اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیسویں صدی کے اختتام تک بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک بین الاقوامی نظام کی ضرورت اقوام عالم پر واضح ہو چکی تھی۔ خاص طور پر اظہار خیال کی آزادی، اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق عوام الناس کی روزمرہ گفتگو کا حصہ بن رہے تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب یہ نظریہ پنپنا شروع ہوا کہ انسان کی جان، مال اور وقار کا تحفظ صرف کسی ایک ملک یا معاشرے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اقوام عالم کی مجموعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اقوام متحدہ کا 1946 ء میں قائم کیا گیا کمیشن برائے انسانی حقوق اخلاقی طور پر تو اپنی ساکھ اور معتبریت کھو ہی چکا تھا، لیکن معلوم یوں ہونے لگا تھا گویا یہ کمیشن حقیقی تبدیلی لانے کی صلاحیت سرے سے رکھتا ہی نہ ہو۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بدولت یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کا اعتماد کھو چکا تھا۔

نسبتاً چھوٹے ممالک کے کئی ایک اہم انسانی حقوق کے مسائل عموماً اس نا اہلی کا نشانہ بن جاتے تھے۔ جب امریکہ کے گوانتانامو بے میں جنگی جرائم کے خلاف کیوبا نے قرارداد پیش کی تو امریکہ کی کامیاب سفارت کاری کی بدولت بہت کم ممالک کیوبا کی حمایت میں آگے آئے اور بالآخر کیوبا کو عدم تعاون کی وجہ سے یہ قرارداد واپس لینا پڑی۔ ہیومن رائٹس واچ کے کینتھ راتھ نے اس تلخ حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے :

”انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی حکومتیں اپنی قبیل کی دوسری حکومتوں سے امید رکھتی ہیں کہ وہ ان کو احتساب سے بچا لیں گی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہر سال جب چین اپنی غیر نمائندہ حکومت کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو ناکام بنانے کے لئے لابنگ کرتا ہے تو اسے کمیشن میں کئی ایک ایسے ممالک کی ہمدردیاں حاصل ہوتی ہیں جن کے ہاں خود حکومتیں عوامی امنگوں کی ترجمان نہیں۔“

کمیشن برائے انسانی حقوق کے تحلیل ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ انسانی حقوق کے تحفظ سے کہیں زیادہ مختلف خطوں کے مفادات کا محافظ بن چکا تھا۔ گمان ہونے لگا تھا کہ گویا یہ مغربی دنیا کی لبرل سیاست اور بعض مشرقی ممالک کے اشتراکی نظریات کا اکھاڑہ ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار ممالک سوویت یونین اور دوسرے اشتراکی نظام کے پیروکار ممالک کو انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے، جبکہ سوویت یونین سرمایہ دارانہ ممالک کو اسی جرم کا ذمہ دار ثابت کرنے میں مصروف رہتا۔ 1993 ء میں یورپی یونین نے مشترکہ خارجہ پالیسی اپنا لی جو کہ ممبر ممالک کو یونین کے موقف کے خلاف جانے سے روکنے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی تھی۔ کمیشن کے زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے راتھ کہتا ہے کہ،

”جنیوا میں ایک ایسا نظام وجود میں آ چکا تھا کہ جہاں مافیا کے اصول لاگو تھے، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہنا ہی مجموعی مفاد میں تصور کیا جاتا تھا۔ جہاں ایک مجرم دوسرے کے جرائم کو اس یقین کے ساتھ نظرانداز کرتا تھا کہ اپنی باری پر اس طرف سے بھی کوتاہ اندیشی سے کام لیا جائے گا۔“

کمیشن برائے انسانی حقوق کی ان واضح ناکامیوں کے پس منظر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے سن 2002 ء میں ایک نئی کونسل تشکیل دی۔ اس کونسل کا مقصد مختلف مجوزہ اصلاحات کی جانچ کرنے کے بعد بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ موجودہ چارٹر کی بنیاد اسی پینل کی پیش کردہ رپورٹ کی تجاویز کی روشنی میں رکھی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ کمیشن اپنی ساکھ کھو چکی تھا اور انسانی حقوق کی حفاظت میں مکمل ناکام ہو چکا تھا۔ اس رپورٹ کے بعد کوفی عنان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کمیشن کی ناکامی اقوام متحدہ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہی تھی۔ متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن اپنا مقصد پورا نہیں کر رہا اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام کی ضرورت ہے۔ 15 مارچ 2006 ء کو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 60 / 251 کے تحت ہیومن رائٹس کونسل کی بنیاد رکھی گئی، جو کہ آرٹیکل 22 کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ماتحت ادارہ ہے۔

ہیومن رائٹس کونسل سینتالیس ممبران پر مشتمل ہے۔ ممبر شپ کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔ کوئی بھی ملک مسلسل دو مرتبہ سے زیادہ کونسل کا ممبر نہیں رہ سکتا۔ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک خطوں کے لحاظ سے پانچ بلاکس میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ کونسل کے ممبران کا انتخاب ان بلاکس کی متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل میں افریقہ اور ایشیا پیسفک سے تیرہ تیرہ ممالک، مشرقی یورپ سے چھ، لاطینی امریکہ سے آٹھ اور سات مغربی یورپی ریاستیں شامل ہوتی ہیں۔ کونسل کی ابتدا سے لے کر اب تک پاکستان پانچ مرتبہ اس کا ممبر رہ چکا ہے اور ہماری موجودہ ممبر شپ کی میعاد 2023 ء تک ہے۔

مختلف ممالک کے خلاف دائر کیے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیق کرنا اور چند ایک دیگر متفرق معاملات پر جنرل اسمبلی کو مشاورت فراہم کرنا کونسل کے دائرہ اختیار میں شامل ہے۔ مزید برآں اظہار خیال کی آزادی کے لئے کوششیں اور اس بات کو یقینی بنانا کونسل کی ذمہ داری ہے کہ مذہب، ذات، فرقے اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہ ہو۔ خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں رہنا بھی کونسل کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اگر کوئی بھی ممبر ملک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جائے تو جنرل اسمبلی دو تہائی اکثریت کے ساتھ اس کی ممبر شپ ختم کر سکتی ہے۔ کونسل کے قیام عمل کے وقت یہ قرارداد پاس کی گئی تھی کہ ممبر ممالک نئے ممبران کے چناؤ سے پہلے ان ممالک کے انسانی حقوق کے تحفظ کی تاریخ کو جانچیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والا کوئی بھی ملک کونسل کا ممبر نہ بن سکے۔ اسی طرح سے تمام ممالک ممبر بنتے وقت یہ عہد کریں گے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں رہیں گے۔

علمی حلقوں میں اکثر یہ سوال زیر بحث لایا جاتا ہے کہ کیا موجودہ کونسل سابقہ کمیشن کی نسبت بہتر طور پر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی ہے یا تبدیلی صرف نام کی تبدیلی کی حد تک محدود ہے؟ تقابلی تجزیہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یقینی طور پر قدرے بہتری تو آئی ہے مگر بدقسمتی سے کچھ بہت اہم تبدیلیوں کو ابھی تک جامۂ عمل نہیں پہنایا جا سکا۔ ان میں سرفہرست یہ ہے کہ کونسل کے فیصلوں کو باقاعدہ اب بھی باقاعدہ بین الاقوامی قانون کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ الیکشن کے عمل میں دو تہائی اکثریت ضروری ٹھہرانا وقت کی ایک اہم ضرورت تھی لیکن اس پر بھی ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔

البتہ ایک واضح بہتری یہ ہے کہ قرارداد نمبر 60 / 251 کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر پانچ سال کے بعد اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ قانون کے تمام ممالک پر برابر اطلاق سے تعصب اور علاقائیت کے الزامات کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔ قدرتی طور پر لوگ ایسے ادارے سے بہت سی امیدیں باندھ لیتے ہیں جو کہ ایک ناکام ادارے کو ختم کر کے بہتری کے وعدے کے ساتھ قائم کیا گیا ہو۔ تاہم ہیومن رائٹس کونسل ان میں سے بہت سی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکی۔ ہیومن رائٹس کونسل کو حقیقی طور پر کارآمد بنانے کے لیے اسے اقوام متحدہ کا مستقل حصہ بنانا اور اس کی پاس کردہ تمام قراردادوں کو قانونی حیثیت دینا ضروری ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عائشہ اقبال

عائشہ اقبال انگریزی ادب اور لسانیات کی شاگردہ ہیں. انسانی حقوق خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لکھتی اور آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ فراغت کے اوقات مصوری، شاعری اور کتاب بینی سے کاٹتی ہیں۔

ayesha-iqbal has 3 posts and counting.See all posts by ayesha-iqbal

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments