اگاتھا کرسٹی: جب دنیا کی مشہور جاسوسی ناول نگار خاتون برصغیر پہنچیں اور انڈیا میں کسی کو خبر نہ ہوئی

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

ذرا سوچیے کہ دنیا کی سب سے مشہور خواتین میں سے ایک دو ہفتوں تک ایک ملک کے دورے پر جاتی ہیں مگر وہاں کی پریس کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی!

سوشل میڈیا کے دور میں تو ایسا تصور بھی کرنا ممکن نہیں جب مشہور شخصیات اور اداکاروں سے لے کر مصوروں اور لکھاریوں کی بھی پل پل کی خبر انٹرنیٹ پر موجود ہوتی ہے۔

تاہم سنہ 1960 میں کچھ ایسا ہی ہوا تھا جب جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ اگاتھا کرسٹی اپنے شوہر کے ساتھ برصغیر کے دورے پر آئیں۔

انھوں یہ سفر ’مسز میلووان‘ کے نام سے کیا تاکہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی ناول نگار اُن کے ملک میں موجود ہیں۔ انڈیا میں تو اُن کا یہ منصوبہ کامیاب رہا اور کسی کو شک نہیں ہوا کہ میوزیم اور دیگر تاریخی مقامات کا دورہ کرنے والی ’بُڑھیا‘ دراصل اگاتھا کرسٹی ہیں۔

لیکن پاکستان پہنچنے کے بعد ان کا راز فاش ہو گیا اور اس کی وجہ بنی ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ کے مدیر اجمل حسین کی اُن سے کراچی کی ایک محفل میں ہونے والی حادثاتی ملاقات۔

اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔

سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔

میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔

وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔

آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔

اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔

اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘

شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔

السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ہمالیہ کے پراسرار تفریحی مقام پر قتل: اگاتھا کرسٹی کی کہانی بالی وڈ میں

ابن صفی، جن کی قوّتِ تخلیق کسی سائنسدان سے کم نہ تھی

’بِگ برادر‘ آپ سب کی جاسوسی کر رہے ہیں

السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔

وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

اگاتھا کرسٹی

Getty Images

اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘

اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔

اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔

’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘

اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘

جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘

اگاتھا کرسٹی

Getty Images

کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔

انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔

ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔

انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

سہیل اقبال کے اس بیان کی اب تک کوئی تردید یا تائید نہیں ہو سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words