صحن میں لگا کیکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے بے جی کا نام تو حاکم بی بی تھا لیکن ایسی حاکم بی بی، جس کے نصیب کے سکے کھوٹے تھے۔ پچاس ساٹھ برس پہلے جب ابو جی پھمہ سرا چھوڑ کر آئے تھے تو بابا اور بے بے جی بھی اسی گلی میں آن بسے تھے۔ ہماری گلی میں ابھی آٹھ دس خاندان ہی آ کر آباد ہوئے ہوں گے کہ بابا ابراہیم اور بے بے نے مل کر کریانے کی ایک دکان کھول لی۔ دکان کیا تھی، ایک ڈربہ تھا۔ بے بے جی اور بابے ابراہیم نے اپنے سونے والے کمرے کے ساتھ ڈھائی فٹ چوڑی اور چھ فٹ لمبی لائنیں کھینچی اور دکان تیار تھی۔

دو دو کلو والے دس پندرہ ڈبے تھے۔ ان میں سے چند میں چنے اور مسور وغیرہ کی دالیں ہوا کرتی تھیں جبکہ کچھ میں بچوں کی ٹافیاں اور ریوڑیاں تھیں۔ ایک کنستر تھا، جس میں بابا ابراہیم مٹی کا تیل رکھتا تھا۔ جب کبھی گرمیوں سردیوں میں لائٹ جاتی تو ہم لالٹین لیے بھاگ کر بابے کے پاس آ جاتے۔ کبھی بابا ابراہیم نماز پڑھ رہا ہوتا تو بے بے چار کپیاں بھر کر تیل ڈال دیتی، کبھی بے بے مصلے پر ہوتی تو بابا اپنے گاہکوں سودا سلف دیتا۔

ہم ہمیشہ سودا لینے کے بعد ”چونگا“ لینے کی ضد کرتے۔ بابا یا بے بے ایک دو دال سویاں یا پھر ایک ریوڑی ہماری گندی میلی ہتھیلی پر رکھتے اور ہم کھلی ہوئی باچھیں لے کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ بابے ابراہیم نے دکان میں جوتے گانٹھنے والی ایک آر، ہتھوڑی اور کیل وغیرہ بھی رکھے ہوئے تھے، محلے میں جب کسی کی چپل وغیرہ ٹوٹتی تو وہ بھی سیدھا بابے ابراہیم کے پاس ہی آتا تھا۔

بابے ابراہیم کی کمر تیر کمان کی طرح جھک چکی تھی، آنکھ پر ایک موٹی سی عینک ہوتی تھی، سر پر بوسیدہ سی چادر کی پگڑی اور ہاتھ میں چلنے کے لیے ایک پرانا سا ڈنڈا رہتا تھا۔ بابا ہر دوسرے یا تیسرے دن کچھوے کی رفتار سے چلتے ہوئے بازار پہنچتا اور اپنے تھیلے میں ٹافیوں کے تین چار پیکٹ اور چند دوسری چیزیں لا کر اپنے ڈبے پھر سے بھر لیتا۔ بے بے اور بابے کی زندگی اسی دائرے میں گھوم رہی تھی۔ بے بے کا بڑا بیٹا بازار میں جوتے بنانے کا کام کرتا تھا۔

چھوٹا بیٹا شادی کے کچھ دیر بعد ہی اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھے مستقبل کی تلاش میں گوجرانوالہ جا کر آباد ہو گیا تھا۔ بے بے کی اپنے چھوٹے بیٹے سے بہت محبت تھی۔ یوسف جب گوجرانوالہ گیا تھا تو کئی دن بے بے کے آنسو نہیں رکے تھے۔ پھر بھی بے بے کو اپنے اس بیٹے کا بڑی شدت سے انتظار رہتا تھا کہ اب چار دن رہ گئے ہیں، پھر یوسف آئے گا، دو دن رہ گئے ہیں پھر یوسف آئے گا، اب ایک دن رہ گیا ہے۔ وہ ایک دن بھی آتا اور بے بے کی گنتی پھر سے شروع ہو جاتی تھی کہ اب چھ دن رہ گئے ہیں، اب پانچ دن رہ گئے ہیں۔ آہستہ آہستہ یوسف کے آنے کا دورانیہ طویل ہوتا گیا لیکن بے بے کی بوڑھی ہوتی پوروں پر گنتی ختم نہیں ہوئی۔

ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو بے بے کو یوسف کی شادی کا بہت شوق تھا۔ یوسف کی شادی سے پہلے گھر میں برسوں پرانا لگا کیکر بھی کاٹ دیا گیا۔ یہ ہمارے محلے کا سب سے بڑا اور اونچا درخت تھا اور سب سے زیادہ بگلوں کے گھونسلے بھی اسی پر تھے۔ جس دن وہ کیکر کٹا تو بگلوں کے گھونسلوں سے ٹوٹنے والے انڈے جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے، کچھ بچے بھی نیچے گرے تھے۔ میں اپنی کچی چھت پر بیٹھا دیکھتا رہا تھا کہ اس رات دیر تک بگلے بین کرتے رہے تھے۔

بگلوں کی آوازیں تھیں، جو چاروں طرف گونجتی رہیں لیکن ہم میں سے کسی کو بھی ان میں چھپا دکھ سمجھ نہیں آیا تھا۔ بگلے ایسے ہی اس کٹے ہوئے کیکر کا طواف کرتے رہے تھے، جیسے ہم روتے ہوئے خانہ کعبہ کا کرتے ہیں۔ ان کے گھونسلے ٹوٹے تھے، ان کے بچے چھین لیے گئے تھے، لمحوں میں اپنا محلہ، اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت ان کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی، یہ انسانوں کے فیصلے تھے۔ وہ آخری شام تھی، جب میں نے اتنی بڑی تعداد میں بگلوں کو انسانوں کی ایک بستی سے کوچ کرتے دیکھا تھا۔ میں اس شام سوچتا رہا تھا کہ یہ اب کہاں جائیں گے؟ لیکن مجھے کسی سے یہ سوال پوچھنے کی جرات نہیں ہوئی۔

کئی برس پہلے میں پاکستان میں ہی تھا کہ پتا چلا بابا ابراہیم فوت ہو گئے ہیں۔ بابا جی نے اتنا لمبا سجدہ کبھی نہیں کیا تھا۔ بے بے جی نے ہلا کر دیکھا تو ان کا وصال ہو چکا تھا۔ اس کے چند برس بعد ہی بے بے جی کا بڑا بیٹا چاچا صادق بھی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ بے بے روتے ہوئے پنجابی میں یہی کہتیں کہ اللہ دا حکم، انسانوں کے ہاتھوں میں کیا ہے، ہم کیا کر سکتے ہیں؟ حاکم بی بی کو پتا چل چکا تھا کہ اس کا نام بس حاکم ہے باقی حکم اللہ کا ہے۔

بے بے کی دکان کچھ دن بند رہی لیکن پھر بے بے کبھی کبھار خود بازار جاتی اور کبھی کبھار محلے میں کسی کو کہتی کہ دو ڈبے ٹافیوں کے ہی لیتے آو۔ جس شیلف پر کبھی سات آٹھ ٹافیوں کے ڈبے رکھے ہوتے تھے، اب وہاں صرف دو تین ہی بچے تھے۔ کبھی کبھار بے بے بیچنے کے لیے مرونڈا بھی لے آتی، محلے کے ادھ ننگے بچے روپیہ دو روپے لے کر چورن وغیرہ لینے بے بے کی دکان پر چلے جاتے۔ بڑے بیٹے کی اولاد میں جگہ کی تقسیم ہوئی تو بے بے کے پاس بیٹھک بھی نہ بچی۔ بے بے سارا سارا دن اپنی ڈھائی فٹ چوڑی چھوٹی سی دکان میں بیٹھی رہتیں اور رات کو صحن میں رکھی چارپائی پر سو جاتی۔

میں جب پہلی مرتبہ جرمنی آیا تھا تو اس شام بے بے نے دیر تک دکان بند نہیں کی تھی کہ آج امتیاز نے ”انگریزاں دے ملک ٹر جانا اے“ ۔ پھر میں جب بھی گھر فون کرتا تو امی جی سے بے بے جی کا لازمی پوچھتا۔ گلی میں بے بے جی امی جی کی آخری سہیلی تھیں۔ اولاد جوان اور مصروف ہو جائے تو بزرگوں کو بات چیت کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ امی جی اور بے بے دھیمی آوازوں میں اکثر اپنے دکھ سکھ بانٹ لیا کرتی تھیں، ایسی تمام باتیں جو اولاد کو اچھی نہیں لگتیں لیکن بزرگوں کے لیے کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ بے بے جی کے ڈبے سے سو دو سو روپے چوری ہو جائیں یا بے بے کو ساری رات نیند نہ آئی ہو، بے بے جی ایسی ساری باتیں امی جی سے ہی کیا کرتی تھیں۔ امی جی بھی گڑ والے میٹھے چاول پکاتیں تو بے بے جی کو دی آتیں۔

میں جب جب جرمنی سے واپس گیا تو گلی میں سب سے پہلے بے بے جی سے ملاقات ہوتی تھی۔ بے بے مجھے گلے سے لگاتیں، خلوص سے بھرا سر پھر ہاتھ پھیرتیں اور دعاؤں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ میں گھر سے باہر نکلتا تو بے بے جی پوچھتی کہاں جا رہے ہو؟ میں کہتا کہ آج بڑی باجی سے ملنے جا رہا ہوں، آج چھوٹی باجی سے ملنے جانا ہے۔ بے بے جی کو اونچا سنائی دیتا تھا۔ میں کان کے قریب جا کر ایک دو مرتبہ اونچی آواز میں فقرہ دہراتا تو بے بے جی آگے سے پنجابی میں ہلا، ہلا، ہلا، ٹھیک اے، کہہ کر کہتی، جا تینوں رب سچا خیریت نال پہنچائے۔

میں چند سال پہلے گیا تو بے بے جی کی دکان بند تھی۔ امی نے بتایا کہ بے بے کے رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، دوسرا بیٹا یوسف اپنے پاس گوجرانوالہ لے گیا ہے۔ جب صحن بانٹے جاتے ہیں تو دل بھی تقسیم ہو رہے ہوتے ہیں، جب پانچ مرلے کے صحن میں دیواریں اونچی ہوں تو دلوں کے صحن میں بھی پکی اینٹوں سے دیوار کھڑی ہو رہی ہوتی ہے۔ مجھے بڑا انتظار رہا کہ شاید بے بے واپس آئے اور میں مل سکوں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ درمیان میں میں امی جی سے پوچھتا رہتا کہ بے بے کا کیا حال ہے؟ کوئی خیر خبر، کوئی اتا کوئی پتا؟ امی جی بتاتی رہتیں ٹھیک ہے، تیری بے بے بس گزارہ کر رہی ہے لیکن کہتی ہے کہ کوئی مجھے واپس میرے محلے میں لے جائے، میرا گوجرانوالہ دل نہیں لگتا۔

یہ سن کر میں بھی کئی بار سوچا کہ بے بے نے ساری زندگی اس محلے میں گزاری تھی۔ ہر بندہ، عورت، بوڑھا، جوان اور بچہ بے بے سے آتے جاتے سلام کرتا تھا، وہاں شہر میں بے بے کا کیسے دل لگتا ہو گا؟ مجھے پتا نہیں کیوں وہی کیکر کے بگلے یاد آ جاتے تھے، گھر بار چھوڑ نے کا دکھ یاد آ جاتا تھا۔ یا شاید اس وجہ سے یاد آتا ہو کہ جس درخت پر میرا گھر تھا، میں بھی تو اسے چھوڑ کر جرمنی آ چکا ہوں۔

خیر میں بے بے جی سے تقسیم ہند کے واقعات بھی سنتا رہتا تھا اور بے بے اپنے مخصوص سٹائل میں مجھے قصے کہانیاں سناتی رہتی تھیں۔ بے بے صرف امی کی ہی نہیں میری بھی سہیلی تھیں۔ سال پہلے امی جی نے بتایا کہ بے بے جی نے پیغام بھیجا ہے کہ اس مرتبہ امتیاز آئے تو اسے یاد سے کہنا کہ مجھے مل کر جائے، اپنی بے بے کو مل کر جائے۔

چھ ماہ پہلے میں دس دن کے لیے پاکستان گیا تو امی نے بتایا کہ بے بے بہت بیمار ہے، اب مشکل سے ہی دوسروں کو پہچانتی ہے اور دو تین گلیاں چھوڑ کر اپنے رشتہ دار چاچے منیر کے گھر واپس آ گئی ہے۔ یہ سردیوں کے دن تھے اور اگلے روز میری واپسی کی فلائٹ تھی۔ میں رات کو آٹھ بجے کے قریب اٹھا اور لوگوں سے چاچے منیر کے نئے گھر کا پتا پوچھتے پچھاتے وہاں پہنچ گیا۔ مجھے ایک عرصہ ہو گیا ہے نوشہرہ ورکاں چھوڑے ہوئے۔ چاچے منیر کے چھوٹے بیٹے نے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا۔

میں نے کہا کہ اپنی امی جی کو بتائیں کہ چاچے عطا کا لڑکا امتیاز آیا ہے۔ چاچی نے باہر نکلتے ہی مجھے پہچان لیا، پیار دیا، ہم کوئی دس بارہ سال بعد ملے تھے۔ بے بے جی وہاں ایک اندھیرے کمرے میں پڑی تھیں۔ اس کمرے میں پانچ چھ مزید چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میں گیا تو جیسے ایک دم ہڈیوں کے ڈھانچے میں کسی نے جان ڈال دی ہو، اٹھنے کی کوشش کی اور فوراً مجھے گلے سے لگا لیا۔ بے بے جی میں ہمت نہیں تھی باتیں کرنے کی لیکن میرے ساتھ وہ ہر دو منٹ کے وقفے کے بعد کوئی نہ کوئی بات کرتی رہیں۔ میں کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہاں بیٹھا رہا اور سوکھی ہڈیوں والا ہاتھ تھامے رکھا۔ بے بے کا ہاتھ مجھے ایسے لگ رہا تھا، جیسے کیکر کی چھال میں تبدیل ہو چکا ہو۔

بے بے ماضی کی کوئی بات سناتی، میں کان کے قریب جا کر زور سے بولتے ہوئے جواب دیتا۔ بے بے بات کو سمجھنے کی کوششوں کے بعد پنجابی میں ہلا، ہلا، آخو، کہتیں۔ سکون کی تلاش میں سرگرداں سوکھی آنکھیں کبھی کبھار نم ہو جاتیں۔ ہر چند سیکنڈ بعد منہ سے اللہ خیر کرے گا نکلتا، کبھی بے بے پنجابی میں کہتی کہ ’سارے مر گے نیں، ہورے میں کدوں مرنا ایں؟ (سارے مر گئے ہیں، میں نے پتا نہیں کب مرنا ہے؟ ) لیکن ساتھ ہی کہتی رب سچے کی مرضی ہے، جب چاہے لے جائے گا۔

اس ملاقات کے بعد میں جرمنی واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے امی جی سے بے بے جی کا پوچھا تو امی جی نے بتایا کہ چاچے منیر کا گھر بھی ایک چارپائی کے لیے چھوٹا پڑ گیا ہے۔ غریب گھروں میں جب اولاد جوان ہو جائے تو شادیوں کے لیے نئے کمرے بنانے پڑتے ہیں، برسوں سے لگے درخت کاٹنے پڑتے ہیں۔ جیسے بے بے نے یوسف کے شادی سے پہلے صحن میں لگا کیکر کاٹا تھا اور بگلے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہجرت کر گئے تھے۔ بے بے بھی شاید اب گھر کا کیکر تھی، کوئی پھل نہیں تھا، اس درخت پر صرف کانٹے ہی کانٹے تھے، کوئی اپنے صحن میں رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

پچھلے ہفتے امی نے بتایا کہ تمہاری بے بے اپنی بیٹی کے گھر تھی اور وہاں ہی فوت ہو گئی ہے۔ چند روز پہلے بے بے کو واپس نوشہرہ ورکاں لا کر دفنا دیا گیا ہے۔ امی جی یہ بتاتے ہوئے رونے لگ گئیں۔ امی جی کہہ رہی تھیں کہ اس گلی میں میری آخری سہیلی نوں وی رب لے گیا اے، اگوں ہن ساڈی واری اے۔

فون بند ہوا تو میں بادلوں کو گھورتا ہوا کافی دیر یہی سوچتا رہا کہ اب بے بے کی جھپی کبھی نصیب نہیں ہو گی؟ میرے ذہن میں بار بار وہ کیکر آ رہا تھا، جب کٹا تھا تو بگلے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روٹھ گئے تھے۔ میں سوچتا رہا کہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے صحن میں لگے برسوں پرانے درختوں کو کاٹنا کیوں ضروری ہے؟ کچھ ہی دیر میں مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے میرے جسم سے کیکر کی شاخیں پھوٹ رہی ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments