یہ گائے مزید دودھ نہیں دے گی

وہائٹ ہاؤس کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ معاملات کا فوکس افغانستان سے ہٹا کر دوسرے امور کی طرف لانا چاہتی ہے۔ یہ اشارہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ افغانستان سے انخلا اور اس حوالے سے رونما ہونے والی بدترین بدانتظامی کے باوجود صدر بائیڈن اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مسلسل اس فیصلہ کو اپنی حکومت کا کارنامہ قرار دے رہے ہیں ۔ جبکہ مبصرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ یہ جو بائیڈن کی صدارت کا پہلا اہم اور شاید سب سے بڑا بحران ہے۔
امریکی حکومت کو اندازہ ہے کہ اس معاملہ پر تنقید اور مباحث کو محدود نہیں کیا جاسکتا لیکن میڈیا میں روزانہ کی بنیاد پر تماشہ بننے والی صورت حال کو متبادل خبروں سے تبدیل کرکے کم از کم عوام کی توجہ ان امور کی طرف مبذول کی جاسکتی ہے جس سے حکومت کی کامیابی اور صدر بائیڈن کی سیاسی فراست کا پہلو نمایاں ہوتا ہو۔ یہ اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی قیادت جب کسی غلط معاملہ کا حقائق و دلائل کے ساتھ دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہو تو وہ اس غلطی کے منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اس غلطی سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔ کچھ ایسی ہی کوشش کانگرس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بھی ہورہی ہے۔
یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ افغانستان پر بیس سالہ جنگ کے بھیانک انجام پر سینیٹ میں بحث کی جائے اور حکومت کی نااہلی اور کمزوری کو عیاں کیا جائے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو اگرچہ سینیٹ میں معمولی برتری حاصل ہے لیکن اسے یہ بھی بخوبی اندازہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے معاملہ پر اگر سینیٹ کمیٹی غور کرتی ہے تو نہ تو میڈیا کو اس سے دور رکھا جاسکے گا اور نہ ہی ری پبلیکن پارٹی کی تند و تیز تنقید کا مناسب جواب دینا ممکن ہوگا۔ اس لئے کوئی ایسا طریقہ تلاش کرنے کی کوشش ہورہی ہے کہ اگر یہ بحث ہو تو اسے کم سے کم فوکس ملے اور معاملہ کو چند روز ہی کے اندر سمیٹا جاسکے۔ کانگرس کے ڈیموکریٹک ارکان اگلے سال مڈ ٹرم انتخابات کی مہم میں افغانستان کی جنگ اور وہاں سے انتہائی شرمندگی اور افراتفری میں ہونے والے انخلا کے معاملہ پر اٹھنے والے سوالات اور ان پر عوامی ناراضی کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لئے کسی بھی طرح اس سیاسی نقصان سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے جارہے ہیں۔
پاکستان کو بھی اس صورت حال سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان نے پہلے سوویت فوج کے خلاف جہاد منظم کرنے اور وہاں امریکی حمایت یافتہ عناصر کو سرخرو دکھانے کے معاملہ میں معاشی و سیاسی فائدہ حاصل کیا۔ سابق فوجی آمر ضیاالحق کو ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب مقبول حکومت کا تختہ الٹنے اور اپریل 1979 انہیں پھانسی پر چڑھانے کی وجہ سے پوری دنیا میں شدید سفارتی تنہائی کا سامنا تھا تاہم اسی سال دسمبر میں افغانستان میں سوویت افواج کی مداخلت اور اس کے خلاف افغان مجاہدین کو منظم کرنے کے منصوبہ نے ضیاالحق کو عالمی لیڈر بنا دیا ۔ اگست 1988 میں ایک فضائی حادثہ میں اپنی ہلاکت تک ضیا الحق نہ صرف ملک پر ناجائز طور سے حکمرانی کرنے میں کامیاب رہے بلکہ امریکہ اور عرب ممالک کے مالی تعاون سے پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔
افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے بحران میں پاکستان کو وقتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن طالبان کی صورت میں افغانستان میں ایک نئی عسکری قوت کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اس طرح افغانستان کو پاکستان کے لئے تزویراتی طور سے ’محفوظ‘ ملک بنا لیا گیا۔ اسی دوران سوویت فوجوں کے خلاف جہادی تجربہ کو مقبوضہ کشمیر میں آزمانے کے منصوبوں کا آغاز بھی ہؤا اور متعدد عسکری گروہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جہاد منظم کرکے بھارت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ بعد میں یہ عسکری گروہ پاکستان کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے اور ان کی وجہ سے عالمی طور سے پاکستان کو دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ البتہ نائن الیون کے بعد جب صدر جارج بش نے اس دہشت گردی کا انتقام لینے کے لئے افغانستان پر حملہ کی ٹھان لی تو ایک بار پھر پاکستان ایک فوجی آمریت کے چنگل میں تھا۔ ایک منتخب وزیراعظم کو معزول اور جلاوطن کرنے کی وجہ سے پرویز مشرف کو شدید سفارتی تنہائی اور پاکستان کو اقتصادی مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے میں بش حکومت کا ’تم ہمارے ساتھ ہو یا دشمن ہو‘ والا پیغام گویا پرویز مشرف اور پاکستان کے لئے حیات نو کا پیغام ثابت ہؤا۔
بعد از وقت اس معاملہ پر خواہ کیسی ہی بحث کی جائے اور جیسا بھی دعویٰ کیاجائے کہ پاکستان جیسا ملک امریکہ جیسی عالمی طاقت کے مقابلے پر کھڑا نہیں ہوسکتا تھا یا یہ کہ اس وقت امریکی جنگ کا حصہ بن کر سنگین غلطی کی گئی جس کا نقصان پوری قوم اب تک بھگت رہی ہے۔ لیکن سچائی یہی ہے کہ نہ تو پرویز مشرف کے پاس امریکہ کا ساتھ دینے کے سوا کوئی چارہ تھا اور نہ ہی وہ ایسی کوئی خواہش رکھتے تھے۔ وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان میں اپنا اقتدار مستحکم کرنا چاہتے تھے اور اس کے لئے ضیاالحق کی طرح انہیں بھی معاشی سہارے کی ضرورت تھی۔یہ سہارا امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا قریب ترین حلیف بنا کر فراہم کردیا۔ امریکہ کا حلیف بننے کے بعد پاکستان پر عنایات کی بارش ہونے لگی اور اس کی عسکری و معاشی امداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ اسی معاشی سہارے نے مشرف حکومت کے ہاتھ مضبوط کئے اور وہ نو برس تک ملک پر اپنا اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔
اس پوری مدت میں افغانستان کو پاکستان کی تزویراتی گہرائی قرار دیتے ہوئے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے چند ماہ پہلے افغانستان میں امن اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سرکاری طور پر اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے اس پاکستانی منصوبے یا خواہش کا اعتراف بھی کیا اور اسے غلط حکمت عملی بھی قرار دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کے نتیجہ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات بڑی تفصیل سے پاکستانی عوام کو از بر کروائی جاتی ہیں اور امریکیوں کو بتایا جاتا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن کبھی ان مراعات، امداد اور معاوضہ کا ذکر نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی ان کا حساب دیا گیا ہے جس کا حجم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول 35 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے ۔ ٹرمپ نے ہی یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ پاکستانی لیڈر امریکی ڈالر بھی لیتے رہے اور اسے دھوکہ بھی دیتے رہے تھے۔
اس سال 15 اگست کو کابل سے امریکی و اتحادی افواج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد پاکستان ایک بار پھر ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ بظاہر طالبان کے معاملہ پر پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ ہے لیکن اس کے وزیر خارجہ طالبان کو تسلیم کرنے اور وہاں معاشی منصوبے جاری رکھنے کی دلیل دینے میں بھی کسی بخل سے کام نہیں لیتے۔ عوامی سطح پر طالبان کی کامیابی کا جشن منایا جارہا ہے ۔ ملک میں اسے دولت و وسائل کے مقابلے میں قوت ایمانی کی فتح قرار دینے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ابھی تک افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ نہ تو پاکستان اب مزید افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی طالبان کی نیت پر ویسے شبہ کا اظہار کرتا ہے جس کا اظہار مغربی ممالک کی طرف سے سننے اور دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ پاکستانی زعما طالبان اور دنیا کے درمیان پل بننے کے کسی منصوبے پر غور کررہے ہوں جس میں عوامی بہبود کے منصوبوں کے لئے پاکستان کلیدی کردار ادا کرے۔ ایسی کوئی ترکیب ایک بار پھر پاکستان کو ’اہم ‘ بنا سکتی ہے۔
تاہم ایسے کسی منصوبہ کی کامیابی کئی وجوہات کی وجہ سے ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایک تو پاکستان خود یہ اعتراف کرتا ہے کہ طالبان اس کی بات نہیں سنتے۔ دوسرے طالبان نے دوحہ کو سفارتی مرکز بنا کر دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پرانےاور نئے طالبان میں اگر کوئی دکھائی دینے والی تبدیلی نوٹس ہوئی ہے تو وہ عالمی سفارت کاری میں ان کے براہ راست روابط اور تعلقات کی نوعیت سے عیاں ہے۔ اب وہ دنیا کے ساتھ معاملات میں پاکستان کے محتاج نہیں ہیں۔ اس لئے یہ قیاس کرنا درست نہیں ہوگا کہ دنیا طالبان سے براہ راست معاملات کرنے کی بجائے پاکستان کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب آج دو روزہ دورہ پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ افغانستان کے معاملہ پر بات چیت کریں گے لیکن وہ لندن سے براہ راست اسلام آباد نہیں آئے بلکہ دوحہ میں قطری حکام کے علاوہ طالبان لیڈروں سے ملاقات کے بعد پاکستان کے دورے پر پہنچے ہیں۔ دوحہ میں ہی ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے طالبان کے حوالے سے برطانیہ کے چار نکاتی پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ افغانستان کے معاملہ میں پاکستان کی ’خصوصی حیثیت ‘ اب کمپرومائز ہوچکی ہے۔ اب پاکستان کو اپنے سفارتی ، معاشی و سیاسی معاملات کو افغانستان سے ہٹ کر دیکھنے اور طے کرنے کی کوشش کرناہوگی۔ وہائٹ ہاؤس نے افغانستان کو پس پشت ڈالنے کی جس حکمت عملی کا اشارہ دیا ہے، اس میں پاکستان کے لئے سیکھنے کا یہی سبق ہے۔ اب حکومتی کامیابی کا جائزہ اس بات سے لیا جائے گا کہ وہ عوامی بہبود کے کون سے منصوبے مکمل کرپاتی ہے ۔ اور افغانستان سے ہٹ کر دنیا کو پاکستان کی اہمیت و ضرورت کا کیوں کر احساس دلایا جاتا ہے۔
پاکستان کو جلد یا بدیر جاننا ہوگا کہ افغانستان نام کی جو گائے چار دہائیوں تک اس کی معاشی سہولت کا سبب بنی تھی ، اب وہ مزید دودھ نہیں دے گی۔ متبادل راستے تلاش کرنا ہی ایک کامیاب حکومت اور زندہ قوم کا طریقہ ہوتا ہے۔ اسی طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے ’کامیاب پاکستان پروگرام‘ کے تحت 1600 ارب روپے بلاسود قرضے تقسیم کرنے کے منصوبہ کو اب محدود ’پائلٹ منصوبہ‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیوں کہ وہ جان گئے ہیں کہ یہ پرجوش سیاسی منصوبہ نہ تو آئی ایم ایف کو قبول ہے اور نہ ہی ملکی معیشت اس کا بوجھ برداشت کرسکتی ہے۔ پاکستان کی افغان پالیسی کو بھی ایسے ہی ’سرجیکل آپریشن‘ کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words