قدیم پاکستان: مشترکہ تاریخ کا خیال کیا ہے اور کیا ٹیکسلا پاکستانی تاریخ کا حصہ ہے؟

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین 'قدیم پاکستان' کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کے متعلق گرما گرم بحث و مباحثے میں مصروف ہیں اور اس تعلق سے مزاحیہ اور مضحکہ خیز ٹویٹس اور میمز نظر آ رہی ہیں۔

تاہم تاریخ دانوں کے لیے یہ ایک سنجیدہ موضوع بھی ہے۔

اگرچہ نیشن سٹیٹ کی جو تعریف ہے اس اعتبار سے پاکستان کا وجودہ 14 اگست سنہ 1947 کو عمل میں آتا ہے جبکہ اس تصور کی بازگشت اس سے بھی تقریبا ڈیڑھ یا ڈھائی دہائی سے زیادہ عرصے پہلے سے سنی جا سکتی ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان کے بنگلہ دیش میں ایک سابق سفیر قمر عباس کھوکھر کے ٹوئٹر اکاؤٹ سے ٹیکسلا میں برصغیر کے قدیم تعلیمی ادارے کی تصویر پوسٹ کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ ادارہ ‘قدیم پاکستان’ میں ہوا کرتا تھا جس میں 16 ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم تھے اور وہاں 64 مضامین پڑھائے جاتے تھے۔

https://twitter.com/mqakhokhar/status/1338131075822878721

اگرچہ یہ ٹویٹ ایک سال پرانی ہے لیکن پہلے اسے ایک بنگلہ دیشی صارف نے ری ٹویٹ کیا اور پھر افغانستان کے حوالے سے کسی نے ٹویٹ کیا، جس کے بعد پھر قدیم پاکستان کی بحث چل نکلی۔

اس میں تکشلا یا ٹیکسلا کی جو تصویر دکھائی گئی ہے اسے وہاں موجود قدیم آثار کی بنیاد پر ٹیکنالوجی کے مدد سے بنائی گئی تصوراتی تصویر کہا جا سکتا ہے۔

’لوگ مشترکہ ماضی کے خيال سے ہم آہنگ نہیں‘

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کے دادا، پڑ دادا اور یہاں تک کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے اڈوانی بھی پاکستان سے عمر میں بڑے ہیں، تو کوئی یہ کہہ رہا ہے انھیں قدیم پاکستان کے ذکر سے ہنستے ہنستے رات بھر نیند نہیں آئی۔

جب دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کےپروفیسر محمد سہراب سے یہ سوال کیا گیا کہ پاکستان کی تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور میں نے سوشل میڈیا پر جاری مباحثے کا بھی ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ تاریخ کے بارے میں لوگوں کی رائے بہت محدود ہے جبکہ یہ ماضی کے بارے میں آپ کے تخیلات سے کہیں زیادہ متنوع اور وسیع ہے۔

انھوں نے کہا: ‘لوگ مشترکہ ماضی کے خيال سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ جو اس طرح کی بات کر رہے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان ملک کے نام کے لیے لڑنے والے تمام رہنما بشمول بانی پاکستان اس ملک کے حقیقی وجود سے بڑے ہیں۔

‘لیکن پاکستان کی تاریخ اس سے کہیں پرانی ہے۔ ایک جغرافیائی خطے کی تاریخ ہوتی ہے اور ایک سیاسی فتوحات کی تاریخ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے اور بھی مختلف پہلو ہوتے ہیں۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘جس ہندوستان یا انڈیا کا تصور آج ہے، یہ مغلوں کی دین ہے جنھوں نے اس کی حدود کا تعین کیا، اس میں ایک قانون نافذ کیا اور ایک ایسی زبان دی جو کابل سے لے کر بنگال تک سمجھی اور بولی جاتی تھی۔’

دوسری جانب کولمبیا یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد منان احمد آصف نے کارواں کے ایک پروگرام میں رعنا صفوی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب انھوں نے سندھ کی تاریخ پر کتاب لکھنی شروع کی تو انھیں یہ خیال آیا کہ یہ تاریخ تو محمد بن قاسم سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس سے کہیں پہلے سے موجود ہے۔

انھوں نے ایک دوسرے مباحثے میں کہا کہ برصغیر میں اسلام کی آمد بھی محمد بن قاسم سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس سے پہلے ہی مالابار کے ساحل پر قبریں ملتی ہیں اور وہاں ان کی آمد سے پہلے کی مسجد بھی ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وجود کے سرکاری جواز کے طور پر آپ اسے جہاں سے چاہیں شروع کریں لیکن یہ ایک سلسلہ ہے جو قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے۔

پروفیسر سہراب کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کو ہی دیکھ لیں کیا وہ اسلام سے قبل وجود نہیں رکھتا تھا کیا اس کی تاریخ نہیں تھی؟ ان کے خیال سے تاریخ کے تصور کو انڈیا میں دو خانوں میں رکھ کر دیکھا جا رہا ہے اور یہ دو خانے ہندو مسلم خانے ہیں۔’

لیکن دہلی کے معروف ادارے سینٹر فار دی سٹڈی آف ڈولپنگ سوسائٹیز (سی ایس ڈی ایس) میں پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہلال احمد کا کہنا ہے کہ حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر کا ایک سروے آیا تھا جس میں وہ بھی شریک تھے اور اس سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ‘نوے فیصد سے زیادہ لوگوں نے کہا کہ انڈیا سب کا ملک ہے تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے۔’

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی ملک کی تاریخ اس کی سیاست سے متاثر ہوتی ہے۔

ہلال احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ‘جب سنہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو یہ جغرافیائی تقسیم تھی نہ کہ تاریخ کی تقسیم تھی۔ تاریخ دونوں کی مشترک ہے لیکن دونوں ممالک میں تاریخ کو دیکھنے کے نظریات میں فرق ہے۔’

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا دہلی میں ان کے پڑوس میں نیو لاہور کالونی ہے اور اسی طرح وسندھرا میں لاہور اپارٹمنٹ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ تاریخ لوگوں کی ہوتی ہے۔

پروفیسر ہلال احمد نے مزید کہا ‘تاریخ کا اٹوٹ حصہ یادگاریں اور تاریخی عمارتیں ہیں اور یہ تاریخی المیہ ہے کہ جواہر لال نہرو کے ہندوستان کی دو سب سے قدیم یادگاریں یا آثار موئن جو دڑو اور ہڑپا موجودہ پاکستان میں ہیں جبکہ محمد علی جناح کے پاکستان کی تمام تر اہم یادگاریں، تاج محل ہوں کہ لال قلعہ وہ انڈیا میں رہ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بھارت کا نام کیسے پڑا، ’آگ‘ اور ’دریا‘ کی کہانی

موئن جو دڑو کی ’سونے کی انگلیوں والی لڑکی‘

میراث مسلسل توجہ اور پیار مانگتی ہے

لیکن دونوں ممالک میں تاریخ کو دیکھنے کے نظریے میں ایک فرق ہم آہنگی کا ہے۔ انڈیا نے سب کو اپنے اندر سمانے اور سب سے ہم آہنگی پیدا کرنے کا نظریہ اپنایا ہے چنانچہ اس کی تاریخ نویسی میں ایک تواتر ملتا ہے جبکہ پاکستان کی سرکاری تاریخ میں اس کا فقدان ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 57-1956 میں اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض نے حکومت پاکستان کو ایک دستاویز پیش کی تھی اور اس میں پاکستان کی تاریخ کو موئنجودڑو اور ہڑپا سے جوڑنے کی بات کہی تھی۔ اور یہ وہی دور تھا جب پاکستان کو اسلامی ریاست قرار دیا گیا، کیونکہ یہ اپنے قیام کے وقت اسلامی جمہوریہ نہیں تھی۔

موئن جو دڑو

BBC
موئن جو دڑو کے باقیات

لیکن محمد سہراب کا کہنا ہے کہ یہ ایک المیہ ہے کہ انڈیا یا پاکستان میں تاریخ کے حوالے سے ایک ‘زینوفوبک نیشنلسٹ نیریٹو’ یعنی دوسرے سے نفرت کی بنیاد پر قوم پرست بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

موئن جو دڑو کی ’سونے کی انگلیوں والی لڑکی‘

موئن جو دڑو میں پجاری کے مجسمے کی توہین پر مقدمہ

بھارت کا نام کیسے پڑا، ’آگ‘ اور ’دریا‘ کی کہانی

سوشل میڈیا پر ردعمل

بہر حال قدیم پاکستان کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے قمر عباس کھوکھر نے گذشتہ سال متواتر کئی ٹویٹس کیے تھے جن میں موئن جو دڑو اور ہڑپا کی بھی کمپیوٹر سے تیار شدہ تصاویر پیش کی گئی ہیں۔ اور ان میں سے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ دنیا کے سب سے پہلے ماہر گرامر پاننی اور سیاسی فلسفی چانکیہ کوٹلیہ بھی قدیم پاکستان میں تھے۔

ٹیکسلا کے علاقے میں انسانی آثار تو پتھر کے عہد سے ملتے ہیں لیکن شہر کے آثار چھٹی صدی عیسوی قبل مسیح سے ملنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہندوؤں اور بدھ مت کی کتابوں میں بھی اسکا ذکر ملتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ عہد موریہ میں پروان چڑھا اور یہاں کے تعلیمی ادارے کی بہت دھوم تھی۔

انھوں نے اپنے ٹویٹ کے ساتھ حنان 21 نامی ایک صارف کو ٹیگ کیا ہے جنھوں نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ٹیکسلا کا تعلیمی ادارہ تقریبا ہزار سال تک پھلتا پھولتا رہا یہاں تک کہ چھٹی صدی عیسوی میں ہندو راجہ مہیر کل نے اسے مسمار کر دیا۔

لیکن بعض جگہ یہ لکھا گیا ہے کہ رام کے بھائی بھرت کے ذریعے بسایا یہ شہر دوسری صدی عیسوی کے بعد سے تباہی کا شکار تھا اور تورامن کے زوال کے بعد یہ مسمار ہو گیا۔

بھاردواج نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ یہ ‘قدیم پاکستان کیا ہے۔ لفظ پاکستان بھی سنہ 1933 سے قبل تک وجود نہیں رکھتا تھا۔’

بہت سے لوگوں نے برصغیر کا نقشہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ قدیم پاکستان عظیم ہندوستان کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

پرینکا چوپڑہ نامی ایک صارف نے اس کے ساتھ لکھا کہ ‘عظیم موریہ سلطنت کا نقشہ دیکھیں۔ اور یہی پاکستان کا مستقبل بھی ہے۔’

مہاراشٹر کے معروف میڈیا ہاؤس لوک مت کی ہندی ویب سائٹ کے مدیر رنگناتھ سنگھ نے اپنے فیس بک صفحے پر ٹیکسلا کی خیالی تصویر کے ساتھ قمر عباس کھوکھر کے ٹویٹ کا ہندی ترجمہ پیش کیا ہے اور معلومات کو شیئر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

سونم مہاجن نے قمر عباس کے ٹویٹ پر لکھا ہے کہ ‘قدیم پاکستان نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ پاکستان جس عقیدے کے بنیاد پر بنا وہ خود ہی صرف 1400 پرانا ہے۔ آپ 2700 قدیم انڈین یونیورسٹی کو اپنا کہہ کر جھوٹی بڑائی نہیں ہانک سکتے جب تک کہ اپنے ہندو ماضی کو تسلیم نہیں کر لیتے۔’

ان کے جواب میں ستار فاروقی نامی صارف لکھتے ہیں کہ ‘محترم بہن، مذہب اسلام انسانیت کے زمین پر آنے کے پہلے دن سے ہے۔ برائے مہربانی قرآن پڑھیں اور سیکھیں۔’

جبکہ پاکستان فار ایور نامی ایک صارف نے لکھا: ‘انڈس کی تاریخ اور ثقافتی بناوٹ ہمیشہ سے گنگا دیش ریپبلک سے مختلف، انوکھی اور جداگانہ رہی ہے۔ ہماری زیادہ تر بدھ مت اور اسلام پر مبنی روایات رہی ہیں اور مسلم اور سندھ نے بھارت سے علیحدہ راستہ اختیار کیا۔ پاکستان اپنے آپ میں ایک تاریخی فیصلہ ہے۔’

بہر حال ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انڈیا پاکستان ہی نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تاریخ ہے جو سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words