اب تائیوان اور جنوبی کوریا کا کیا ہوگا؟


بیس سال کے بعد امریکہ کا افغانستان سے انخلا کے بعد سیاسی محاذ پر امریکہ اپنا اعتبار اور اعتماد دوست ممالک اور ان پر تکیہ کرنے والے ریاستوں میں کھو چکا ہے۔ ویتنام سے نکلنے کا داغ امریکہ افغانستان میں ان بیس سالوں کے دوران دھو ہی چکا تھا کہ اچانک دوحہ قطر میں ان ہی کے لئے دفتر کھولا جن کی حکومت بیس سال پہلے حملہ کر کے گرانے کے بعد کشت و خون کی ہولی کھیل کر افغانستان میں قبضہ کیا تھا۔ بون کانفرنس کے نتیجے میں حامد کرزئی عبوری حکومت کے سربراہ بنے، آئین بنا، حامد کرزئی اس آئین کے نتیجے میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔

امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان میں تعمیر نو کا آغاز کیا، سڑکیں، عمارتیں، ڈیمز، آمدورفت کے ذرائع، مواصلات، بینکس، آرمی، پولیس، صحت، سیاحت، سفارت ائر فورس، وغیرہ کے اپنے اپنے ادارے بن گئے۔ افغان عوام پہلی بار اپنے ملک کے اندر مغربی طرز جمہوریت سے اشنا ہوئے۔ ووٹ پارلیمنٹ اور پہلی بار اپنے ہی ملک میں افغانستان کے عوام نے حق رائے دہی کے ذریعے حکومتیں بدلتی دیکھی۔ سرد جنگ کے دوران دنیا میں مہاجر کے نام سے جاننے والے افغان اب گزشتہ بیس سالوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں ہر شعبے میں ایک افغان شہری کی حیثیت سے ماننے اور جاننے لگے۔

پھر حالات جوں جوں گزرتے گئے تو ساتھ ہی ساتھ بدلتے بھی گئے۔ اور پہلے نیٹو ممالک افغانستان سے نکلے اور پھر امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کی تاریخیں دینی شروع کیں۔ بالآخر امریکہ نے افغان حکومت سے معاہدے کے باوجود سہ فریقی مذاکرات کے بجائے صرف طالبان سے مذاکرات کیے اور اکتیس اگست کو افغانستان سے نکلنے کی ڈیڈ لائن دیدی جو اب اپنی منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔

افغانستان سے امریکہ کی انخلا کے بعد افغانستان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر چلے جانے کے بعد سیاسی تجزیہ کار اب یہ باتیں منظر عام پر لانے لگے ہیں کہ اب تائیوان اور جنوبی کوریا کا کیا ہوگا؟ کیا امریکہ ان دونوں ممالک کے ساتھ بھی ایسا ہی وتیرہ اپنائے گا یا افغانستان اور ان دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سماجی، علاقائی، نسلی، مذہبی، معاشی اور تزویراتی طور پر فرق ہے؟ ادھر چین بھی تائیوان کو روز آنکھیں دکھاتا ہے اور امریکہ کی تازہ بے وفائی اور سیاسی دغا بازی کی مثال بڑے دھڑلے سے پیش کرتے ہیں اور ان کو یہ باور دلانے کی کوشش اور تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ جن پر تم تکیہ کیے ہوئے ہو وہ کسی بھی وقت یہ سہارا تم سے کھسکا کر تمہیں زمین بوس کر سکتے ہیں۔ ادھر شمالی کوریئن تو پہلے سے جذبات اور فوجی ساز و سامان سے لدے پھندے کھڑے ہیں اور وہ ادھر جنوبی کوریا کو امریکہ کی افغانستان میں ان کی تازہ سیاسی بے رخی کا طعنہ مار رہے ہیں۔

یہ تو تھی سیاسی تجزیہ کاروں کی بات یا رائے اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا تائیوان اور جنوبی کوریا کی سیاسی لیڈرشپ اور ساتھ ساتھ عوامی اٹیلیجنشیا بھی اس طرح سوچتی ہیں؟ اس طرح کا کوئی رد عمل ان دونوں ممالک کی جانب سے اب تک کسی میڈیا پر سامنے نہیں آیا ہے اگر اس طرح کا رد عمل ان دونوں ممالک کی سیاسی قیادت اور عوامی ذہانت کی سوچ اور اپروچ سے اٹھتی ہے تو پھر یہ ان کے اور امریکہ کے لئے ایک مسئلہ ضرور کھڑا کر سکتا ہے۔

تیسری طرف امریکہ نے بھی اب تک اس سلسلے میں ایسی کوئی ذہنی یا جسمانی زبان یا اشارے کا کوئی اظہار نہیں کیا ہے جس پر کوئی پیشگی تبصرہ کیا جاسکے اب تک یہ ایک قیاس آرائی ضرور ہے لیکن اس چہ مگوئی میں کوئی خالی پن بھی نہیں ہے، اس میں ایک طرح کا وزن ہے اور وہ وزن خود امریکہ کا اپنا سیاسی اور اخلاقی کردار ہے جو ان پر انگلی کھڑی کرنے کے لئے کافی ہے۔ نیز یہ بات ذہن میں ضرور یاد رکھیں کہ سیاسی تجزیہ کار اور سیاسی و دفاعی سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے پہلے سے افغانستان کے کابل اور ویتنام کے سائیگون کے امریکہ کی انخلا کو ایک جیسے مناظر اور ایک جیسے تناظر میں دیکھا سمجھا اور پرکھا ہے جو اگر دلیل کے لئے ایک جانب کافی نہیں ہیں تو دوسری طرف سبیل نکالنے کے لئے ایک جواز کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں آنے والے حالات اور واقعات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS