انڈین ٹی وی پر ’تتلیوں کے ملاپ‘ کے مناظر سے سیکس اور تشدد کی قبولیت تک کا سفر

چاروکیسی رامادورئی - صحافی، انڈیا

انڈیا کے پرانے ٹیلی ویژن ناظرین اور فلم بینوں کو واضح طور پر یاد ہو گا کہ چند دہائی قبل فلموں میں ہیرو اور ہیروئن میں بوسے کی علامت کے طور پر دو پھولوں کو ایک دوسرے سے ملتے ہوئے دکھایا جاتا تھا۔

اس وقت اگرچہ ہر طرح کے تشدد کو پردہ سکرین پر پیش کرنے کی آزادی تھی لیکن براہ راست جنسی تعلقات کی کوئی بھی منظر نشر کرنا سخت ممنوع تھا۔ سیکس اور پیار محبت جیسے جسمانی تعلقات کے مناظر اشارے کنایوں میں بطور تمثیل پیش کیے جاتے تھے: جیسا کہ سونے کے کمرے میں جلتی ہوئی دھیمی آگ، تتلیوں، بھنوروں اور پرندوں کے میل ملاپ کے مناظر وغیرہ۔

یہ سخت اخلاقی اصولوں کے تحت سینسر کا زمانہ تھا اور ایک واحد سرکاری ٹیلی ویژن چینل ’دور درشن‘ ہوا کرتا تھا جس پر اکثر ریاست کے زیر اہتمام مواد ناظرین کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔

اب ذرا ماضی سے نکلیے اور حال میں آئیے۔

حالیہ ایمازون پرائم سیریز ’فور مور شاٹس پلیز!‘ کے ایک منظر کو دیکھیے۔ سیریز کی پہلی ہی قسط میں ایک انتہائی فِٹ، درمیانی عمر کا آدمی انڈرویئر پہنے کارپوریٹ میٹنگ روم میں ٹیبل کے پار بیٹھا ہے، اور سامنے موجود چار خواتین میں سے ایک اپنے تصور میں اُسی میز پر اُس کے ساتھ مباشرت کر رہی ہیں۔

یہ سیریز ایک خاتون رنگیتا پرتیش نندی کی تخلیق ہے اور اس سیریز کی ہدایت کاری دو خواتین نے کی ہے۔

دراصل یہ سیریز ’سیکس اینڈ دی سٹی‘ جیسی مقبول سیریز کا انڈین ورژن ہے جس میں چار شہری خواتین کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ ان خواتین کی عمریں 20 سے 40 برس کے درمیان ہیں اور ان کا میدان عمل انڈیا کا معروف شہر ممبئی ہے۔

اس سیریز کا سنہ 2020 میں نشر ہونے والا دوسرا سیزن گذشتہ برس ’او ٹی ٹی‘ پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا انڈین شو تھا۔

پھولوں اور بھنوروں کے گلے ملنے سے لے کر سیکس کے مناظر دکھائے جانے تک، انڈین ٹی وی نے یقینی طور پر تبدیلیوں سے گزرتے ہوئے ایک لمبا سفر طے کیا ہے اور اس کا سہرا بہت حد تک سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے سر جاتا ہے۔ اس سٹریمنگ پلیٹ فارمز نے پروڈیوسروں کو کُھل کر کھیلنے کا موقع اور کافی جگہ فراہم کی ہے۔

نیٹ فلکس، ایمازون پرائم، سونی لائیو، ڈزنی ہاٹ سٹار اور الٹرا ریسکیو آلٹ بالاجی جیسی سائٹس پر ہر ہفتے نئی ٹی وی سیریز اور فلمیں ناظرین کے لیے پیش کی جاتی ہیں جو انڈسٹری کے ماحول کو مزید چیلنجنگ بناتی ہیں اور زندگی کی حقیقی کہانیاں پیش کرتی ہیں، وہ حقیقی کہانیاں جن سے روایتی میڈیا ایک لمبے عرصے تک اجتناب کرتا رہا ہے۔

خبروں کی ویب سائٹ ’سکرول ڈاٹ اِن‘ سے منسلک فلم ایڈیٹر نندنی رام ناتھ کا کہنا ہے کہ کورونا بھی بہت سے ہندوستانی فلم سازوں کے لیے سٹریمنگ سپیس کی طرف جانے کا باعث بنا ہے اور وبائی مرض کے باعث اس چیز کو فروغ ملا ہے کہ ایسا مواد تیار کیا جائے جسے فوری طور پر ناظرین تک پہنچایا جا سکے۔

ان پلیٹ فارمز کے ذریعے طویل سیریز اور شارٹ فلمیں دونوں طرح کا مواد تیار ہو رہا ہے جو کہ ناظرین کو زیادہ سے زیادہ دستیاب آپشنز کے حوالے سے ایک اچھی بات ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کئی [سٹریمنگ] سیریز یقینی طور پر [روایتی نیٹ ورک] ٹیلی ویژن شوز یا فلموں کے مقابلے میں بہتر طور لکھی، پرفارم اور تیار کی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ نے طویل فارمیٹ کا اچھا استعمال کیا ہے اور کرداروں اور کہانیوں کو اس طرح سے تیار کیا ہے جو کہ (روایتی) فلموں یا اشتہار کے لیے بار بار وقفے لینے والے ٹیلی ویژن پر ممکن نہیں تھا۔‘

بھاری بھرکم کہانیاں

دیگر حالیہ کامیاب سیریز میں ’میڈ ان ہیون‘ بھی شامل ہے۔ یہ بھی ایمازون پرائم پر دکھائی گئی۔ یہ انڈیا میں شادی کی منصوبہ بندی جیسے انتہائی مانگ والے کاروبار کے بارے میں ہے جس میں جبری شادیوں، ریپ اور محرم سے بدکاری سمیت بہت سنجیدہ موضوعات دکھائے گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مرکزی کرداروں میں سے ایک کھلے طور پر ہم جنس پرست شخص ہے۔ اس طرح یہ شو ان چند ہندوستانی شوز میں سے ایک بن جاتا ہے جو کہ مختلف جنسی رجحان رکھنے والے لوگوں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔

جہاں تک نیٹ فلکس انڈیا کی بات ہے تو اس کے کامیاب ڈیٹنگ شو ’انڈین میچ میکنگ‘ نے گذشتہ سال ہی عالمی سطح پر بہت شور برپا کیا اور اس حوالے سے گرما گرم مباحثے کا باعث بنا۔ جبکہ ڈرامے کے میدان میں ’لسٹ سٹوریز‘، ’بامبے بیگمز‘ اور ’فور مور شاٹس پلیز!‘ جیسی سیریز خواتین پر مبنی ہے جن میں کام اور زندگی میں توازن، سیکس اور جنسی تعلقات، کامیابیاں اور مایوسیوں کو پیش کیا گیا ہے۔

اس کے بعد ’مسابا مسابا‘ جیسی ایک شائستہ پیشکش ہے جو ایک کامیاب فیشن ڈیزائنر کی کہانی ہے جس کا تعلق ممبئی سے ہے۔ اس میں اس کا کیریئر، اس کی محبت اور ماں کے ساتھ اس کے پیچیدہ مگر محبت بھرے تعلقات کو پیش کیا گیا ہے۔ اس مقبول سیریز کا ابھی ایک ہی سیزن دکھایا گیا ہے۔

اس مشہور سیریز کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اہم کردار حقیقی زندگی کی فیشن ڈیزائنر مسابا گپتا نے ادا کیا ہے جو کہ اس سیریز کا عنوان بھی ہے۔ اور اس کی افسانوی زندگی میں ماں کا کردار ان کی حقیقی والدہ نینا گپتا ادا کر رہی ہیں۔

جب نام نہاد ’جدید انڈیا‘ کے متعلق شوز کی بات آتی ہے تو ایسے موضوعات پر بھی مضبوط کہانیاں ہیں۔ اس سلسلے میں ’دہلی کرائم‘ (نیٹ فلکس) کا نام لیا جا سکتا ہے جس میں جیوتی سنگھ کی کہانی از سر نو ترتیب دی گئی۔ جیوتی سنگھ کو سنہ 2012 کی ایک سرد رات ملک کے دارالحکومت میں مردوں کے ایک گروہ نے وحشیانہ زیادتی کا نشانہ بنایا (اور اس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئیں تھیں)۔ اس میں ایک خاتون پولیس افسر کو جیوتی کے لیے انصاف دلانے کی جدوجہد کرتے دکھایا گيا ہے۔

ایک اور پولیس شو ’پاتال لوک‘ (ایمازون پرائم) دہلی کے ارد گرد گھومتا ہے اور ہندی زبان بولے جانے والے علاقوں میں روزمرہ کے تشدد کو پیش کرتا ہے۔

اس شو نے ناظرین کی طرف سے حقیقت کے قریب تر ہونے پر تعریف و توصیف بھی حاصل کی ہے۔ بعض ناظرین کا کہنا ہے کہ حقیقی زندگی میں بھی بہت حد تک ایسا ہی ہوتا ہے جیسا اس شو میں دیکھایا گیا۔ اس میں پدرشاہی اور خواتین سے نفرت جیسے مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔

ایک بار پھر ممبئی کی طرف واپس چلتے ہیں جہاں ہمیں ’دی فیملی مین‘ (ایمازون پرائم) نظر آتی ہے جو ایک خفیہ سروس ایجنٹ کے بارے میں ہے جو کہ انسدادِ دہشت گردی سکواڈ کا حصہ ہے۔ جبکہ ’سیکریڈ گیمز‘ (نیٹ فلکس) ایک پریشان پولیس اہلکار اور مقامی گینگسٹر کے ساتھ تصادم پر مبنی سیریز ہے۔ یہ مصنف وکرم چندر کی بیسٹ سیلنگ کتاب پر مبنی ہے جو کہ نیویارک ٹائمز کی دہائی کی 30 بہترین بین الاقوامی ٹی وی سیریز کی فہرست میں درج واحد انڈین شو ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’بائیکاٹ نیٹ فلکس‘: مندر میں بوسے کی فلمبندی پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ

’دلی کرائم‘ کے لیے ایمی ایوارڈ سے انڈیا کے لیے کیا بدلے گا؟

’میری فلم میں نہ سیکس ہے نہ تشدد پھر 20 کٹ کیوں لگائے‘

‘کچن کی سیاست’ سے بھرے ٹی وی سیریل

اگرچہ یہ تمام شوز مختلف مقامات پر مبنی اور مختلف موضوعات کے بارے میں ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ سیکس کے مناظر کا آزادانہ استعمال اور بے حیائی ہے (جس میں کوئی گالی ایسی نہیں جو نہ دی گئی ہو)۔ ان میں اچھی بات یہ ہے کہ مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے اس میں سے بیشتر میں مقامی طور پر حسب حال کے موضوعات کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں اتنا ہی تنوع ہے جتنا کہ بذات خود انڈیا میں ہے۔

اس میں انڈیا کے مختلف پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے جن میں نہ صرف شاندار، انگریزی بولنے والے بڑے شہر ہیں بلکہ دیہی علاقے بھی ہیں، ذات پات اور طبقے، پیسے اور طاقت کے اپنے مسائل کے درمیان دوسرے بہت سے مسائل بھی پیش کیے گئے ہیں۔

دیہی ہندوستان کو دکھانے والی سیریز کی ایک عمدہ مثال کامیڈی ڈرامہ پنچایت (ایمازون پرائم) ہے جس میں شہر میں پیدا ہونے والا ایک تعلیم یافتہ انجینیئر شمالی انڈین ریاست اُتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں سرکاری ملازم کے طور پر منتقل ہوتا ہے۔

زبان (سلینگ اور بولی) سے لے کر مقامی طور طریقے اور آداب تک یہ ایک دلچسپ سیریز ہے جو انڈیا کے شہری اور دیہی تقسیم کو پیش کرتا ہے۔ ریلائنس جیسی کمپنیوں کی جانب سے انٹرنیٹ ڈیٹا کو سستا اور زیادہ قابل رسائی بنانے کی وجہ سے انڈیا میں آن لائن ناظرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ ٹیلی ویژن کے بجائے کمپیوٹر پر انفرادی طور پر شو دیکھتے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک کے لیے وہاں کچھ نہ کچھ ہے۔

انڈیا کی دائیں بازو کی سیاست اور حکومت کی بڑھتی ہوئی تقسیم کی پالیسیاں (جو کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے) بھی ایک ابھرتی ہوئی ذیلی صنف کے طور پر سامنے آئی ہے۔ جنوری میں سیاسی ڈرامہ ’تانڈو‘ ایمازون پرائم کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا کیونکہ ان میں ایسے مناظر تھے جو کہ مبینہ طور پر ’ہندو دیوتاؤں کی توہین‘ تھے اور اس کے ڈائریکٹر کو شو میں ترمیم کرنے پر اتفاق کرنا پڑا۔

ایک ہندو قوم پرست گروپ اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاستدان اس کے خلاف پولیس رپورٹ درج کرنے والوں میں شامل تھے۔ یہ سوشل میڈیا اور سٹریمنگ چینلز کے متعلق بی جے پی حکومت کے ہمیشہ سے زیادہ آمرانہ رویے کی مثال ہے۔

رواں سال مارچ میں نئے ڈیجیٹل میڈیا قوانین متعارف کروائے گئے جس میں دونوں کو حکومتی ریگولیشن کے تحت لایا گیا لیکن ناقدین کے مطابق یہ ضابطے مواد کو سینسر کرنے کے لیے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے احتجاج یا اختلاف کو روکا جا سکے۔ دی گارڈین اخبار کے مطابق ایمازون پرائم نے ان نئے ضابطوں کے تناظر میں دو نئے شوز منسوخ کر دیے ہیں۔

منقسم ردِعمل

اگرچہ شوز کی یہ نئی لہر بظاہر اشتعال انگیز نظر آتی ہے لیکن اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ یہ فنکارانہ طور پر کتنی اہم ہیں۔ یقینی طور پر انڈین ناظرین پہلی بار دلچسپ مواد نہیں دیکھ رہے ہیں۔ رام ناتھ کہتی ہیں کہ سنہ 1980 اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں ’سرکاری چینل دوردرشن پر ٹیلی ویژن شوز اور ٹیلی فلموں میں مختلف قسم کے مضامین کا احاطہ کیا جاتا تھا جنھیں اس زمانے کے لحاظ سے ’جرات مندانہ‘ اور ’بولڈ‘ سمجھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے شوز نے سامعین کے ذوق اور ذہانت سے بھرپور تفریح سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد دی۔‘

اس زمانے کے ناظرین اب بھی انتہائی مقبول سیریلز جیسے ’ہم لوگ‘ (ملک کی پہلی ٹیلی ویژن سیریز، جس میں 80 کی دہائی میں ایک بڑے متوسط طبقے کے خاندان کی زندگی پر نظر ڈالی گئی) اور ’بنیاد‘ (تقسیم ہند کے پہلے اور بعد کے زمانے پر مبنی سیریز)، ’تمس‘ (ایک ٹی وی فلم جس میں تقسیم کے بعد کے حالات پر بھی نظر ڈالی گئی ہے)، ’زبان سنبھال کے‘ (برطانوی پروگرام مائنڈ یور لینگویج کا ہندی ریمیک) اور یقیناً طویل عرصے تک چلنے والی رزمیہ داستانوں ’رامائن‘ اور ’مہا بھارت‘ کو بڑی محبت سے یاد کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ سنہری دور بہت مختصر تھا۔ سنہ 1990 کی دہائی کے آخر اور سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ملک میں کیبل نیٹ کی آمد کے ساتھ بڑے جنگجو خاندانوں پر منبی جنسی تعصب اور غیر حقیقت پسندانہ مواد، زرق برق کپڑوں، عظیم الشان سیٹوں اور مکمل طور پر ناقابل یقین پلاٹ کے ساتھ سیریز آئيں، جو برسوں تک سیزن یا سیریز کے درمیانی وقفوں کی پرواہ کیے بغیر چلتے رہے۔

یہان ایک اور سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ نئے شوز کیا پرانوں سے بہتر ہیں؟

رام ناتھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نئی سٹریمنگ سیریز سطحی طور پر زیادہ ترقی پسند ہو سکتی ہیں لیکن مواد میں واقعی بہت زیادہ نیا پن نہیں ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’زیادہ تر شوز جرائم، دہشت گردی/قوم پرستی، رومانس، سیاسی سازش اور خاندان پر مبنی کامیڈی کے بارے میں ہوتے ہیں۔‘

جبکہ فلم مصنف کرشمہ اپادھیائے کا خیال ہے کہ شوز کی اس نئی لہر کی پوری توجہ حدود کو آگے بڑھانا اور اشتعال دلانا ہے اور ان کی نظر میں تمام بے جا گالی گلوچ اور جنسی تعلقات صرف ’تیز طراز دکھانے کا سست طریقہ‘ ہے۔

صحافی امریتا دتہ بھی اس حقیقت پر افسوس کرتی ہیں کہ کہانیوں کے اس دور میں فیملی کے ساتھ مل بیٹھ کر دیکھنے کی کوئی گنجائش نہیں، یہ صرف ذاتی سکرینوں کے لیے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران اپنے بوڑھے والدین اور جوان بیٹی کے ساتھ گھر میں پھنسے ہونے کے دوران انھوں نے اس بات کو سختی سے محسوس کیا ہے۔

’یہاں خوش کر دینے والے معتدل مواد کی کمی ہے۔ سب ایک فارمولے پر مبنی مواد بنا رہے ہیں جس میں ذات پات، سیاست، سیکس جیسے ہر خانے میں ٹک لگانے جیسا ہے۔۔۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ جبکہ انڈیا میں ہر جگہ تشدد موجود ہے تو اس میں کمال یہ ہے کہ اسے حساسیت کے ساتھ پیش کیا جائے، بجائے اس کے کہ خواتین یا ٹرانس لوگوں کو غیر انسانی بنا دیا جائے جیسا کہ کچھ ڈراموں میں حقیقت کی عکاسی کے نام پر ایسا کیا جا رہا ہے۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ سٹریمنگ مواد کی یہ نئی لہر انڈین ناظرین کے ساتھ جڑتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہ ابھی تک عالمی ناظرین کو متوجہ کرنے میں ناکام رہی ہے، جس طرح کورین ڈرامہ نے کچھ عرصے کے لیے کامیابی کے ساتھ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ’ایسا نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن اس کے لیے انڈین پروڈیوسروں کو زیادہ عالمی موضوعات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار ہونے کی ضرورت ہے، خواہ وہ کہانیاں مقامی ہی کیوں نہ رکھیں۔‘

اگرچہ انڈین ٹی وی انڈسٹری کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلط قائم کرنا ابھی دور کی بات ہے لیکن اب تک یہاں پیش کیے جانے والے شوز اپنے ناظرین کو ایسے تصوارتی مقام تک لے جا رہے ہیں جہاں وہ پہلے نہیں گئے تھے اور بہت سے ناظرین اس کے لیے شکر گزار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words