آدم خوری: تازہ انسانی خون اور گوشت کو یورپ میں علاج کیوں تصور کیا جاتا تھا؟

آدم خوری، طب، یورپ
Getty Images
قرونِ وسطیٰ کے ایک پوسٹ مارٹم کی منظر کشی۔ پندرہویں صدی کے اواخر میں بارتھلومائیس اینگلیکس کے تحریر کردہ فرانسیسی مسودے ’دی پراپرٹیز آف تھنگز‘ سے۔
ابھی ابھی ایک شخص کو سزائے موت ہوئی ہے۔

اور کئی مریض اس کی لاش کے نیچے جمع ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب بھی تڑپ رہی ہے۔

جن خوش قسمت لوگوں کو اپنے پیالے بھرنے کی آواز آتی ہے، وہ فوراً ہی لاش کے گرما گرم خون کو ایک ہی سانس میں پی جاتے ہیں۔

یہ جدید ڈینمارک کے ابتدائی دور کی بات ہے۔

ویسے تو یہ مثال کافی سنگین ہے مگر اُس زمانے کے یورپ کے اعلیٰ ترین طبی ماہرین کے نزدیک مرگی کا علاج خون میں تھا۔

جدید دور کے ابتدائی حصے میں پائے جانے والے ‘طبِ نعش’ کو دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ایک مقبول علاج حنوط شدہ لاشوں سے کیا جاتا تھا جن میں اکثر اوقات مصر کی قدیم لاشوں سے خشک گوشت نکال کر اسے سفوف بنا کر استعمال کیا جاتا تھا۔

مگر کچھ ڈاکٹر تو اسی دور کی لاشوں سے نکالے گئے مواد کو بھی بطور دوا استعمال کرتے تھے۔

اس میں تازہ چربی، خون اور یہاں تک کہ پٹھوں کا گوشت بھی شامل تھا جسے احتیاط کے ساتھ استعمال سے پہلے خشک اور صاف کر لیا جاتا تھا۔

کئی ماہرینِ طب کا دعویٰ تھا کہ اس مؤخر الذکر علاج کا بہترین ذریعہ ‘سرخی مائل شخص کی لاش تھی، سالم، تازہ، اور جس کی عمر 24 سال کے لگ بھگ ہو’ اور جس کی ‘بھیانک موت’ ہوئی ہو۔

کبھی کبھی انسانی کھوپڑی کا بھی استعمال کیا جاتا اور ‘اسنی’ نامی اس پھپھوندی کا بھی جو موت کے کچھ عرصے بعد کھوپڑیوں پر پنپنے لگتی۔

آدم خوری، طب، یورپ

Getty Images
پندرہویں صدی میں جان آرڈرن کے لاطینی زبان میں لکھے گئے طبی مسودے سے ایک خاکہ

حنوط شدہ لاشوں کو ہیمریج یا زخموں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا جبکہ خون اور کھوپڑی کو پاؤڈر کی صورت میں مرگی کے استعمال کے لیے کام میں لایا جاتا۔

آدم خوری

ہمیں معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے، مگر لاشوں سے علاج کا طب کی روایتی تواریخ میں ذکر نہیں ملتا۔ مگر ایسے علاج کوئی دیومالائی قصے کہانیاں یا پھر کوئی فراڈ نہیں تھے۔

کچھ حد تک یونانی اور عرب طبی روایات سے اخذ کیے گئے ان طریقہ ہائے علاج کو کئی تعلیم یافتہ شخصیات نہ صرف قبول کرتیں بلکہ انھیں تجویز بھی کرتیں۔ ان میں سائنسی فلسفی فرانسس بیکن، شاعر اور مبلغ جان ڈون، ملکہ الزبتھ کے سرجن جان بینسٹر اور کیمیا دان رابرٹ بوائل شامل تھے۔

سنہ 1685 میں انسانی کھوپڑی سے بنائے گئے قطروں کو برطانیہ کے قریب المرگ بادشاہ چارلس دوئم کے لیے علاج کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

یہ واضح ہے کہ لاشوں سے علاج ایک طرح کی آدم خوری ہی تھی۔

پندرہویں صدی اور اس کے بعد سے یورپ میں تقریباً ہر جگہ ہی ‘قدیم دور کی آدم خوری’ کو برا سمجھا جاتا جو امریکہ میں حال ہی میں دریافت ہوئی تھی۔ مگر کسی نے بھی اس طرح کے طریقہ علاج کو آدم خوری قرار نہیں دیا تھا۔

ویسے تو اس سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوتی تھی مگر پھر بھی یہ مقبول اور پرکشش علاج تھا، اس قدر کہ تاجر نہ صرف مصری مقبروں کو لوٹتے بلکہ اکثر دھوکے بازی سے لوگوں کو فقیروں یا جذامیوں کا، یا پھر اونٹ کا گوشت تک بیچ دیتے۔

یہ طریقہ علاج 18 ہویں صدی کے اختتام تک جاری رہا مگر جرمنی میں تو یہ اب سے سو سال قبل تک بھی دستیاب تھا۔

آدم خوری، طب، یورپ

Getty Images
برازیل میں سنہ 1644 میں آدم خوری کی ایک منظر کشی جس میں مقامی افراد اپنے دشمنوں اور قیدیوں کو کھا رہے ہیں۔ پینٹنگ بعنوان ’دی ایلڈر‘ از یان وان کیسیل

‘اچھی دوا’

مگر اس طرح کے علاج اتنے گھناؤنے ہونے کے باوجود اتنا عرصہ تک کیسے جاری رہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ طبی ماہرین کلاسیکی یونانی دور کے ماہرین کو بہت اہمیت دیتے۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں طب کے لیے لاطینی زبان کا استعمال کیا جاتا اور کیا جائز ہے اور کیا نہیں اس پر بہت سخت اجارہ داری تھی۔

سنہ 1599 سے کچھ عرصہ قبل ایک سیاح نے مصر کے شہر قاہرہ کے ایک اہرام کی روداد لکھی: ‘قدیم لوگوں کی لاشوں کو روزانہ نکالا جاتا، یہ سڑی ہوئی نہیں بلکہ سالم ہوتیں’ اور ‘یہی لاشیں تھیں جنھیں ڈاکٹر اور دوا ساز ہماری مرضی کے بغیر ہمیں کھلاتے ہیں۔’

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اپنے مریضوں کو کسی حنوط شدہ لاش سے نکالے گئے اجزا کا استعمال کرنے پر مجبور کر سکتے تھے۔

سنہ 1647 میں مبلغ اور مصنف تھامس فلر نے حنوط شدہ لاشوں کو ‘بری غذا مگر اچھی دوا’ قرار دیا۔

اُن کے اس بیان یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا کہ انسانی گوشت کو مختلف طبی مراحل سے گزار کر کسی طرح صاف کر لیا جاتا اور یوں یہ کچا انسانی گوشت کھانے والی بربریت نہیں تھی۔

مگر بہرطور ریفائننگ کے اس مرحلے کا انحصار ‘سائنس’ کی قوت پر نہیں بلکہ انسانی جسم کی مذہبی اور روحانی طاقت پر تھا۔

روح، انسانی زندگی کی قوت

یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کے دور میں یہ تصور عام تھا کہ انسانی روح ہی بنیادی جسمانی مراحل کے لیے ذمہ دار ہے۔

آدم خوری، طب، یورپ

Getty Images
کریسٹین ڈی پیزان کے پندرہویں صدی میں تحریر کردہ مسودے سے ایک ڈاکٹر کے گھر کے اندرونی منظر کا خاکہ

نظریہ یہ تھا کہ روح خود تو غیر مادی ہے مگر یہ جسم میں رہتی ہے اور خون اور ہوا کے ملغوبے کے ذریعے جسم سے جڑی رہتی ہے۔

روح کا یہ ملغوبہ جسم میں گردش کرتا رہتا اور اسے ہی جسمانی مراحل کے وقوع پذیر ہونے کی وضاحت کے طور پر پیش کیا جاتا۔

اسے انسانی جان کا بنیادی عنصر تصور کیا جاتا جو مادی دنیا اور روحانی دنیا کے تعلق کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔

نشاۃِ ثانیہ دور کے کئی مفکرین کے نزدیک لاشوں سے علاج ایک ایسا علمِ کیمیا تھا جو زندگی کی بقا کے لیے لازم روحانی قوت کو اپنے اندر اتار لینے کا موقع فراہم کرتا۔

اور جب تازہ خون پینے کی بات آئے تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں مریض زندگی کے بنیادی مادے کو ویسے ہی اپنے اندر اتار لیتا جس صورت میں وہ زندہ جسم کے اندر موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیے

‘باندھ دینے والی بیماری’ نے مشرقِ وسطیٰ کو کیسے برباد کیا؟

تندرستی کے پانچ ٹوٹکے جو 400 سال بعد بھی کارآمد ہیں

’آدم خور پولیس اہلکار‘ جو خواتین کا گوشت پکانے سمیت بھیانک جرائم کے منصوبے بناتا رہا

سترہویں صدی کے اواخر میں شاعر اور فزیشن ایڈورڈ ٹیلر نے لکھا: ‘گرم یا ٹھنڈا انسانی خون بیماریوں کے خلاف فائدہ مند ہے۔’

اور 1747 تک انگریز فزیشن ‘تازہ، گرم’ خون کو مرگی کے علاج کے طور پر تجویز کرتے رہے۔

اس کے علاوہ ‘روحانی فزیولاجی’ کی وجہ سے بھی انسانی گوشت کھانا جاری رہا۔

یاد ہے نا کہ حنوط شدہ لاش کے لیے کہا گیا تھا کہ اسے ایک نوجوان شخص کی لاش ہونا چاہیے جس کی ‘بھیانک موت’ ہوئی ہو۔

آدم خوری، طب، یورپ

Getty Images
ایک زمانے میں چڑیا کے خون کو بھی طبی خصوصیات کا حامل تصور کیا جاتا تھا کیونکہ یہ خیال تھا کہ اس پرندے کو بھی مرگی لاحق ہوتی ہے

ایسا شخص صحتمند حالت میں مرا ہوتا اور اس کی جان کو بیماری یا عمر سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہوتا۔ اور اگر وہ کسی ہیمریج کے ذریعے مرا ہوتا تو اس کی جوانی متاثر تصور کی جاتی، کیونکہ اس کی روح خون کے ساتھ ہی نکل گئی ہوتی۔ اس لیے کہا جاتا کہ مثالی طور پر اسے ڈوبنے، گلا دبائے جانے یا دم گھٹنے سے ہلاک ہونا چاہیے۔

بھیانک موت خوف کو بھی جنم دیتی۔

میڈیکل تھیوری میں یہ قرار دیا جاتا کہ خوف کے باعث اہم اعضا (جگر، دل اور دماغ) سے روح نکل کر گوشت میں سما جاتی اسی لیے ایسی صورت میں یا تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے یا پھر آنکھوں میں پراسرار چمک پیدا ہو جاتی۔

چنانچہ ایسے شخص کے گوشت کو بالخصوص قوت بخش تصور کیا جاتا۔

سو پہلی نظر میں اپنی خشکی کے لیے مشہور مصری ممیوں کو تو زندگی کی اس قوت سے خالی ہونا چاہیے؟ مگر ان کے سالم گوشت کا مطلب یہ لیا جاتا کہ ان لاشوں میں اب بھی روح برقرار ہے جسے حنوط کے مرحلے سے گزار کر سیل کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح طویل عرصہ قبل ہلاک ہو چکے شخص کی کھوپڑی پر پنپنے والی پھپھوندی کو بھی روحانی قوت سے بھرپور تصور کیا جاتا۔

کچھ مفکرین کا خیال یہ تھا کہ اگر کسی شخص کا گلا گھونٹ دیا جاتا تو سر میں موجود روحانی قوت اُس کی کھوپڑی میں سات سال تک پھنسی رہ سکتی تھی۔

آدم خوری، طب، یورپ

Getty Images
ڈاکٹر نکولاس ٹلپ کا اناٹومی کا سبق۔ سنہ 1632۔ پینٹنگ از ریمبران

سنہ 1604 میں ہم دیکھتے ہیں کہ ولیم شیکسپیئر کا کردار اوتھیلو اپنے رومال کی تعریف کر رہا ہے کیونکہ اس کے ریشم کو ‘جادوئی ہاتھوں نے کنواری خاتون کے حنوط شدہ دل سے بنائے گئے مائع سے رنگا’ تھا۔

ظاہر ہے کہ اس دور میں نوجوان، کنواری خواتین کو روحانی پاکیزگی کے بلند ترین مرتبے پر فائز تصور کیا جاتا تھا۔

ویسے تو دل کے طبی استعمال کو عجیب تصور نہیں کیا جاتا تھا مگر ہو سکتا ہے کہ یہ بیان اس عام تصور پر مبنی ہو کہ روح کے پاکیزہ اور نفیس ترین حصے دل کے بائیں وینٹریکل یا جوف میں پائے جاتے ہیں۔

مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنیٰ

لاشوں سے علاج کا مطلب مختلف لوگوں کے لیے مختلف تھا۔

وہ لوگ جو اسے ممنوعہ تصور کرتے تھے، شاید اُن کا یہ خیال تجارت، مغربی طب، کتابوں اور تکنیکی مراحل کی وجہ سے بدلنے لگا ہو اور اُن کے لیے یہ قابلِ قبول بننے لگی ہو۔

جبکہ دوسرے لوگوں کے لیے یہ انسانی جان کے سب سے مقدس اور بنیادی عنصر سے رابطے کا ایک ذریعہ تھا۔

آدم خوری، طب، یورپ

Getty Images
اوتھیلو کا رومال مقدس ترین خون سے رنگا گیا تھا

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ لاشوں کا حنوط کیا جانا مرکزی دھارے کے طب میں متروک قرار پایا، صرف اس لیے نہیں کیونکہ ڈاکٹر سیموئیل جانسن کے ہم عصر لوگ اسے توہم پرستی یا بربریت تصور کرنے لگے تھے، بلکہ اس لیے بھی کیونکہ طب نے انسانی جسم کی روحانی اہمیت کو گھٹانا شروع کر دیا تھا۔

سنہ 1782 میں ہم دیکھتے ہیں کہ فزیشن ولیم بلیک خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ ‘مصری ممیوں’ اور ‘مردوں کی کھوپڑیوں’ جیسے ‘گندے اور غیر اہم’ علاج اب متروک ہو رہے ہیں۔ ‘یہ اور گندے مادوں کے ملغوبے اب طب میں اپنی جگہ کھو چکے ہیں۔’

چنانچہ روشن خیال سائنس کی ترقی کا دفاع کرتے ہوئے ولیم بلیک نے اس پر غور نہیں کیا کہ اس پورے مرحلے کے دوران کیا چیز متاثر ہوئی تھی۔

کیونکہ جن لوگوں نے لاشوں سے علاج کروایا تھا وہ اس کے بارے میں اب اپنی کراہت پر قابو پا چکے تھے، مایوسی کے باعث نہیں بلکہ اُس روح کے لیے اپنے احترام کے باعث، جس کے بارے میں مانا جاتا تھا کہ یہ انسانی زندگی کا جوہر ہے۔

تو کیا لاشوں کا حنوط کیا جانا مسیحی روحانیت کا بھی اختتام تھا؟

رچرڈ سگ ڈرہم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ اُن کی کتاب ‘مرڈر آفٹر ڈیتھ’ میں طبی آدم خوری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words