پیپلز پارٹی کے امریکہ سے رابطے

بلاول بھٹو نے امریکہ کے دوروں پر حکومتی ارکان کے چبھتے تبصروں پر طنزیہ جواب دیے۔ اب ہمارے لئے امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ والا کردار نہیں رہا، اس لئے عام قاری نے نہ حکومتی ترجمانوں کے بیانات کو سنجیدگی سے لیا نہ بلاول بھٹو کے جوابات کو۔ تاہم معاملہ ایسا سادہ بھی نہیں کہ اس پر توجہ ہی نہ دی جائے، کچھ معلومات اور ریکارڈ کو ساتھ ملا کر دیکھیں تو ایک کوشش نظر آتی ہے جہاں پیپلز پارٹی عالمی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے مستحکم کرنے کی تگ و دو میں ہے۔

دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں میں سی آئی اے کیس افسر ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں کام کرنے والے سی آئی اے ایجنٹ اسی کیس افسر کے ذریعے امریکہ کو مطلوب خفیہ معلومات ارسال کرتے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سی آئی اے اپنے اہلکاروں کو نہتے ہاتھوں لڑنے کی تربیت دیتی ہے ’کراؤ ماگا‘ جیت کنے ڈو اور برازیل کے جی جسٹو مارشل آرٹس سکھائے جاتے ہیں۔ جدید ہتھیاروں کو لڑائی میں استعمال کرنے کی مہارت لازمی ہوتی ہے۔ سی آئی اے اپنے معاملات اور نظم کو تحفظ دینے کے لیے ملازمین کو تائید کرتی ہے کہ وہ کام کی بابت اپنے خاندان کو کچھ نہ بتائیں۔

پسماندہ ملکوں کے کئی با اثر افراد سی آئی اے کے لئے کام کرتے رہے ہیں۔ اگر کمزور ملک کا کوئی سیاست دان سی آئی اے کی ملازمت نہیں کرتا تو اسے بعض اوقات کوئی ڈیل آفر کی جا سکتی ہے جو دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہو۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈیل پر اختلاف سیاست دان کی جان لے لیتا ہے۔ سی آئی اے نے 1945 ء سے لے کر 1970 ء کے عشرے تک بہت سے عالمی رہنماؤں کو قتل کیا۔ ستر کے عشرے میں امریکی سینٹ نے ایک معاملہ کی تحقیقات کے بعد اس طرح کے جرائم پر سرزنش کی جس کے بعد ایسے واقعات میں کمی آئی۔

سی آئی اے کا سب سے بدنام زمانہ منصوبہ فیڈل کاسترو کو قتل کرنے کا تھا۔ اس منصوبے نے دنیا کو ہولناک جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اس منصوبے پر ہالی ووڈ کی کئی فلمیں بن چکی ہیں، ایکسپلوڈنگ سگارز ’اے پائزن لائنڈ سکوبا ڈائیونگ سوٹ وغیرہ۔ سی آئی اے فیڈل کاسترو کو قتل کرنے میں ناکام رہی۔ سی آئی اے قتل کے منصوبوں کے لیے اکثر مقامی سطح پر حمایت رکھنے والے عسکری گروپوں‘ مقامی کرائے کے جرائم پیشہ افراد اور خفیہ اداروں کے منحرفین سے کام لیتی ہے۔

بے نظیر بھٹو کے معاملے میں ایسا ہی کیا گیا۔ اس معاملے میں سی آئی اے نے اپنے تنخواہ دار اہلکاروں کو قتل گاہ سے دور رکھا کیونکہ صدر فورڈ نے 1976 ء میں جاری ایگزیکٹو آرڈر میں ہدایت کر دی تھی کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا کوئی ملازم سیاسی قتل کی سازش میں شریک نہیں ہو گا۔ ایک حوالہ جنرل پرویز مشرف کا بدنام زمانہ این آر او ہے۔ ہمارے ہاں اس معاملے پر سیر حاصل تبصرہ نہیں ہو سکا۔ جب بھی بات ہوئی اس کے سیاسی پہلو زیر بحث آئے۔

جانے کیوں یہ بات نہیں کی جاتی کہ پاکستانی سیاسی قیادت نے امریکہ سے مداخلت کا خود کہا۔ بے نظیر بھٹو نے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ میں کچھ دوستوں کو آمادہ کیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے میں ضامن بنیں۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کا کردار جان بوجھ کر پیپلز پارٹی زیر بحث لاتی ہے نہ ایسے واقعات کا تجزیہ کرنے والے مبصرین شواہد بتاتے ہیں کہ یہ سب کچھ بے نظیر بھٹو یا پرویز مشرف کی مرضی سے نہیں ہو رہا تھا بلکہ اس کی منصوبہ بندی سی آئی اے کر رہی تھی۔

یہ سی آئی اے ہی تھی جو شخصیات اور واقعات کو منصوبے کی جزئیات پیش نظر رکھ کر آپس میں ملا رہی تھی۔ آصف علی زرداری نے دور صدارت میں بے نظیر بھٹو قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کا فیصلہ کیا۔ اقوام متحدہ کی ٹیم نے نتیجہ برآمد کیا کہ بے نظیر بھٹو کو القاعدہ یا اس کے اتحادی پاکستانی طالبان نے قتل کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے پندرہ سالہ خودکش بمبار کو بھرتی کیا۔ ایک کتاب ”گیٹنگ اوئے ود مرڈر: بے نظیر اسیسی نیشن اینڈ دی پالٹکس آف پاکستان“ مصنف ہیرالڈ منوز، میں القاعدہ ترجمان سے منسوب یہ اعترافی بیان نقل کیا گیا ہے کہ ”ہم نے پاکستان میں امریکہ کا سب سے بیش قیمت اثاثہ ختم کر دیا۔

“ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے القاعدہ کے کارکن الیاس کاشمیری کو اس منصوبے کا ممکنہ منصوبہ ساز بتایا۔ 2011 ء میں الیاس کاشمیری ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔ بعض مبصرین کی اس رائے کو جانے کیوں تجزیہ کار اہم نہیں سمجھتے کہ پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام برقرار رکھ کر دراصل امریکہ ایسی فضا بنا رہا ہے کہ وہ ایٹمی اثاثوں کے متعلق اپنی مرضی مسلط کرسکے۔ بلاول بھٹو زرداری امریکہ جاتے ہیں تو ایک تاثر ان کی جماعت بناتی ہے کہ انہیں امریکی اسٹیبلشمنٹ نے مستقبل کے حکمران کے طور پر مدعو کیا ہے۔

بلاول خود بھی ایسے بیانات جاری کرتے ہیں اور حکومتی ترجمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حکومتی ترجمان اور بلاول بھٹو زرداری دونوں اصل بات عوام کے سامنے نہیں لاتے اس لیے یہ معاملہ عجیب ’بے تکی اور مضحکہ خیز بیان بازی کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو امید تھی کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ایک جمہوری نظام لایا جائے گا اور پیپلز پارٹی جمہوریت کے حوالے سے اپنی ساکھ کو پیش کر کے امریکہ سے کچھ وعدے اور رعایتیں حاصل سپل برگ گی۔

بلاول بھٹو نے ستمبر میں امریکہ جانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے وعدہ کر رکھا ہے کہ ستمبر میں وہ امریکہ میں اپنی مصروفیات سے متعلق آگاہ کریں گے لیکن طالبان نے صورت حال بدل دی ہے۔ امریکہ سے رابطے ممکن ہے کسی وقت کام آ جائیں لیکن سردست خطے میں امریکی اثر و رسوخ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا محتاج دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو اپنی شرائط پر انگیج کر لیا ہے۔ امریکی مفادات کے لیے خطرہ نہ بننے کی یقین دہانی طالبان نے پاکستان کے ذریعے کرا دی ہے۔ سی آئی اے اہلکار بے نظیر بھٹو سے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اس صورت میں بلاول کی ذاتی ”مصروفیات، سے فوری طور پر کوئی فائدہ کشید کرنا پیپلز پارٹی کے لئے ممکن نہیں رہے گا ہاں یہ احتمال رہے گا کہ سی آئی اے جیسی تنظیم کوئی نیا ہنگامہ کھڑا نہ کر دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words