبر ﷺ اسلام کی سنت پر گامزن ہوں ان کا فرمان تھا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو، میں نے جس قرآن کا مطالعہ کیا ہے وہ کہتا ہے کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔ لیکن شاید ہمیں خود گناہ سے بچنے کی بجائے دوسروں کو گناہ سے بچانے کی زیادہ فکر لاحق ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اس تحریر کے بعد مجھے اس ٹک ٹاکر لڑکی کے ’آوارہ‘ ہونے کی مزید شہادتیں بھی موصول ہوں۔ ویسے جتنی کوششیں اس لڑکی کو بے حیا ثابت کرنے پر کی جا رہی ہیں اگر اتنی کوششیں اس نقاب پوش پردہ دار خاتون کو انصاف دلانے کے لئے کی جائیں جسے 14 اگست کو اس کے محرم کی موجودگی میں بری طرح ہراساں کیا گیا تو کتنا اچھا ہو۔ درحقیقت یہی وہ شرمناک واقعہ ہے جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اس پردہ دار خاتون کے ساتھ ہونے والے واقعہ کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ سوائے مبشر لقمان کے کسی نے اس پر آواز بھی نہیں اٹھائی حالانکہ اس جرم میں ملوث شخص نے نہ صرف اس خاتون کی عزت کو مجروح کیا بلکہ پردے کے تقدس کو بھی پامال کیا۔ عورت کو پردے میں محفوظ سمجھنے والے اگر اس خاتون کو انصاف دلانے میں ناکام ہیں تو پھر یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ بھیڑیے لباس دیکھ کر حملہ نہیں کرتے بلکہ وہ تو کمزور اور بے بس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

پاکستان عورتوں کے لئے محفوظ ملک ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کے یا میرے جذباتی ہونے سے نہیں ہو گا بلکہ اس حوالے سے اعداد و شمار کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کیونکہ ریسرچ کی نہ تو کوئی جنس ہوتی ہے اور نہ ہی جذبات۔ آپ تسلیم کریں یا نہ کریں مگر ایک تحقیق کے مطابق پاکستان خواتین کے لئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ یہ سچ ہے کہ بھارت اس فہرست میں ہم سے بھی آگے ہے مگر یہ مت بھولیں کہ بھارت اسلامی جمہوریہ نہیں ہے اور نہ ہی اسے ریاست مدینہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کو یہ بھی شکایت ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کے ساتھ ہونے واقعات کو بہت اچھالا جاتا ہے جبکہ ایسے واقعات مغرب میں بھی ہوتے ہیں۔ تو ادب سے گزارش ہے کہ مغرب میں جرائم ضرور ہوتے ہیں مگر مجرموں کو فوری طور پر سزائیں بھی سنا دی جاتی ہیں، وہاں انصاف کے لئے آپ کو میڈیا پر ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی جبکہ ہمارے ہاں جب تک ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہو کر عورت کو اس کی بچی کچھی عزت سے محروم نہ کر دے یا سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ نہ بن جائے تب تک مجرموں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ اور اس پر اگر یہ توقع رکھی جائے کہ عورت اپنے ساتھ ہونے ظلم پر دہائی بھی نہ دے اور مظلوم کے لئے میڈیا پر آواز بھی بلند نہ کی جائے تو پھر شاید آپ محب الوطن تو کہلا سکتے ہیں مگر انصاف پسند مسلمان ہرگز نہیں۔ اس ملک میں عورتوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے اگر میں اس کے اعداد و شمار لکھنے بیٹھوں تو شاید قلم بھی شرما جائے۔ لہذا میں اس تحریر میں صرف خواتین کو روزمرہ زندگی میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے اعداد و شمار کے حوالے سے بات کروں گی۔ ایک پی ایچ ڈی سکالر فریدہ انور نے حال ہی میں پاکستان میں عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے جو اعداد و شمار اکٹھے کیے ان کے مطابق لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 98 فیصد خواتین نے اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ انہیں بازاروں، راستوں، بس سٹاپوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مردوں کی طرف سے کسی نہ کسی طرح جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور 80 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ایسے واقعات کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ یعنی جو مرد آج کل یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ ان کی عورتیں بھی گھروں سے نکلتی ہیں اور ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوتا تو انہیں یہی کہا جا سکتا ہے کہ لاعلمی ہزار نعمت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خواتین کے ساتھ سڑکوں پر ہونے والی بہت سی بدتمیزیوں اور غیراخلاقی حرکات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

دنیا کے مہذب ملکوں میں گھور کر کسی عورت کے خد و خال کا جائزہ لینے کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جانا تصور کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں عورت کو گھور کر دیکھنا اور نظروں کا زنا کرنا تو شریف مروں کے لئے بھی عین جائز سمجھ لیا گیا ہے اور اب عورت بھی اسے ہمارے معاشرے کی ایک روایت سمجھ کر قبول کر چکی ہے۔

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے بے حرمتی کے واقعات کو اگر پارسائی اور بدکرداری کے تناظر پر پرکھا جانے لگا تو عورت کی پارسائی کے اتنے ہی پیمانے بنیں گے جتنے یہاں پر فرقے ہیں اور پھر خدا نخواستہ آپ کی بہن بیٹی سمیت اس جنونی معاشرے میں کوئی نہیں بچ سکے گا۔ لہذا جرم کی سنگینی کو اگر یا مگر کی آڑ میں مت چھپائیں۔ ظلم کا کوئی جواز نہیں ہوتا، ہاں مگر مظلوم کے ساتھ ہمدردی کرنا انسانیت کی دلیل ضرور ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر نازیہ نذر

ڈاکٹر نازیہ نذر سے ان کی ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے nazianazar783@gmail.com

dr-nazia-nazar has 7 posts and counting.See all posts by dr-nazia-nazar