انڈیا میں توہم پرستی: ریاست مدھیا پردیش میں ’بارش کے لیے رسم‘ میں کم عمر لڑکیوں کی برہنہ پریڈ

مدھیا پردیش
Getty Images
فائل فوٹو
انڈیا کے ایک گاؤں میں بارش کے لیے ایک رسم میں چھ کم عمر لڑکیوں کو برہنہ پریڈ کروائی گئی ہے۔ یہ واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے قحط سالی کا شکار خطے بندیل کھنڈ میں موجود ایک گاؤں میں پیش آیا۔

ریاست مدھیا پردیش کا بندیل کھنڈ علاقہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی خشک سالی کا شکار ہے۔ اس سے دھان کی فصل پر کافی اثر ہوا ہے جس سے پریشان ہو کر گاؤں والوں نے مبینہ طور پر یہ قدم اٹھایا۔

اس قبائلی علاقے میں مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ رسم بارش کے دیوتا کو خوش کرے گی اور علاقے میں بارش برسنے کا سبب بنے گی۔

سوشل میڈیا پر شائع کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ طور پر یہ کم عمر برہنہ لڑکیاں کندھوں پر لکڑی کا ایسا ٹکڑا اٹھائے پریڈ کر رہی ہیں جس کے ساتھ ایک مینڈک بندھا ہوا ہے۔

انڈیا میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم نیشنل کمیشن نے ضلع داموہ کی انتظامیہ سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ مدھیا پردیش پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں تاحال اس واقعے کے بارے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

داموہ کے سپرانٹینڈینٹ پولیس ڈی آر تینیوار نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ ’اگر ہماری تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ ان لڑکیوں کو برہنہ پریڈ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔‘

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکیاں جن میں سے کچھ مبینہ طور پر پانچ برس کی ہیں، ایک جلوس کی صورت میں چل رہی ہیں اور ان کے پیچھے خواتین کا گروہ نغمے گا رہا ہے۔

یہ جلوس گاؤں کے ہر گھر کے باہر رکا جہاں سے ان لڑکیوں کو کھانے کی اشیا دی گئیں جسے بعد میں ایک مقامی مندر کے کمیونٹی باورچی خانے کو عطیہ کر دیا گیا۔

مدھیا پردیش

Getty Images
فائل فوٹو

انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) سے گاؤں کی ایک خاتون نے کہا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اس کی وجہ سے بارشیں آئیں گی۔‘

ضلع داموہ کے کلکٹر ایس کرشنا چیٹنیا کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے والدین نے نہ صرف انھیں اس رسم میں شریک ہونے کی اجازت دی تھی بلکہ اس رسم میں شرکت بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مندرا بیدی: ہندو عقیدے میں چتا جلانے کی رسم اور خواتین کی موجودگی

انڈیا میں چھ سال کے ’شدت پسند‘ بچے

سندھ کے کالی داس ڈیم کا نام بدل کر ستی ہونے والی رانی بھٹیانی کے نام پر کیوں رکھا گیا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طرح کے واقعات کے بعد انتظامیہ عام طور پر گاؤں کے باسیوں کو اس طرح کی توہم پرستیوں کے بے نتیجہ ہونے کے بارے میں ہی آگاہ کر سکتی ہے اور انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کر سکتی ہے کہ ان کوشش کے کوئی نتائج سامنے نہیں آتے۔‘

انڈیا میں زراعت کا دارومدار مون سون کی بارشوں پر ہوتا ہے اور اکثر خطوں میں بارش کے خداؤں سے منسلک ایسی رسمیں موجود ہیں جو مقامی رسم و رواج کے حساب سے تبدیل ہوتی ہیں۔

کچھ برادریاں یاگنا (ہندوؤں کی آتش کی رسمیں) منعقد کرواتی ہیں جبکہ کچھ مینڈکوں کی شادیاں کرواتے ہیں یا گدھوں یا بارش کے خداؤں کی پزیرائی کے لیے جلوس نکالتے اور نغمے گاتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی رسمیں عام طور پر عام آدمی کی توجہ مشکلات سے ہٹانے کے لیے ہوتی ہیں لیکن ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رواج ایسے افراد کی مایوسی کا بھی پتا دیتے ہیں جن کا ماننا ہے کہ وہ مدد کے لیے کسی اور کو نہیں پکار سکتے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس رسم کے خلاف انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف اونیر نے طنز کیا کہ ’ہم کس صدی میں رہتے ہیں!!! انڈیا واقعی چمک رہا ہے۔‘

منجولیکا پرمود نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ناگوار اور پریشان کن بات ہے‘

انڈیا میں ملک کی عالمی رہنمائی یا ‘سپر پاور’ بننے کی اکثر بات ہوتی ہے۔ اس حوالے سے سلیم بیکانروالہ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات عمومی طور پر ہونا ایک انتہائی پریشان کن بات ہے۔ انھوں نے لکھا، ’جب تک ان ‘توہم پرستانہ’ رسومات کو ختم نہیں کیا جاتا انڈیا کبھی بھی ‘وشو گرو’ نہیں بن پائے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words