زرگل کا استعمال اور اس کے فوائد



مصنفین: ڈاکٹر عبدالطیف، سینئر ڈائریکٹر آؤٹ ریچ، ڈاکٹر مہوش رحمان ڈپٹی ڈائریکٹر آؤٹ ریچ انچارج سدرن زون، اینڈ سارہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آؤٹ ریچ، زراعت ریسرچ خیبر پختونخوا

تعارف

مکھیاں مختلف پھولوں سے مختلف رنگ اور سائز کے زرگل اپنے پاؤں سے اکٹھا کرتی ہیں۔ جو مختلف عوامل اور غذائیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ زرگل مکمل طور پر ایک قدرتی مرکب ہے۔

زرگل مکھی کی چھتے سے اکٹھا کیا جاتا ہے جو کہ ایک گولے کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ کارکن مکھی forger bees پھولوں سے اکٹھا کرتی ہیں اور پھر چھتے میں لاتی ہے جو کہ ان کے لئے خوراک کا کام کرتی ہیں۔ اس میں شکر، پروٹین، معدنیات اور وٹامننز، فیٹی ایسڈ اور دیگر اجزاء کا کچھ فیصد حصہ شامل ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ مکھی کے زرگل کو بہت ساری غذائی اجزاء کی وجہ سے سپر فوڈ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں لوگ زرگل قدرتی علاج معالجے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ جس میں اینٹی سوزش، اینٹی مائکرو بیل اور اینٹی وائرل خصوصیات ہیں۔

مکھی کا زرگل کیا ہے؟

شہد کی مکھیاں مختلف پھولوں اور مختلف پودوں سے زرگل جمع کرتی ہیں۔ اور اس دوران یہ شہد کی مکھیاں مختلف پھولوں اور پودوں سے رس جمع کر کے اپنے ساتھ چھتے میں اکٹھا کرتی ہیں۔ جو کہ یہ زرگل کا لونی/چھتے میں جمع ہوتا ہے۔ اور آئندہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

زرگل مختلف رنگوں میں پایا جاتا ہے ۔ مثلاً گہرا بھورا یا سیا دانے دار، نارنگی رنگ وغیرہ۔ اس کا ذائقہ میٹھا یا جسے پھولوں کا ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ ان پودوں پر منحصر ہوتا ہے جس سے مکھیاں یہ اکٹھا کرتی ہیں۔

مکھی کا زرگل کسے استعمال کیا جاتا ہے؟

دنیا میں مکھی کا زرگل مختلف طریقوں سے استعمال کر سکتے ہیں۔ جسے کے اناج، دہی سلاد میں ٹاپنگ یا اس طرح کے مشروبات کے طور پر دستیاب ہے۔

بعض دفعہ یہ زرگل الرجک کے طور پر سامنے آتا ہے اور بہت سے لوگ یہ زرگل استعمال نہیں کر سکتے۔ اس کے لئے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کرنا پرتا ہے۔ کہ وہ یہ زرگل استعمال کر سکتے ہیں یہ نہیں۔

مکھی کا پولن /زرگل کا غذائی اعتبار

زرگل ایک پیچیدہ کھانا ہے اس میں تقریباً 200 active source مادے پائے جاتے ہیں جو کی مندرجہ ذیل ہیں۔ امینو ایسڈ ( (amino acid، ٹرائگلسرئیڈس (triglycerides) ، فاسفو لیپڈس (phosphor lipids) ، وٹامننز (vitamins) میکرو نیوٹرئینٹس (macronutrients) ، مائکرو نیوٹرئینٹس ( (micronutrients اور flavonids شامل ہیں۔

شہد کی مکھی کے ڈنک سے علاج

آج کل کے جدید دور میں شہد کی مکھی کے ڈنک سے مختلف بیماریوں کا علاج کیا جا رہا ہیں جو کہ مختلف بیماریوں کے روک تھام میں کافی اور مثبت طریقوں سے کام کر رہا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ اینٹی آکسیڈینٹ

زرگل میں اینٹی آکسیڈینٹ، وٹامنز اور دیگر مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ اور یہ آزاد ریڈیکلز یا آکسیڈینٹیوں تناؤ سے خلیوں میں ہونے والے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔

2 اینٹی مائکرو بیل

زرگل میں انٹی مائکروبیل خصوصیات پائی جاتی ہیں اور 2011 کی ریسرچ کے مطابق زرگل میں flavonoids quceedthin اور kaempfrol کی اعلیٰ سطح اس کے اینٹی مائکروبیل کی سرگرمی کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

3۔ غیر سوزشی

2010 کے رپورٹ کے مطابق یہ جگر کی بیماری اور سوزش کو کم کرنے کے طور پر دیکھا گیا ہیں۔ اور زرگل میں غیر سوزشی اجزا پائے جاتے ہیں۔

4۔ مدافعتی نظام کو منظم کرنا

2010 کی تحقیقی مضمون میں یہ بات سامنے آئی ہیں کہ زرگل میں موجود مرکبات خلیوں میں انفرادی طور پر مدافعتی ردعمل اور مدافعتی خلیوں اور نظام کو منظم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

مکھی کے زرگل میں جسے فلوونائڈز، مستحکم تیل اور اسٹرایئڈز مدافعتی نظام پر الرجی کے اثر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہیں۔

5۔ زخم کی تندرستی کے لئے

زرگل زخم کی علاج میں کافی حد تک مدد فراہم کرتا ہے جسے کے جل جانا اس کے عرق کو تازہ جلنے والے زخموں پر استعمال کیا جاتا ہے اور جراثیم کش کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کے استعمال سے زخم جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔

6۔ دل کی بیماریوں کے لئے

زرگل انسانوں میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہیں۔ یہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتے ہیں جو کہ دل کی بیماری اور فالج سے بچانے میں مدد ملتی ہیں۔

7۔ کینسر کے خلیوں کے خلاف لڑائی

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہیں کہ یہ کینسر کے خلیوں سے لڑنے میں مدد مل سکتی ہیں۔

زرگل کے منفی اثرات اور احتیاطی تدابیر

کوئی بھی شخص زرگل کے استعمال پر غور کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ا۔ الرجی

جن لوگوں کو زرگل سے الرجی ہے وہ زرگل اور اس کے بنے ہوئے مصنوعات کے استعمال میں احتیاط کریں۔

ب۔ آلودگی

مکھی کا زرگل ایک قدرتی مرکب ہے جو کہ کیڑوں کے ذریعے جمع ہونے کے دوران اس میں آلودگی کا امکان پایا جاتا ہے۔

چ۔ دوائیں

زرگل کو آج کل دوائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

شہد کی مکھیاں اور زرگل کا استعمال

مکھیوں کے لئے زرگل بہت ضروری ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اگر انسانوں کی طویل مدتی فصل کی کٹائی کی وجہ سے چھتہ میں کافی زرگل موجود نہ ہو تو کالونی میں مکھیوں کے زندہ رہنے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

کٹائی اور پولن ٹرپ

جب شہد کی مکھیاں بہر سے رس جمع کر کے واپس اپنے چھتے میں داخل ہوتی ہیں تو وہ چھتے کے باہر سے تھوڑی مقدار میں زرگل بھی اپنے ساتھ لاتی ہیں۔ یہ زرگل عام طور پر پولن ٹرپ سے جمع کیا جاتا ہیں۔ یہ پولن ٹرپ عام طور پر چھتے کے دروازے پہ نسب ہوتے ہیں اور جب مکھی باہر سے رس لے کہ اندر جاتی ہیں تو ان پولن ٹرپ کے ذریعے یہ ان کے پاؤں سے گر کر اس tray میں گر جاتا ہیں جہاں سے اسے اکٹھا کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS