عمران خان: وزیر اعظم سے طوطا فال نکالنے والے نجومی تک

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی سہ سالہ حکومتی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹنے کا عمل پوری قوت سے جاری ہے۔ اس کی جزوی وجہ تو یہی ہے کہ موجودہ حکومت کو ڈھنڈورا پیٹنے، شور مچانے یا دشنام طرازی کے علاوہ کوئی دوسرا کام ڈھنگ سے کرنا نہیں آتا۔ ملک کی جس معیشت کے بارے میں ماہرین درجنوں سوال اٹھارہے ہیں اور عام لوگ جس کی تباہ حالی کی قیمت روزانہ بازار میں افراط زر کی صورت میں ادا کرتے ہیں، اسے ملک کے ’محبوب‘ وزیر اعظم بحالی کی طرف شاندار قدم قرار دیتے نہیں تھکتے۔

تاہم وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جدید عہد میں پروپیگنڈا کو سائینس بنانے کا حق ادا کیا ہے۔ آج کراچی میں منعقد کی گئی پریس کانفرنس ایسا شاہکار ہے جس پر گوئیبلز کی روح بھی جھوم اٹھی ہوگی۔ اس ملک کے وزیر ہوابازی کے ایک غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد بیان کے بعد جولائی 2020 سے قومی ائیر لائن پی آئی اے پر یورپ ، امریکہ اور متعدد دیگر ممالک میں پرواز پر پابندی ہے۔ یورپ اور دیگر ملکوں میں ائیر سیکورٹی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ جس ملک کے پائیلٹوں کے لائسنز کو وہاں کی حکومت ہی ناقابل اعتبار اور بوگس قرار دیتی ہو، انہیں انسانوں سے بھرے طیارے اڑانے کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے۔ یورپی کنٹرولرز اس سے پہلے پی آئی اے کے طیاروں کی ناقص مین ٹیننس اور تکنیکی خامیوں کی وجہ سے شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے تھے اور متعدد بار قومی ائیر لائن کو وارننگ دی گئی یا اس کی پرواز پر جزوی مدت کے لئے پابندی لگا دی گئی۔

گزشتہ برس قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کے ہوشربا بیان کے بعد سے پی آئی اے پر یورپ بھر میں پرواز کرنے پر پابندی عائد ہے۔ حکومت پاکستان ہوابازی کی سیکورٹی کے حوالے سے اب تک کوئی ایسا مناسب انتظام نہیں کرسکی کہ پی آئی کو دیگر ائیرلائینوں کی طرح معمول کے مطابق پرواز کرنے کا حق واپس مل سکے۔ اس طرح سال ہا سال سے قومی خزانے سے خسارہ وصول کرنے والی ائرلائن مزید مالی بوجھ کا شکار ہے لیکن صورت حال کی بہتری کے لئے کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ حکومت کے ہونہار وزیر اطلاعات ملکی میڈیا کو تو اپنا بزنس پلان بہتر کرنے اور سرکاری وسائل پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی قومی ائیرلائن کی مالی تباہ حالی کے بارے میں کوئی منصوبہ پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے کہ جس کی ائیرلائن کو ناقص لائسنسوں کی وجہ سے عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ایک طرف مسافروں کو غیر ضروری تکالیف کا سامنا ہؤا، دوسری طرف قومی ائیر لائن کے مالی بوجھ میں اضافہ ہؤا اور اس کے ساتھ ہی ملک کے اعتبار و ساکھ کا عالمی سطح پر مذاق اڑایا گیا ۔ لیکن قومی وقار کی سربلندی کے لئے سر دھڑکی بازی لگانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس ملک و قوم پر اتنا بڑا سانحہ گزر گیا لیکن قوم کو سابقہ حکمرانوں کی بدعنوانی کے قصے سنا کر اپنی سیاسی دکان چمکانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اپنی تمام تر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اب تک اسی نعرے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کو اس بات کا یقین ہے کہ تسلسل و تواتر سے جھوٹ بول کر لوگوں کو ہر بات کا یقین دلایا جاسکتا ہے۔ سیاسی لیڈروں کی بدعنوانی کے بارے میں اگرچہ ایسی ہی صورت پیدا کرلی گئی ہے لیکن اس سے سابقہ حکمرانوں کے علاوہ موجودہ حکومت پر اعتبار بھی کمزور ہؤا ہے۔ کیوں کہ جس بدعنوانی کو ختم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، عوام کو اس کے ’ خاتمہ‘ کے بعد بھی معاشی یا انتظامی سطح پر بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اب وزیر اطلاعات قومی ائیر لائن پی آئی اے کے حوالے سے یہ دور کی کوڑی لائے ہیں کہ ’وہ لوگ جنہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر پابندی عائد کی تھی ، اب وہ اسی ایئر لائن سے اپنے لوگوں کے انخلا کے لیے مدد مانگ رہے ہیں‘۔ اس منطق کا تعلق بعض یورپی ملکوں کی طرف سے اپنے شہری کابل ائرپورٹ سے ٹرانسپورٹ کرنے کے لئے پی آئی اے کے طیارے چارٹر کرنے کی صورت حال سے تھا۔ شدید مالی مشکلات کا شکار ائیر لائن نے اس اچانک اور غیر معمولی صورت حال میں کچھ بزنس ملنے پر شکر ادا کیاہوگا لیکن ملک کا وزیر اطلاعات اس صورت حال کو اپنی ہی حکومت کے عاقبت نااندیشانہ فیصلوں کے لئے دلیل تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ فواد چوہدری کا جواز ہے کہ ’بین الاقوامی قوتوں کو طاقت کی بجائے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں ‘۔ اس حوالے سے سب سے پہلے تو وزیر اطلاعات سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا انخلا کے لئے پی آئی اے کے طیارے حاصل کرنے والے ملکوں نے اپنے ملکوں کی فضائی حدود میں اس ائیر لائن کو پرواز کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ اور کیا حکومت یا پی آئی اے نے یہ تجارتی پیش کش قبول کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی متعلقہ حکومتوں کے گوش گزار کیا تھا کہ’ پہلے یورپ و امریکہ میں پی آئی اے کے پرواز کرنے پر پابندی اٹھائی جائے ، پھر پاکستان انخلا کی درخواست پر غور کرے گا‘؟

فواد چوہدری شاید عام قاری سے زیادہ بہتر طور سے جانتے ہوں گے کہ یہ دونوں بالکل دو مختلف معاملات ہیں۔ ان کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق و ربط نہیں ہے۔ وزیر اطلاعات کے طور پر پریس کانفرنس میں مغربی طاقتوں کو ’للکارتے اور لتاڑتے‘ ہوئے فواد چوہدری خوب جانتے تھے کہ ان کی یہ باتیں ’ہوم کنزمپشن‘ یعنی پاکستانی قارئین و سامعین پر رعب جھاڑنے اور حکومت کی اعلیٰ ترین کارکردگی کا تاثر قائم کرنے کے لئے کی جاتی ہیں، کسی مغربی ملک کے لئے پاکستانی وزیر اطلاعات کے ان بلند آہنگ دعوؤں اور مشوروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔نہ تو ان پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ ہی ان پر کوئی تبصرہ سامنے آتا ہے۔ حتی کہ اسلام آباد میں کام کرنے والے سفارت خانے بھی جو عام طور سے اپنے ملکوں کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں کو مانیٹر کرنے اور متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں، ایسی بے سر و پا باتوں کی ’اصلیت‘ جاننے کی وجہ سے ان کی مواصلت تک ضروری نہیں سمجھتے۔ کیا ملک کے وزیر اطلاعات اس اہم عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ وہ جن ممالک کو ہوشمندی سے فیصلے کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، وہ ایسی باتوں کا ٹھٹھا تو ضرور اڑائیں گے لیکن ان باتوں کا نوٹس لینے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔

فواد چوہدری نے کراچی کی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کی دور اندیشی اور عالمی معاملات پر دسترس کو ثابت کرنے کے لئے یہ فرمانا بھی ضروری سمجھا ہے کہ ’افغانستان سے متعلق وزیر اعظم کی ایک ایک بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ اگر پاکستان کے مشورے پر عمل کیا جاتا تو افغانستان کی صورتحال مختلف ہوتی‘۔ وزیر اطلاعات نے اس بارے میں تفصیلات بتانے کی زحمت نہیں کی کیوں کہ یہ ڈھول بھی شاہ محمود قریشی سے لے کر کابینہ کے سب ارکان کافی عرصہ سے پیٹ رہے ہیں۔ عمران خان اگر بین الاقوامی تعلقات، عسکری معاملات اور مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں قبل از وقت پیش گوئی کے اتنے ہی ماہر ہیں تو انہیں پاکستان کی وزارت عظمی کا بوجھ اٹھانے کی بجائے، فواد چوہدری کے مشورہ و معاونت سے ’عالمی نجومی‘ کے نام سے دکان چمکانے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ یوں وہ بائیس کروڑ لوگوں کی بجائے دنیا کے ساڑھے سات ارب نفوس کا بھلا کرسکیں گے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں عمران خان کی غیر معمولی صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر اربوں کھربوں ڈالر کا نقصان کرنے سے بچ جایا کریں گی۔ افغانستان نہ تو اس دنیا کا پہلا تنازعہ ہے اور نہ ہی یہ آخری تنازعہ ہوگا۔ اس لئے جمع خاطر رکھی جائے، ایسی نجوم گیری کی مارکیٹ ویلیو کبھی کم نہیں ہوگی۔ لیکن اس معاملہ میں بھی شاہ محمود قریشی کی طرح فواد چوہدری بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے بیانات دراصل وزیر اعظم کی خوشامد اور حکومت کی روز بروز گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سہارے حالات کے زور پر پسپا ہونے والے کاغذی بادبان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

کراچی میں بیٹھ کر وفاقی وزیر اطلاعات نے خود اپنے ہی ہاتھوں بے بس و مجبور کئے گئے میڈیا ارکان کو یہ مشورہ بھی دیاہے کہ وہ سندھ حکومت سے ان 1900 ارب روپے کا حساب طلب کریں جو وفاقی حکومت نے گزشتہ تین سال میں صوبے کو منتقل کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فواد چوہدری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ کثیر دولت ناجائز طریقوں سے دوبئی کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جا چکی ہو گی۔ متفقہ طریقہ کار کے مطابق وفاقی فنڈز میں سے ایک صوبے کو ملنے والے وسائل کے بارے میں ایسی الزام تراشی کسی ایسے ملک میں ممکن نہیں ہو سکتی جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور انصاف فراہم کیا جا رہا ہو۔ سیاسی لحاظ سے بھی سندھ حکومت کی جانچ سے پہلے وفاقی حکومت کو بتانا چاہئے کہ اس کی نگرانی میں کثیر رقوم کیسے اور کن ذرائع سے بیرون ملک منتقل ہورہی ہیں؟ اگر فواد چوہدری جیسے ہونہاروں کے ایسے بیانات کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سامنے منی لانڈرنگ کی ابتر صورت حال کی دلیل کے طور پر پیش کردیا جائے تو وفاقی حکومت پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے کون سی دلیل لائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words