مصر میں چار ٹانگوں والی ایک قدیم وھیل کی دریافت، جو خشکی پر چل اور اور پانی میں تیر سکتی تھی

Phiomicetus anubis
Dr Robert W. Boessenecker
فوسل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وزن تقریباً چھ سو کلوگرام تھا
مصر میں سائنسدانوں نے چار ٹانگوں والی وھیل کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جو چار کروڑ تیس لاکھ برس پہلے پائی جاتی تھی۔

ایمفیبیئس فیومیسیٹس انوبس قسم کی اس وھیل کی ہڈیاں پہلی مرتبہ مصر کے مغربی صحرا میں ملی تھیں۔ اس وھیل کی کھوپڑی گیدڑ کے سر والے اس دیوتا (انوبس) سے ملتی ہے جسے قدیم مصر میں مُردوں کا رکھوالا سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے اس قدیم وھیل کو انوبس کا نام دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آج ہمیں مختلف اقسام کی جو وھیلز دکھائی دیتی ہیں وہ ارتقا کے ایک طویل سفر سے گزری ہیں اور ایک کروڑ سال پہلے یہ خشکی پر رہنے والا دودھ پلانے والا ایک جانور ہوا کرتی تھیں جس کی شکل گیدڑ سے ملتی جلتی تھی۔

مصر میں دریافت ہونے والی وھیل کے فوسل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وزن تقریباً چھ سو کلوگرام تھا اور لمبائی دس فٹ۔ سائنسی جریدے ‘پروسیڈِنگز آف دی رائل سوسائٹی’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس وھیل کے جبڑے بہت مضبوط ہوا کرتے تھے اور یہ خشکی پر چلنے کے علاوہ پانی میں تیر بھی سکتی تھی۔

اس وھیل کے ڈھانچے کا کچھ حصہ مصر کے صحرا میں واقع ایک کھائی سے ملا ہے اور اس کا تجزیہ ملک کی معروف یونیورسٹی جامعہ منصورہ کے ماہرین نے کیا ہے۔ جس مقام سے یہ ڈھانچہ ملا ہے وہ ایک صحرا ہے لیکن لاکھوں برس پہلے یہاں سمندر ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس صحرا میں صدیوں پرانی سمندری حیات کے بہت زیادہ فوسل پائے جاتے ہیں۔

جامعہ منصورہ سے منسلک ماہر، عبداللہ گوہر کا کہنا ہے کہ ‘فیومیسیٹس انوبس قسم کی یہ وھیل سمندری حیات کی اقسام میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس ڈھانچے کی دریافت مصر اور افریقہ میں زمانہ قدیم کے جانوروں پر ہونے والی تحقیق کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

اگرچہ یہ چار ٹانگوں والی کسی قدیم وھیل کے ڈھانچے کی دریافت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، لیکن ماہرین کے مطابق وھیل کی یہ قسم اب تک افریقہ میں دریافت ہونے والی قدیم ترین وھییلز میں سے ایک جو بیک وقت خشکی اور پانی میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

ماہرین کے خیال میں وھیلز کی اولین اقسام کا ارتقا آج سے تقرییاً پانچ کروڑ برس پہلے جنوبی ایشیا میں ہوا تھا۔ سنہ 2011 میں بھی شمالی امریکہ کے ملک پیرو میں چار ٹانگوں اور چوپائے جانوروں جیسے کھُروں والی وھیل کا ڈھانچہ دریافت ہوا تھا جس کے بارے میں ماہرین نے بتایا تھا کہ یہ چار کروڑ 30 لاکھ سال پرانا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words