الیکشن کمیشن کو آگ لگانے والے بھی جمہوریت اور قانون کی بات کرتے ہیں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میں وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کی ملک کے ایک آئینی ادارے کے خلاف گفتگو اور اس کے بعد حکومت کی طرف سے شرمندگی ظاہر کرنے اور اس معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی بجائے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی قیادت میں الیکشن کمیشن پر انگشت نمائی سے صرف یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ملک میں جمہوریت کے نام پر مکمل آمریت نافذ کرنے کے مقصد میں کامیاب ہوجائے گی۔

آج وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے بعد اس بات میں اب کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ تحریک انصاف جمہوری روایت، قانونی حدود اور اداروں کی تقدیس کے کسی اصول کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جو حکومت اداروں پر تنقید کرنے والے لوگوں پر مقدمے قائم کرنے اور انہیں ملک دشمنی کے الزام میں جیلوں میں بند کرنے کا اقدام کرنا ضروری سمجھتی ہو، آج اس کے اپنے وزیر ایک ایسے ادارے کے بارے میں زہرناک بیان دے رہے ہیں جو اس ملک میں جمہوریت کی رہی سہی آبرو قائم رکھنے کی وجہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کو صرف وہ ’ادارے‘ عزیز ہیں جو آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے ملک پر ہائیبرڈ نظام مسلط کرنے کا سبب بنے ہیں جس کے نتیجے میں نام نہاد دیانت دار عمران خان کی حکومت قائم کی گئی ہے۔ عمران خان ریاستی اداروں کی کسی بے اعتدالی یا آئین شکنی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کے وزیر چئیرمین الیکشن کمیشن کے خلاف اشتعال انگیز، غیر پارلیمانی اور الزامات پر مبنی بے بنیاد باتیں کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بے توقیر کرنے کا مقصد ملک میں موجود ہ لولی لنگڑی جمہوریت کو مکمل شخصی حکمرانی کے نظام سے تبدیل کرنا ہے۔ آج پہلے اعظم سواتی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں الیکشن کمیشن کو آگ لگادینے کا اعلان کرتے ہوئے حکمران پارٹی کے عزائم کا اظہار کیا ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ الیکشن کمیشن پیسے پکڑ کر ہر انتخاب میں دھاندلی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کو ملک میں جمہوریت تباہ کرنے کا حق نہیں ہے‘۔ شاید یہ دعویٰ کرنے کی ضرورت اس لئے بھی پیش آئی ہو کہ یہ حق حکومت اور تحریک انصاف نے اپنے نام ’رجسٹر‘ کروا رکھا ہے۔ پہلے ملک کے سیاسی نظام اور پارلیمنٹ کو غیر مؤثر کیا گیا۔ ملک میں آئینی طور سے مروج نظام کے بارے میں شبہات پیدا کئے گئے اور اٹھارویں ترمیم کو قومی اتحاد، مرکز کے اختیار اور وفاقی حکومت کی ضرورتوں سے متصادم قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی۔ جب یہ واضح ہوگیا کہ ہر طرح کی دھونس و دھمکی کے باوجود حکومت کسی بھی طرح ایسی کسی آئینی ترمیم کے لئے اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو ملک کے آئینی انتظام کو صدارتی انتظام سے تبدیل کرنے کی غیر ضروری بحث کا آغاز کیا گیا۔ اس قسم کے مباحث بھی مکمل آمریت کے خواب کی تکمیل میں معاون ثابت نہیں ہوئے تو میڈیا کو کنٹرول کرنے، سنسر شپ نافذ کرنے، ہر قسم کی آزادانہ رائے کو انڈین لابی کا پروپیگنڈا کہہ کر اسے ففتھ جنریشن وار کا حصہ قرار دے کر ملک میں متوازن رائے زنی کا کوئی ہر راستہ مسدود کرنے کی کوشش کی گئی۔

اب تحریک انصاف کو لگتا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن شاید آئیندہ انتخابات میں اس کی ویسی ’خدمت‘ نہ کرسکے جو 2018 کے متنازعہ انتخابات میں سرانجام دی گئی تھی جب پورے نظام کو معطل کرکے، تحریک انصاف کو اچانک کامیاب کروانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس لئے اب اس کی توپوں کا رخ الیکشن کمیشن کی جانب ہے۔ عمران خان کی قیادت میں حکمران جماعت کے لیڈر جس لب و لہجہ میں گفتگو کرتے ہیں ، اس کا سوائے اس کے کوئی مقصد نہیں ہے کہ حکمرانوں کو ملک میں ایک پارٹی کے سوا سب پارٹیوں کو ناکارہ بنانا ہے۔ البتہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے نہ تو سپریم کورٹ سے ’حکم ‘ صادر کروایا جاسکتا ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے ذریعے ہر ناپسندیدہ جماعت اور لیڈر کو سابقہ ادوار کی طرح ’ایبڈو‘ کیا جاسکتا ہے ۔ گو کہ نوازشریف اور مریم نواز پر انتخابی سیاست میں حصہ لینے پر عدالتی پابندی کے ذریعے یہ مقصد کسی حد تک حاصل کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے ۔ کرپشن کے الزامات میں معمولی عذر کی بنیاد پر پہلے نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اور انہیں وزارت عظمی سے محروم ہونا پڑا۔ پھر اسی عدالتی بنچ کے مقرر کردہ سپریم کورٹ ہی کے جج کی نگرانی میں احتساب عدالت نے مریم نواز پر بھی انتخابی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی۔ اب تک ہائی کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ اس کے باوجود عمران خان اس بات پر ناراض رہتے ہیں کہ عدالتیں ان کے سب مخالفین کو مستقل طور سے جیلوں میں بند کرکے سیاست کرنے کے علاوہ اختلاف کے حق سے بھی کیوں محروم نہیں کرتیں۔

اب انتخابی اصلاحات کے نام پر ایسی ترامیم لانے کی شدید خواہش کا اظہار کیاجارہا ہے جس سے نہ اپوزیشن پارٹیاں متفق ہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن اس کی تائد پر تیار ہے۔ ایک روز اچانک عمران خان کو القا ہؤا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے ہی ملک میں ایسا انتخاب منعقد ہوسکتا ہے جو ہر قسم کی ’دھاندلی‘ سے پاک ہو۔ پھر اس تجویز نما حکم نامہ کے بارے میں پروپیگنڈا کا آغاز کردیا گیا۔، جب اپوزیشن نے اس پر اعتراضات اٹھائے اور بتایا کہ دنیا بھر میں اکا دکا ملک کے علاوہ کہیں پر اس نظام کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا تو انہیں جمہوریت کے علاوہ ’اصلاحات کا دشمن‘ قرار دیتے ہوئے اس بات پر اصرار جاری رکھا گیا کہ صرف الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ہی ملک میں شفاف انتخابات کی ضامن ہوسکتی ہیں۔

 عمران خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ہر قیمت پر 2023 کے مجوزہ انتخابات میں الیکٹراننگ ووٹنگ مشینوں کا استعمال یقینی بنائیں گے۔ اس دوران اپوزیشن کو یہ کہہ کر انتخابی اصلاحات پر بات کرنے کی دعوت کی جاتی رہی ہے کہ ’پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال پر اتفاق کرو‘۔ جب اپوزیشن نے اس مشروط تعاون کے جھانسے میں آنے سے انکار کیا تو اس سال 11 جون کو یہ ترمیمی تجاویز قومی اسمبلی میں بلڈوز کرواتے ہوئے منظور کروا لی گئیں۔ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس تجویز کو مسترد کردیاہے لیکن وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے 13 ستمبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر الیکٹراننگ ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی تجویز منظور کروانے کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان ان مشینوں کو مشکوک قرار دے کر واضح کرچکا ہے کہ سافٹ وئیر میں گڑ بڑ کرنا آسان ہے اور یہ مشینیں ہرگز قابل اعتبار نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف بھی ہے کہ حکومت کسی قانون کے تحت الیکشن کمیشن کو انتخابی طریقہ کار تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ الیکشن کمیشن ملکی آئین کے تحت قائم ادارہ ہے اور اسی کی روشنی میں فیصلے کرنے کا مجاز ہے۔ حکومت کو اگر الیکشن کمیشن کی باتوں سے اتفاق نہیں تو الیکشن کمشنر کے خلاف بیان بازی کرنے اور انہیں استعفی دے کر سیاست میں حصہ لینے کی دعوت دینے کی بجائے، کیا بہتر نہ ہوتا کہ حکومت ریفرنس کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرتی تاکہ اس معاملہ پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت آئین کی روشنی میں متعلقہ قانون یا اس میں لائی جانے والی ترامیم کے بارے میں حتمی فیصلہ صادر کردیتی؟ تاہم حکومت جب الیکشن کمیشن کو بدعنوان اور الیکشن کمشنر کو ’اپوزیشن کا ’ماؤتھ پیس‘ قرار دینے پر اتر آئے تو جان لینا چاہئے کہ اس کے پاس نہ تو سیاسی دلیل ہے اور نہ ہی اس کی قانونی پوزیشن مضبوط ہے۔

موجودہ الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو وزیر اعظم عمران خان کے مشورے پر صدر عارف علوی نے گزشتہ سال جنوری میں پانچ سال کے لئے اس عہدے پر مقرر کیا تھا۔ وزیر اعظم چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانبداری پر اٹھنے والے اعتراضات کا ہمیشہ یہی جواب دیتے ہیں کہ انہیں تو سابقہ حکومت نے مقرر کیاتھا۔ تاہم اب حکومت اپنے ہی مقرر کئے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کی دیانت داری اور غیر جانبداری کو مشکوک قرار دے رہی ہے۔ فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ان کے زیر انتظام انتخابات مشکوک ہوں گے۔ حکومت کو موجودہ صورت حال میں یہ اندیشہ بھی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر حکومتی تجویز پر اعتراض اٹھانے والا چیف الیکشن کمشنر کہیں آئیندہ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہی نہ سنا دے۔ اس معاملہ میں عمران خان سمیت حکمران جماعت کی اعلیٰ ترین قیادت نااہل ہوسکتی ہے۔

 الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف حکومت کی جارحانہ حکمت عملی ایک ادارے کی کسی غلطی کے بارے میں کسی تشویش کا اظہار نہیں ہے بلکہ یہ ملکی انتخابی نظام کو یرغمال بنانے اور آئیندہ انتخابات میں من پسند نتائج کو یقینی بنانے کی شرمناک خواہش کا اعلان ہے۔ حکومت کے پاس الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا آئینی راستہ موجود ہے لیکن اسے علم ہے کی ایسےکسی ریفرنس کا نتیجہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کئے گئے ریفرنس سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس لئے سیاسی ’غنڈہ گردی‘ سے ایک اہم آئینی ادارے کے اراکین اور سربراہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ حکومتی طاقت کا ایسا ناروا استعمال کسی بھی جمہوری نظام میں ناقابل قبول ہے۔

عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو نوٹ کرلینا چاہئے کہ جمہوری طریقے اور آئینی انتظام کو نقصان پہنچا کر وہ اسی شاخ کو کاٹنے کا اہتمام کریں گے جس پر ان کا آشیانہ ہے۔ یہ اقدام اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسا ہے۔ اس سے وقتی فائدہ تو شاید اٹھالیا جائے لیکن ایک جمہوری طریقے سے اقتدار میں آنے والا ٹولہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح ہمیشہ کے لئے ملکی اقتدار پر تسلط حاصل کرلے گا تو یہ دیوانے کا خواب ثابت ہوگا۔ حکومت نے اگر عقل کئے ناخن نہ لئے تو اس تنازعہ سے عمران خان کا یہ خواب بھی منتشر ہوسکتا ہے کہ وہ ملکی تاریخ میں اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے والے پہلے وزیر اعظم بن جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words