بھارت اور داعش کا گٹھ جوڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

داعش کی جنوبی ایشیا میں موجودگی بالخصوص افغانستان اور پاکستان میں اس کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت عالمی برادری کے سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر داعش کی تربیت کے حوالے سے بھارتی کردار سے دنیا کے سامنے شواہد رکھ کر تحفظات سے آگاہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر راجھستان، اتراکھنڈ اور مقبوضہ کشمیر گلمرگ میں شدت پسندوں کی موجودگی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی جانب سے تربیت دینے کا معاملہ سامنے آیا، جب کہ امریکی ادارے فارن پالیسی نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ”اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت ہے۔

رپورٹ کے مطابق سری لنکا میں 2019 کو ایسٹر کے موقع پر کیے گئے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے“ ۔ صوبہ خراسان میں داعش نے جلال آباد جیل پر حملہ میں کیا تو اس کارروائی میں افغان، بھارتی اور تاجک باشندوں نے شرکت کی تھی تاکہ اپنے دہشت گرد ساتھیوں کو رہا کرا سکیں۔ 2017 کو ترکی میں نائٹ کلب، اسی برس نیویارک شہر میں ٹرک حملہ اور اسٹاک ہوم میں کیا گیا حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیے گئے بلکہ کابل میں سکھ گوردوارہ پر حملہ بھی بھارت سے داعش کی مدد سے کیا گیا۔

2016 میں اتاترک ائرپورٹ پر حملہ ہو یا زیر زمین پیٹرزبرگ پر حملہ، بھارتی دہشت گردوں نے خاص کر افغانستان اور شام کو اڈہ بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔ عالمی سطح پر ثابت ہو چکا کہ ایک خصوصی ایجنڈے کے تحت داعش (ISIS) کی پرورش کی گئی اور عالمی قوتوں نے مشرق و سطیٰ کی طرح داعش (خراساں ) کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

امارات اسلامی نے کابل قبضے کے بعد سے مشرق میں واقع ملک کی سب سے بڑی اور بدنام زمانہ جیل ’پل چرخی‘ میں بند قیدیوں کی رہا کیا۔ اسی جیل سے فرار ہونے والوں میں ایک ایسا افغانی دہشت گرد بھی تھا، جس نے 26 اگست کو کابل ائر پورٹ میں خودکش حملہ کر کے سینکڑوں انسانوں کی جانیں اس وقت لیں جب وہ افغانستان سے امریکی و غیر ملکی فوجیوں کے ہمراہ کابل سے جانے کی کوشش کر رہے تھے، بھارت نے اس افغان شہری کو 5 برس قبل سابق کابل انتظامیہ کے حوالے کیا تھا۔

افغان طالبان کے جیل ’پل چرخی‘ سے اپنے اسیروں کو چھڑانے کے بعد ہزاروں خطرناک قیدی بھی فرار ہوئے اور اب یہ جیل ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اے ایف پی کے رپورٹرز نے جب جیل کا دورہ کیا تو انہیں ایک سیل کی دیوار پر سیاہ رنگ سے داعش کے نعرے اور ’اسلامک سٹیٹ‘ کے الفاظ ایک سیڑھی کے پلستر پر لکھے دکھائی دیے۔ داعش کے پراپیگنڈا میگزین نے بھی پہلی مرتبہ اپنے خودکش حملہ آور کی بابت حیران کن تفصیلات جاری کیں، حالاں کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک تنظیمیں اپنے دہشت گردوں کی تفصیلات کو شیئر کریں، بھارتی میڈیا کے مطابق 2020 میں پولیس نے داعش کے مبینہ پراپیگنڈا میگزین کے بانی رکن عبداللہ باسط (خطاب بھائی) کو بھارتی شہر حیدرآباد سے گرفتار کیا تھا۔ میگزین میں دعویٰ کیا گیا کہ کر نالا اور کر ناٹیکا میں داعش کے تقریباً 200 جنگجو موجود ہیں۔

یہاں تک تو معاملہ تو کچھ سمجھ میں آتا ہے کہ بھارت نے ایسے خطرناک دہشت گرد کو سزا کیوں نہیں دی، غنی انتظامیہ سے تبادلے کی کیا وجوہ تھی، کہیں اصل وجہ یہ تو نہ تھی کہ چونکہ مبینہ طور پر داعش کی تربیت کر رہا ہے لہذا انہوں نے افغانی ہونے کے ناتے اس خطرناک شدت پسند کو مناسب وقت کے لئے جیل میں رکھا، تصور کیا جاسکتا ہے کہ دوحہ معاہدے کے بعد غنی انتظامیہ اپنے اقتدار کو بچانے میں تگ و دو کر رہی تھی اس لئے ان کی توجہ حاصل نہ ہو سکی ہو، اسے ایک مضحکہ خیز تصور بھی سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن توجہ طلب ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کابل میں ایسی ایسی جگہوں پر دہشت گردی کے واقعات ہوئے جہاں سیکورٹی انتہائی سخت تھی اور بقول شخصے پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، لیکن جب واقعے کے ذمے داری داعش خراساں قبول کرتے، تو سوال اٹھ جاتے کہ کیا یہ ملی بھگت ہے۔

داعش خراساں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے معاملے کو سابق صدر حامد کرزئی کے غنی انتظامیہ اور امریکہ پر داعش کی سرپرستی کے مبینہ الزامات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اصل گیم کیا تھی اور اب اصل گیم کیا ہے، امریکہ جب افغانستان میں آیا تو بموں و بارود کی سونامی کے ساتھ کہ اتنی بارود سرزمین افغانستان میں استعمال ہوا کہ جنگ عظیم اول و دوم میں بھی نہیں ہوا تھا اور جب واپسی کے آخری دنوں میں کابل شہر میں 13 بے گناہ انسانوں، جن میں سات معصوم بچے بھی شامل تھے، داعش کے جنگجو قرار دے کر ہلاک کر دیے، ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو ان کا پرائیویٹ کنٹریکٹر رہ چکا تھا، امریکہ نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی لیکن وہ یہ عمل وہ افغانستان میں کئی بار دوہرا چکا ہے اور سیکڑوں انسانوں کی جان لینے کے بعد ایسے انسانی غلطی قرار دے چکا لیکن عالمی برداری کو پوچھنا ہو گا کہ امریکی ڈھونگ ڈرون حملہ کی حقیقت کیا تھی جس میں کابل ائر پورٹ کا ماسٹر مائنڈ اپنی ساتھی سمیت مارا گیا، یہ فلمی اسٹوری سنا کر دنیا کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا، پھر کابل میں 13 انسانوں کی جان لی گئی، سات معصوم بچے موت کو گلے لگا بیٹھے، ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ وہ کون سے راکٹ حملے تھے جو ائر پورٹ پر فائر ہوئے اور ان کے ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیے۔

امریکہ سے سلامتی کونسل، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حواری کبھی باز پرس نہیں کر سکتے کیونکہ وہ امریکہ کی پھینکی ہوئی ہڈی پر پل رہے ہیں، امریکہ عالمی اداروں کو صرف اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور بھارت میں داعش کے ٹھکانوں و ترتیب پر خاموشی کا واضح مطلب عراق و شام کی طرح ایسے جنگجوؤں کو پالنا ہے جنہیں بقول حامد کرزئی مبینہ طور پر اسلحہ مہیا اور فنڈنگ کر کے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جا سکے، کیمیائی ہتھیاروں کے نام پر عراق میں فوجی کشی اور شام میں چشم پوشی کرنے والا امریکہ و ان کے حواری مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہا پسند سرکار کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملنے کے باوجود بھی خاموش ہیں تو اس سے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں کہ امریکی مفادات کو ہندو انتہا پسند، آر ایس ایس کے فاشسٹ پیروکاروں کی سہولت کاری سے حاصل کیا جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments