دوسری عالمی جنگ: ڈنکرک کے فراموش کردہ ہندوستانی فوجی جن میں بانی پاکستان کے فوجی معاون بھی شامل تھے

سدھا جی تلک - دہلی

Leave party at Woking Mosque, 10 May 1940. Major Akbar is in the centre, in uniform, bareheaded. He has written in the names of many of the soldiers
Private collection
میجر اکبر خان، مرکز میں جو اپنے گنج کی وجہ سے نمایاں ہیں، دیگر ہندوستانی فوجیوں کے ہمراہ
دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈنکرک سے اتحادی افواج کا انخلا ایک اہم اور قابل ذکر لمحہ تھا، جو زیادہ مشہور نہیں ہے۔ اسی انخلا کی کہانی میں تقریباً 300 ہندوستانی فوجیوں کے ایک دستے کا واقعہ بھی شامل ہے۔

جرمن فوج کے فرانس پر حملے کے تناظر میں مئی 1940 میں اتحادی افواج کی جانب سے اپنے تین لاکھ سے زیادہ فوجیوں کا فرانسیسی بندرگاہ کے شہر ڈنکرک کے ساحل سے انخلا کیا گیا تھا۔ انخلا کا یہ عمل نو دن میں مکمل ہوا تھا۔

فرانس سے انخلا کیے جانے والے یورپی فوجیوں میں ایک ہندوستانی افسر، میجر محمد اکبر خان بھی شامل تھے۔

میجر اکبر کی قیادت میں 300 ہندوستانی اور 32 برطانوی فوجی توپ خانے کی بمباری سے تباہ شدہ بندرگاہ کے قریبی قصبے مشرقی مول پہنچے تھے، یہ تقریباً ایک میل لمبی لکڑی کی جیٹی تھی، جسے ڈنکرک کے انخلا کے واقعے پر سنہ 2017 میں بنائی گئی کرسٹوفر نولان کی معروف فلم ’ڈنکرک‘ میں دکھایا گیا ہے۔

لگ بھگ چھ فٹ کی قد و قامت والے یہ فوجی افسر (میجر اکبر خان) دوسری عالمی جنگ کے بعد ہندوستان واپس آ گئے تھے۔ اور جب اگست 1947 میں برطانوی حکمران ہندوستان کے بٹوارے کے بعد یہاں سے چلے گئے تو نئی ریاست یعنی پاکستانی فوج میں میجر اکبر خان کو ایک سینئر افسر بنا دیا گیا۔

بعد ازاں میجر اکبر بانی پاکستان محمد علی جناح کے فوجی معاون مقرر ہوئے۔ میجر اکبر نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھیں اور چین کے دورے کے دوران انھیں چیئرمین ماؤ سے ملاقات کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

برطانوی مورخ جی بومین کے مطابق میجر اکبر، جنھیں دیگر ہندوستانی فوجیوں سمیت ڈنکرک سے نکالا گیا تھا، انھیں اکثر مؤرخین مکمل طور پر بھول چکے ہیں۔ بومین نے پانچ سال پانچ ممالک میں گزارے، خاندانی البموں سے گمشدہ آرکائیوز اور تصاویر کا سراغ لگایا اور ان بھلا دیے گئے فوجیوں کی اولادوں سے بات کی۔

ہندوستانی فوجیوں کا تعلق 25 ویں اینیمل ٹرانسپورٹ کمپنی (رجمنٹ) سے تھا، جنھوں نے برطانوی فوج کی مدد کے لیے اپنے خچروں کے ساتھ سات ہزار میل کا سفر طے کیا تھا۔ ان میں چار فوجیوں کے علاوہ باقی سب مسلمان فوجی تھے۔

Hexley and Ashraf ‘swinging along Broad St’ in Birmingham, summer 1941

Private collection
ہندوستانی فوجی سنہ 1941 میں برطانوی شہر برمنگھم میں مارچ کر رہے ہیں

اس رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فوجی خاکی وردی، ٹن ہیلمٹ، ٹوپیاں اور پگڑیاں پہنتے تھے۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، کیونکہ فرانس میں آنے سے چھ ماہ قبل جب وہ پنجاب سے نکلے تھے تو انھیں اس وقت کوئی اسلحہ نہیں دیا گیا تھا۔

فرانس میں سخت سردیوں میں برطانوی فوج کو سامان لے جانے کے لیے موٹر سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ خچروں کی ضرورت تھی۔ لیکن چونکہ برطانوی فوجیوں کے پاس ’جانوروں کو سنبھالنے کی مہارت‘ نہیں تھی اس لیے ہندوستانی فوجیوں کو ان کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

دولت مشترکہ سے تقریباً پچاس لاکھ فوجی دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے تقریبا نصف کا تعلق جنوبی ایشیا سے تھا۔ ڈنکرک میں ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ کیا ہوا یہ واضح نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ریلیکس میجر، گولی مت چلانا‘: 12 اکتوبر کی یادیں

14 جولائی تا 11 ستمبر 1948: محمد علی جناح کی زندگی کے آخری 60 دن

اقوام متحدہ میں جنرل ضیا کے خطاب سے قبل تلاوت قرآن ہوئی تھی یا نہیں؟

مسٹر بومن، جنھوں نے حال ہی میں اپنی کتاب ’دی انڈین کنٹینجینٹ: دی فارگاٹن مسلم سولجرز آف دیوار آف ڈنکرک‘ لکھی ہے، کہتے ہیں کہ ’ان فوجیوں اور ان کے ساتھیوں کی کہانی دوسری عالمی جنگ کی عظیم کہانیوں میں سے ایک ہے۔‘

مثال کے طور پر چودھری ولی محمد کو لے لیں جنھوں نے بعد میں کہا کہ ’جرمن طیارے خوفناک پرندوں کی طرح تھے جو ہر وقت ہمارے سروں پر منڈلاتے رہتے۔۔۔۔ میں 15 دن تک سو نہیں پایا۔‘ چودھری ولی اور اُن کا دستہ 23 مئی کو ڈنکرک پہنچا تھا۔

‘ہم نے نہیں سوچا تھا کہ ہم ڈنکرک سے زندہ نکل پائیں گے۔۔۔ ہر جانب آگ لگی ہوئی تھی۔ پورا ڈنکرک جل گیا تھا۔ ہر جگہ آگ ہی آگ تھی جو کہ رات کے وقت بھی شہر کو دن کی روشنی کی طرح روشن رکھے ہوئے تھی۔۔۔‘

’جس جہاز پر ہمیں سوار ہونا تھا وہ ڈوب گیا تھا۔ ہم ساحل پر اترے اور دیکھا کہ جہاز ڈوب گیا ہے، اس کے بعد ہمیں واپس جنگل کی طرف بھاگنا پڑا۔‘ دو روز بعد محمد اور ان کے ساتھیوں کو وہاں سے بچا کر نکال لیا گیا تھا۔

اس کے بعد جمعدار مولا داد خان تھے جن پر جب زمین سے توپ خانے نے گولہ باری کی اور ہوائی بمباری ہوئی تو انھوں نے اپنے سپاہیوں اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ’شاندار جرات، حاضر دماغی اور درست فیصلے‘ لیے جس پر انھیں بعد میں ایک اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

مسٹر بومن نے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستانی فوجیوں کی اہمیت اس جنگ میں زیادہ تعداد میں شریک ہونا ہے۔ یہ تو ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ یہ لوگ برطانوی امپائر کے شہری کی حیثیت سے اپنے مولوی کی معیت میں پگڑی پہنے وہاں موجود تھے۔ دنیا کو ان کے بارے اور زیادہ گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

Kundan Lall, Herbert Foster, Betty Foster and three unidentified sepoys at the Fosters’ house near Shirley, autumn

Private collection
برطانیہ میں شرلی کے قصبے میں ایک گھر پر موجود ہندوستانی فوجی

ان افراد نے سنہ 1940 کا بیشتر حصہ شمالی فرانس کے ایک گاؤں میں گزارا تھا، جو کہ لیل شہر کے بالکل شمال میں تھا۔ سخت سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ بہت زیادہ ورزش کرتے اور اپنے خچروں کو خوب چارہ کھلاتے۔

انھوں نے مقامی دیہاتیوں سے ملاقاتیں کیں، دلکش پر ہجوم سامعین کو وہ ’ہفتہ وار جم خانوں‘ میں وہ اپنے خچروں کی پشت پر بیٹھ کر کرتب دکھاتے اور بھنگڑا ڈانس کرتے۔

مسٹر بومن کہتے ہیں کہ مئی میں حالات اُس وقت تیزی سے تبدیل ہوئے جب جرمنوں نے فرانس پر حملہ کیا، اور ’دو ہفتوں کے اندر اندر ایک اچھی طرح سے ترتیب دی گئی، نظم و ضبط والی، کثیر قومی فوج کا حصہ بننے والے یہ دستے ساحل پر افراتفری کی حالت میں پسپا ہو رہے تھے۔‘

مؤرخ بومن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی انگلش چینل کے سامنے کے ساحلی شہر، ڈوور پہنچنے پر انھوں نے پنجابی لوک موسیقی بجائی، جس پر ’بہت سے برطانوی تماشائیوں نے رقص کیا۔‘

ڈوور بندرگاہ پر ان کا برطانوی لوگوں نے والہانہ استقبال کیا اور ان کی نقل میں بنائے گئے کھلونا سپاہیوں کا ایک سیٹ ان کو پیش کیا گیا۔

ان کی زندگی بدل گئی تھی جب انھوں نے ہندوستان سے برطانیہ اور فرانس کے دیہاتوں اور شہروں کا سفر کیا یہاں تک کہ وہ جنگ کے خاتمے کے بعد اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔ کچھ کو جرمنوں نے پکڑ لیا اور انھیں فرانس، جرمنی، اٹلی اور پولینڈ میں جنگی کیمپوں میں قید رکھا گیا۔

Types Of Indian Soldiers Being Inspected By Their Officer. This series of pictures were taken of the B.E.F Indian troops

Hulton Deutsch/Getty Images
ڈنکرک سے تقریباً 300 ہندوستانی فوجیوں کا انخلا ہوا تھا

پھر ان فوجیوں کی خدمات کو بعد میں لکھی گئی کتابوں اور بنائی گئی فلموں میں کیوں بُھلا دیا گیا جنھیں دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے اپنی سنہ 1940 کی ایک مشہور تقریر میں ’نجات کا معجزہ‘ کہا تھا؟

مسٹر بومین کے مطابق، شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ (ہندوستانی فوجی) ’سپلائی کے کاموں میں شامل تھے، اور فرنٹ لائن لڑائی میں شریک نہیں تھے، اور عموماً اس طرح کی امداد دینے والے دستوں کو کم ہی یاد کیا جاتا ہے۔‘

مسٹر بومن کا کہنا ہے کہ ’عوامی یادداشت اور لوگوں کا بھول جانا ایک بہت ہی دلچسپ عمل ہے، اس کی تمام وجوہات کی نشاندہی کرنا کافی مشکل ہے۔‘

ان کے مطابق ’جنگ کے بعد کا ماحول یورپ اور ہندوستان میں بہت مختلف تھا۔ یورپ میں فزیکل انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور نئے معاشروں کی تشکیل کی ضرورت تھی۔ توجہ مستقبل پر تھی اور جنگ کے حوادث کے ذکر کو ایک جانب دھکیل دیا گیا اور یہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئے جن کے ذہنوں میں یہ ساری جنگ سفید فاموں اور آسودہ لوگوں کی جنگ تھی۔‘

بومین کہتے ہیں کہ ’(دوسری جانب ) ہندوستان میں آزادی اور تقسیم کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں اور یہی اُن کی ترجیح تھی۔ تاریخ ہمیشہ ایک متحرک اور نت نئے پہلوؤں کو نمایاں کرنے کا عمل ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words