سونا دنیا بھر میں ملکی ذخائر کا حصہ کیوں ہوتا ہے؟

تنویر ملک - صحافی، کراچی

گولڈ
Getty Images
دنیا کے مختلف ملکوں کے پاس سونے کے ذخائر کے لحاظ سے امریکہ سر فہرست ہے جس کے پاس 8000 ٹن سے زائد سونے کے ذخائر ہیں۔

ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے دس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر رکھنے والوں کے پاس دنیا بھر کے سونے کا تین چوتھائی حصہ ہے۔

پاکستان کے پاس سونے کے ذخائر 64 ٹن ہیں جبکے اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک انڈیا کے پاس 703 ٹن سونے کے ذخائر ہیں جو کسی ملک کے سینٹرل یا سٹیٹ بینک کے ذخائر کا حصہ ہوتے ہیں۔

دنیا کے مختلف ملکوں کے سینٹرل بینک کے ریزروز کئی اقسام کے ہوتے ہیں جن میں سونے کے علاوہ دیگر غیر ملکی کرنسیاں وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں۔

پاکستان کے سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 3.8 ارب ڈالر مالیت کے برابر سونا ذخائر میں موجود ہے اور یہ تقریباً ملک کے ریزروز یعنی مجموعی ذخائر کا 16.6 فیصد بنتا ہے۔

سونا سینٹرل بینکوں کے ذخائر کا کیوں حصہ ہوتا ہے؟

دنیا بھر میں ملکوں کے مرکزی بینکوں کے پاس جہاں ڈالر اور دوسری غیر ملکی کرنسیوں کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ سونا بھی ان ذخائر میں موجود ہوتا ہے۔

سونا ان ذخائر کا حصہ کیوں ہوتا ہے، اس کے بارے میں پاکستان کے مرکزی بینک کے سابق گورنر سلیم رضا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سونے کا، ذخائر کا حصہ ہونے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔

کرنسی

Getty Images

انھوں نے بتایا کہ ڈالر کے عالمی تجارتی کرنسی بننے سے پہلے سونے میں عالمی تجارت ہوتی تھی۔

’کسی ملک کے سونے کے ذخائر سے اس کی کرنسی جڑی ہوتی تھی تاہم ستر کی دہائی میں ڈالر نے عالمی تجارتی کرنسی کی حیثیت لے لی تاہم اس کے باوجود سونے کی افادیت برقرار رہی اور یہ آج بھی عالمی تجارت میں ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔‘

سلیم رضا نے بتایا کہ اگرچہ سونا عالمی تجارت کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے تاہم آج کے دور میں اس کی قیمت میں بہت زیادہ ردوبدل کی وجہ سے اب یہ عالمی تجارت کے لیے ایک ذریعے کے طور پر کم استعمال ہوتا ہے تاہم یہ مرکزی بینک کے ذخائر کا اہم حصہ ہوتا ہے اور آج بھی ایک قابلِ تجارت ذریعے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں معاشیات کے استاد صائم علی نے اس سلسلے میں بتایا کہ یہ بات صحیح ہے کہ سونے کے ذخائر کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور ڈالر نے اس کی جگہ عالمی تجارتی کرنسی کی جگہ لی ہے تاہم اس کی اہمیت پھر بھی برقرار ہے کیونکہ سونا ایک فزیکل اثاثہ ہے اور پیپر کرنسی کے مقابلے میں اس کی قدر آج بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔

‘اس لیے دنیا کے مختلف ممالک سونے کے ذخائر اپنے پاس رکھتے ہیں اور وہ کسی ملک کے مرکزی بینک کے ذخائر کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ سونا ایک ایسا اثاثہ ہے کہ جسے بیچ کر فوری طور پر رقم کا بندوبست کیا جا سکتا ہے کیونکہ سونے کی عالمی مارکیٹ میں اہم قدر ہے اور یہ بطور اثاثہ جلدی بیچا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا سونا ایک دھات ہے اور کوئی بھی ملک عالمی مارکیٹ سے خرید کر اپنے ذخائر بڑھا سکتا ہے۔

عارف حبیب سیکورٹیز میں معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے اس سلسلے میں بتایا کہ کسی ملک کے مرکزی بینک میں جہاں غیر ملکی کرنسیوں کی صورت میں ذخائر رکھے جاتے ہیں تو اسی طرح سونا بھی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈالر، دوسری غیر ملکی کرنسیاں اور سونا سب مل کر ایک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو دکھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سنیے! آپ کی جیب میں سونا پڑا ہے

پاکستان میں قرض کے لیے بینک میں گروی رکھا سونا کتنا محفوظ ہے؟

دنیا میں اب کتنا سونا باقی رہ گیا ہے؟

سونا

Getty Images

ملک کے پاس سونے کے ذخائر کا کرنسی نوٹوں کی چھپائی سے کیا تعلق ہے؟

کیا کوئی ملک اپنے پاس موجود سونے کے ذخائر کی مالیت کے برابر کرنسی نوٹ چھاپتا ہے؟

اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثنا توفیق نے بتایا کہ ایک دور تھا جب ایسا ہوتا تھا کہ کسی ایک ملک کے پاس سونے کے ذخائر کی مالیت کے برابر کرنسی نوٹ چھاپے جاتے تھے تاہم جب سونا مہنگا ہوتا گیا اور اسے بطور ذخائر کا حصہ بنانا مشکل ہوتا گیا تو پھر یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب کرنسی نوٹ کی چھپائی مارکیٹ میں ان کی طلب و رسد پر ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی اب یہی ہوتا ہے کہ مرکزی بینک مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر کرنسی نوٹ چھاپتا ہے۔

معاشی بحران کی صورت میں سونے کے ذخائر کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟

سابق گورنر سٹیٹ بینک سلیم رضا نے کہا کسی ملک کے سونے کے ذخائر جب بیچنے پڑ جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کے پاس بیرونی تجارت اور ادائیگیوں کے لیے اب رقم نہیں بچی۔

انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں سونا گھروں میں زیورات کی صورت میں موجود ہوتا ہے اور جب کوئی گھر بہت زیادہ معاشی مصیبت کا شکار ہو جائے اور اسے کہیں سے مالی وسائل کی امید نہ رہے تو پھر خاندانی زیورات بیچ کر مالی بحران سے نکلا جاتا ہے تاہم یہ عمل ہمارے معاشرو ں میں بہت بدشگون سمجھا جاتا ہے۔

’یہی معاملہ ملکوں کا ہے کہ جب کوئی ملک مالی بحران کی انتہا تک پہنچ جائے اور اس کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہ ہوں تو پھر سونے کے ذخائر کے ذریعے کام چلایا جاتا ہے، چاہے اس کے ذریعے بیرونی ادائیگی کی جائے یا پھر اسے بیچ کر ڈالر حاصل کر کے یہ کام کیا جائے۔‘

سونا

Getty Images

سلیم رضا نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ جب ملک کو مالی بحران اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے سونے بیچنا پڑا ہو تاہم انڈیا میں ایک بار ایسا ہوا اور اس کی وجہ سے ان کی مرکزی حکومت تک ختم ہو گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ نوے کی دہائی کے پہلے سال میں انڈیا کو اپنے مالی بحران کی وجہ سے سونا بیچنا پڑا اور اس کی وجہ سے مرکزی حکومت کے خلاف بہت زیادہ عوامی جذبات بھڑکے اور اسے جانا پڑا۔

’اس کے بعد منموہن سنگھ بطور وزیر خزانہ آئے اور انھوں نے انڈین معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا۔‘

ثنا توفیق نے بھی اس بات کی تصدیق کی کسی ملک کی جانب سے اپنے سونے کے ذخائر اس وقت ہی بیچے جاتے ہیں کہ جب کوئی اور راستہ اس کے پاس نہ ہو۔

کیا سونے کے ذخائر اس کی اندرون ملک قیمتوں کو بھی استحکام دیتے ہیں؟

دنیا بھر میں گذشتہ کئی برسوں میں سونے کی عالمی قیمتیں بہت اوپر کی سطح پر پہنچ چکی ہیں جس کا اثر پاکستان میں سونے کی مقامی قیمتوں پر بھی بہت زیادہ پڑا۔ پاکستان میں اس وقت ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

ملک میں سونے کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے مرکزی بینک کے پاس سونے کے ذخائر کے ذریعے کوئی مدد حاصل کی جا سکتی ہے؟

اس بارے میں ثنا توفیق نے کہا مارکیٹ میں سونے کی قیمت اور مرکزی بینک کے پاس سونے کے ذخائر کے درمیان کوئی ربط نہیں اور نہ ہی اس کے ذریعے سونے کی مارکیٹ میں قمیت کو مستحکم یا نیچے لایا جاتا ہے۔

’مرکزی بینک کے پاس سونے کے ذخائر بیرونی ادائیگیوں کے لیے مجموعی ذخائر کا حصہ ہوتے ہیں جبکہ سونے کی منڈی میں قیمت طلب و رسد پر منحصر ہوتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہوتا ہے اور سٹیٹ بینک کے پاس 64 ٹن سونے کے ذخائر کی مالیت 3.8 ارب ڈالر ہے اور یہ مرکزی بینک کے پاس 22 ارب ڈالر سے زائد ذخائر کا حصہ ہیں جن کا سونے کی مقامی مارکیٹ میں قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words