امریکی سینیٹ میں پاکستان مخالف بل پر ’قربانی کا بکرا‘ بنانے کی صدائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے خلاف قومی مرثیہ خوانی میں شامل ہونے سے پہلے یہ سوچ لینا اہم ہے کہ اس سینہ کوبی سے کون سا قومی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امریکی سینیٹ میں افغان جنگ، انخلا، طالبان کے عروج اور ان کی مدد کرنے والے عناصر اور ممالک کے خلاف تحقیقات اور پابندیوں کے مطالبہ پر مشتمل ایک بل سامنے آنے کے بعد پاکستان میں تردید، احتجاج اور امریکہ پر الزام تراشی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہؤا ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے قومی غور و فکر اور ممکنہ امریکی ردعمل سے بچنے کے لئے حکمت عملی بنانےکی ضرورت ہے۔

پاکستان کے لئے اس وقت سب سے سنگین مسئلہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی اور دنیا کی بنیادی توقعات سے گریز کے سبب پیدا ہونے والی صورت حال ہے۔ افغان طالبان نے دوحہ معاہدہ کے تحت جو وعدے کئے تھے اور دنیا کو جن تبدیل شدہ طالبان کی تصویر دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، ابھی تک افغانستان سے آنے والی اطلاعات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ کسی نہ کسی عذر پر لڑکیوں کی تعلیم کاسلسلہ بند ہے۔ اسلامی سزائیں شروع کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے اور ایک صوبہ میں حجام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ داڑھی مونڈنے سے گریز کریں ورنہ انہیں سزاؤں کا سامنا کرنا ہوگا۔ انسانی حقوق کی قدر و منزلت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ کم از ایک واقعہ میں کسی جرم میں ہلاک کئے گئے افراد کی لاشوں کو دوسروں کی عبرت کے لئے سر عام لٹکایا گیا۔

ان حالات سے قطع نظر پاکستان نے گزشتہ چند ہفتے طالبان کا وکیل بننے اور دنیا کے سامنے ان کا مقدمہ لڑنے میں صرف کئے ہیں۔ ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری طور پر طالبان کی کامیابی کو افغان عوام کی آزادی اور امریکہ کی شرمناک شکست کے طور پر پیش کیاجاتا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عالمی منظر نامہ پر یہ دلیل دینے میں مصروف رہے ہیں کہ افغانستان کی نئی صورت حال کو مان لیا جائے اور دنیا تسلیم کرلے کہ اب طالبان ہی افغانستان کے حقیقی حکمران ہیں۔ پاکستان کا خیال ہے کہ یہ ’سچائی ‘ مان کر ہی دنیا افغانستان میں امن کی ضامن بن سکتی ہے۔ اسی حوالے سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے، افغانستان کی امداد بحال کرنے اور امریکہ میں منجمد افغان حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر کو واگزار کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ عمران خان تو یہ واضح کرچکے ہیں کہ اگر امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک ان حقائق سے روگردانی کریں گے تو افغانستان میں جنگ و جدل کا نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور یہ ملک ایک بار پھر دہشت گردوں کا مسکن بن جائے گا۔

پاکستانی حکومت اور لیڈر یہ طرز عمل ایک ایسے وقت اختیار کررہے ہیں جب کہ پاکستان خود سنگین معاشی و سفارتی مسائل کا شکار ہے اور اس مشکل سے نکلنے کے لئے اسے امریکہ کے علاوہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی امداد درکار ہے۔ خاص طور سے آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے قرضے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا معاملہ نہایت سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ان حالات میں قومی سطح پر اتفاق رائے اور یک جہتی کا ماحول پیدا کرنے، سیاسی اختلافات بھلا کر پارلیمنٹ کو مؤثر کرنے اور دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ پاکستانی قوم افغانستان میں پیدا ہونے والے حالات اور اس پر امریکہ کے رد عمل کے حوالے سے متحد ہے اور کسی بھی عالمی سیاسی و سفارتی چیلنج کا مقابلہ مل کر کیا جائے گا۔

اس کے برعکس عالمی سفارت کاری میں پاکستان طالبان کا ترجمان اور وکیل بنا ہؤا ہے جبکہ قومی سطح پر انتخابی اصلاحات، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے معاملہ پر اپوزیشن لیڈروں پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ حتی کہ الیکشن کمیشن کو بھی فریق بنانے سے پرہیز نہیں کیا گیا اور وفاقی وزرا نے تواتر سے چیف الیکشن کمشنر کی دیانت، غیر جانبداری اور اتھارٹی پر سوالات اٹھائے اور اس آئینی ادارے کے سربراہ پر کسی سیاسی مخالف ہی کی طرح تند و تیز تنقید کی گئی۔ کہیں وزیر اپوزیشن لیڈروں کی ’خفیہ و مشکوک ویڈیو‘ کا لطف لے رہے ہیں اور کبھی برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کی تحقیقات میں شہباز شریف کے بے گناہ قرار دیے جانے کے بعد وزیر اطلاعات یہ پیش گوئی فرما تے رہے ہیں کہ جلد ہی شہباز شریف کو 25سال کی سزا ہوجائے گی۔ حکومتی لیڈروں کے بیانات اور طرز عمل سے کسی طور یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ افغانستان میں تبدیل شدہ حالات کا امریکہ اور اس کے حلیف ممالک پر جو بھی اثر مرتب ہو لیکن پاکستان سب سے پہلے ان حالات کا نشانہ بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اس کے بچاؤ کی کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکہ کی افغان پالیسی کی ناکامی کی وجوہات نمایاں کرنے کے جوش میں، یہ سوچنے کا وقت ہی مل نہیں پارہا کہ افغانستان اور طالبان کے بارے میں پاکستان کی دہائیوں پر محیط پالیسی بھی ناقص اور ناکارہ ثابت ہوئی ہے۔

امریکہ میں افغانستان سے انخلا کے موقع پر سامنے آنے والی بدحواسی، کابل پر طالبان کے اچانک قبضے اور اتحادیوں کی تیار کردہ افغان فوج کے تتر بتر ہونے پر مباحث کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کام میڈیا، تھنک ٹینکس اور منتخب اداروں میں یکساں شدت سے ہورہا ہے۔ جو بائیڈن کی پالیسیوں پر حرف زنی ہورہی ہے اور دیکھا جارہا ہے کہ امریکی انخلا اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات سے امریکی مفادات، سلامتی اور عالمی امن کس حد تک متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسی حوالے سے امریکی کانگرس میں بحث اور سینیٹ کمیٹیوں میں حکومتی عہدیداروں سے سوال جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسی ہی ایک سماعت میں چیئرمین جوائنٹ چیف جنرل مارک ملی نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ’ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ تیزی سے انخلا علاقائی عدم استحکام، پاکستان کی سلامتی اور اس کے جوہری ہتھیاروں کے لیے خطرات میں اضافہ کرے گا۔ ہمیں پاکستان کے کردار کو پوری طرح جانچنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طالبان امریکی فوج کے دباؤ کے سامنے 20 سال تک کیسے کھڑے رہے‘۔

جنرل مارک ملی اور جنرل فرینک میک کینزی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب جن طالبان سے نمٹنا پڑے گا وہ پہلے سے مختلف ہیں اور اس سے پاکستان کے تعلقات پیچیدہ ہو جائیں گے۔ جنرل میک کینزی نے قانون سازوں کو بتایا کہ ’مجھے یقین ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نمایاں طور پر زیادہ پیچیدہ ہوں گے‘۔ پاکستان میں اس پہلو سے کوئی قومی مکالمہ سننے میں نہیں آیا۔ سرکاری بیانات اور دعوؤں کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ اگر امریکہ اپنی دو دہائیوں پر محیط غلطیاں مان لے اور طالبان کو تسلیم کرکے ان کی امداد بحال کردے تو شاید اس کے لئے کوئی سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسے بیان داغتے ہوئے یہ سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی کہ افغانستان میں بدامنی یا بدحالی سے امریکہ یا اس کے مفادات متاثر نہیں ہوتے۔

خدانخواستہ اگر افغان سرزمین سے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے خلاف کوئی دہشت گردی ہوتی ہے تو اس کا الزام براہ راست پاکستان پر عائد کیا جائے گا۔ حالات کی ممکنہ بھیانک تصویر کو سمجھنے کی بجائے امریکہ کو درس دینے اور یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ہی اس کے بہترین مفاد میں ہے۔ ورنہ پاکستان کو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ ایک سپر پاور کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے پاکستان جیسے ہر ملک کو اپنی سفارتی اور اسٹریٹیجک حدود کا اندازہ کرنا چاہئے۔ طالبان کے حوالے سے روس اور چین کا رویہ ایک نمایاں اور قابل غور مثال ہے۔ یہ دونوں ملک افغانستان میں امریکی ہزیمت سے خوش ہیں ، اس کے باوجود وہ طالبان کی حمایت میں اس حد تک جاتے دکھائی نہیں دیتے جس کا مظاہرہ پاکستانی قیادت نے کیا ہے۔ کاش پاکستان یہی جاننے کی کوشش کرتا کہ مالی و عسکری لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا بڑے چین اور روس کیوں اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ یہ کس حد تک پاکستان کی مفاد میں تھا کہ پہلے سماجی سطح پر طالبان کی ’فتح‘ کا جشن منایا گیا اور پھر سیاسی طور سے انہیں تقریباً غیر مشروط حمایت فراہم کرتے ہوئے دنیا کو پاکستان کی بات ماننے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی؟

اب امریکی سینیٹ میں 22 ری پبلیکن سینیٹرز نے ایک قانونی مسودہ پیش کیا ہے جس میں افغانستان سے امریکی افواج کے ہتک آمیز انخلا اور بائیڈن حکومت کی افغان پالیسی کی ناکامی پر رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ بظاہر یہ بل بائیڈن حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے تیار کیا گیا ہے لیکن درحقیقت اس کے نشانے پر پاکستان ہے۔ بل میں حکومت کو پابند کیاگیا ہے کہ 6 ماہ کے اندر افغان جنگ اور وہاں سے ہتک آمیز انخلا کے بارے میں ابتدائی رپورٹ پیش کی جائے جس میں ’طالبان کو ملنے والی لاجسٹک سپورٹ، میڈیکل سہولیات اور مختلف نوعیت کی دوسری معاونت کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داران کے خلاف پابندیاں لگنی چاہئیں‘۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے اس بل کو ناجائز اور دونوں ملکوں کے تعلقات کے تناظر میں ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اس بل پر متعدد ٹوئٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے شدید ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ 80 ہزار جانوں کی قربانی دینے کے باوجود پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے حالانکہ ’یہ کبھی بھی پاکستان کی جنگ نہیں تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکی اتحادی ہونے کی سزا مل رہی ہے حالانکہ امریکہ اور نیٹو نے 20 سال کا عرصہ گزرنے کےباوجود افغانستان میں کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں کی۔ پاکستان کے حوالے سے ہونے والی ایک افسوسناک پیش رفت پر ایک غیر متعلقہ وزیر کے ٹوئٹس اور ایک بار پھر خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش سے یہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کے حکام نہ تو معاملہ کی سنگینی سمجھ پارہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ان حالات سے نبردآزما ہونے کی کوئی حکمت عملی ہے۔ حتی کہ کوئی بھی وزیر کسی بھی حساس معاملہ پر کسی بھی وقت ٹوئٹ کرسکتا ہے اور کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں ۔

امریکہ پر الزام تراشی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور نہ ہی جذباتی بیانات، پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے طعنے اور امریکی غلطیوں کی نشاندہی سے پاکستان پر دباؤ کم ہوگا۔ اس کے لئے ٹھنڈے دل و دماغ سے معاملات کی سنگینی پر غور کرکے ایک متوازن قومی بیانیہ اختیار کرنے، طالبان کے بارے میں غلط طرز عمل کا ادراک اور خارجہ حکمت عملی کی تصحیح کرنا اہم ہوگا۔ بدنصیبی سے حکومت معاملہ کی سنگینی سمجھنے سے قاصر ہے تو آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے ’قومی سیاسی اتفاق رائے‘ پیدا کرانے میں متحرک عناصر بھی دم سادھے ہوئے ہیں۔ امریکہ اگر پاکستان پر پابندیوں کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے پاک فوج کی سہولتوں پر ہی ضرب پڑے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1984 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments