پنڈرو ا پیپرز کے انکشافات پر پاکستانی وزیر اعظم کی ڈھٹائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 وزیر اعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز میں شامل پاکستانی شہریوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی تازہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس نانصافی کے خلاف اسی طرح متحد ہوکر کام کرے جس طرح ماحولیاتی آلودگی کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔ دنیا بھر سے اشرافیہ اپنے ملکوں سے دولت لوٹ کر غریبوں کو ان کی بنیادی سہولتوں سے محروم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اس کا تدارک ہونا چاہئے۔

متعدد ٹوئٹ پیغامات میں پنڈورا پیپرز میں کئے جانے والے انکشافات پر وزیر اعظم کی یہ تشویش اس وقت زیادہ وزنی محسوس ہوتی اگر ان کا پنا دامن صاف ہوتا اور وہ اپنی کابینہ اور پارٹی کے اعلیٰ مناصب پر فائز لوگوں کا نام ان دستاویز میں آنے پر فوری طور سے ان سے قطع تعلق کا اعلان کرتے ۔ اور وزیر اعظم کے ٹوئٹ کی بجائے ، باقاعدہ حکومتی اعلان سامنے آتا کہ حکومت، پارٹی اور سرکاری عہدوں پر فائز ایسے تمام لوگوں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر تحقیقات کی جائیں گی جن کے نام پنڈورا پیپرز کی دستاویزات میں شامل ہیں۔ اپنے ساتھیوں کا نا م لے کر ان کے خلاف تمام حقائق منظر عام پر لانے کا اعلان کرنے کی بجائے عمران خان اپنا مخصوص سیاسی ہتھکنڈا بروئے کار لاتے ہوئے ، دنیا کے ممالک سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ غریبوں کی لوٹی ہوئی دولت کا سراغ لگانے میں مدد کریں۔ کیوں کہ وہ گزشتہ بیس سال سے اس معاملے پر کام کررہے ہیں اور اب اس بارے میں دستاویزی شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

عمران خان نے اپنے سیاسی کیرئیر کی بنیاد ہی مخالفین کی کرپشن کو بنایا تھا۔ وہ الزام تراشی کی سیاست کی وجہ سے ہی اسٹبلشمنٹ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے کیوں کہ اس ملک میں سیاسی عمل کا راستہ روکنے کے لئے روز اول سے سیاست دانوں کی بدعنوانی کو تمام قومی مسائل کی جڑ قرار دیا گیا تھا۔ یکے بعد دیگرے اس ملک پر حکمرانی کرنے والے تمام فوجی جرنیلوں نے اسی قسم کے دعوے کئے تھے جو اس وقت عمران خان کا تکیہ کلام ہیں ۔ پھر وقتی ضرورت کے تحت اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لئے ایسے ہی سیاست دانوں کا سہارا بھی لیا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے بدعنوانی اور چوری کے تمام الزامات بھلا کر آمرانہ حکومتوں کا ساتھ دینے والے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں سے سرفراز بھی کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ستر برس سے جاری اس بازی گری میں کبھی نظام کو درست کرنے، معاشرے سے بدعنوانی کا چلن ختم کرنے اور سماج سدھار کا کوئی اقدام کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر نعروں اور دعوؤں کے باوجود پاکستانی نظام اوپر سے نیچے تک کرپٹ ہے۔ کسی سرکاری، نیم سرکاری حتی کہ نجی اداروں سے متعلق معاملات رشوت دیے بغیر طے کروانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر حکومت نظام کی اصلاح کا اعلان کرتی ہے اور بالآخر خود اسی نظام کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے مناسب سمجھتے ہوئے اسے گلے لگا لیتی ہے۔ یہ کام اس وقت عمران خان بھی بطور وزیر اعظم کررہے ہیں۔ ایک بدعنوان معاشرے میں ایک ایسی ٹیم کے ساتھ حکمرانی کرنے والا وزیر اعظم نہ جانے کس منہ سے دنیا کو کرپشن سے نمٹنے کا سبق پڑھانا چاہتا ہے جس کے اپنے رفقا میں سے متعدد کے مالی معاملات کے بارے میں شبہات سامنے آتے رہے ہیں ۔ اور اب پنڈورا پیپرز میں بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ حتی کہ ملک کے وزیر خزانہ کے بارے میں بھی آف شور کمپنیوں کا مالک ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ لیکن دیانت دار معاشرہ تعمیر کرنے کا خواب دکھانے والا وزیر اعظم یہ حقائق نظر انداز کرکے کرپشن کے خلاف اپنا سیاسی نعرہ بیچنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

اس سے پہلے عالمی صحافیوں کا یہی کنسورشیم 2016 میں پاناما پیپرز کے نام سے بڑی تعداد میں دستاویز ات جاری کرچکا تھا۔ متعدد ممالک میں ان انکشافات کی بنیاد پر ملکی قوانین کے مطابق تحقیقات کی گئیں اور جن لوگوں پر ٹیکس چوری یا منی لانڈرنگ کا الزام ثابت ہوگیا، انہیں قانون کے مطابق سزائیں دی گئیں ۔ تاہم پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں پاناما پیپرز کے انکشافات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا اور ملک پر حکمران شخص اور جماعت کو بے آبرو کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ نواز شریف اور ان کے بچوں کو پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کو بنیاد بنا کر شدید انتقام کا نشانہ بنایا گیا لیکن انہی دستاویزات میں جن دیگر 300 کے لگ بھگ پاکستانیوں کا نام آیا تھا، اس بارے میں کسی بھی فورم سے کوئی کارروائی سننے میں نہیں آئی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی لے گئے تھے لیکن ایک ’غیر وصول شدہ‘ تنخواہ کا ٹیکس گوشوارے میں ذکر نہ کرنے پر ملک کے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے والی اعلیٰ ترین عدالت کو بھی اس معاملہ میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ حالات کی یہی گھناؤنی تصویر کرپشن کے خلاف تمام دعوؤں اور وعدوں کو باطل کرتی ہے کیوں کہ ملک میں بدعنوانی ختم کرنے کی بجائے اس نعرے کی بنیاد پر ناپسندیدہ عناصر کو سیاسی راستے سے ہٹانا اصل مقصد ہوتا ہے۔ عمران خان اس حکمت عملی سے مفاد اٹھانے والے لیڈر ہیں۔ اسی لئے انہیں بدعنوانی کے خلاف کوئی قابل رشک علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عمران خان کی حکومت کو تین برس مکمل ہوچکے ہیں۔ ان تین برسوں میں ان کا ٹارگٹ صرف سیاسی مخالفین رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی کا بھرپور اہتمام کیا ہے اور اپنی تمام صلاحیتیں اسی مقصد کے لئے صرف کی ہیں۔ وہ اب بھی سیاست دانوں کو این آر او دینے سے انکار کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کو این آر او دینے کے لئے بے چین ہیں۔ وہ بدعنوانی ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کا دائرہ نواز شریف سے شروع ہو کرآصف زرداری پر مکمل ہوجاتا ہے۔ سہ سالہ کارکردگی کے طور پر بھی وہ سیاسی مخالفین کی کردارکشی کو ہی اپنی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں، ورنہ معیشت، سفارت اور سلامتی کے امور میں پاکستان کی حالت مسلسل دگرگوں ہے۔ اگر کرپشن کے خلاف عمران خان کا مقدمہ مضبوط اور ارادے نیک ہوتے تو وہ اس تین برسوں میں سیاسی مخالفین کے خلاف زیر سماعت مقدمات پر جلسوں، انٹرویوز اور ٹوئٹ پیغامات میں فیصلے صادر کرنے کی بجائے، ان تمام لوگوں کے خلاف بھی تحقیقات کا اہتمام کرتے جن کے نام نوازشریف کے علاوہ پاناما پیپرز میں شامل تھے۔ تین سو لوگوں کے بارے میں خاموشی اور ایک شخص کے خلاف مہم جوئی کو صرف سیاسی سرکس کہا جائے گا۔ حصول اقتدار کے لئے کی جانے والی یہ کاوش بھی درحقیقت بدعنوانی ہی کی ایک بدترین قسم ہے جس میں ملک کے آئینی انتظام اور تقاضوں کو پس پشت ڈال کر طاقت ور عہدیداروں اور اداروں کو مطمئن و خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بدعنوانی کے خلاف نعرہ زن جو حکومت پاناما پیپرز میں شامل تمام لوگوں کی تحقیقات کا ریکارڈ پیش نہ کرسکتی ہو، اس کے سربراہ کا یہ وعدہ کیسے قابل اعتبار ہوسکتا ہے کہ پنڈورا پیپرز میں جن کے نام سامنے آئے ہیں، ان کے خلاف تحقیقات ہوں گی اور قانون شکنی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ پاکستان میں عالمی سطح پر ہونے والے ایک اہم اور قابل قدر صحافتی کام کو محض سیاست کی نذر کردیا گیا ہے۔ عمران خان بدعنوانی سے لوٹی ہوئی دولت کو امیر ملکوں سے واپس لانے کی جس جد و جہد کی بات کرتے ہیں، اسے مضبوط کرنے کے لئے تحریک انصاف کی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔ اس موضوع پر سیاست کرکے البتہ اس کاز کو نقصان پہنچانے کا اہتمام ضرور کیا گیا ہے۔ اب پنڈورا پیپرز سامنے آنے کے بعد بھی عمران خان وہی پرانا ہتھکنڈا اختیار کررہے ہیں۔

آئی سی آئی جے نے پہلے پاناما پیپرز اور اب پنڈروا پیپرز کے ذریعے دراصل اس بنیادی نکتہ کو سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے کہ متعدد ملکوں کے بااثر، دولت مند اور طاقت ور لوگ اپنی دولت کو چھپانے کے لئے آف شور کمپنیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے ذریعے عوام کو حقیقی مالکان کا پتہ نہیں چلتا لیکن اب صحافتی تحقیقات کے نتیجہ میں ایسے ہزاروں لوگوں کا انکشاف کیا گیا ہے جو ان کمپنیوں کے ذریعے متعدد کاروبار، املاک یا اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان دستاویزات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان لوگوں نے واقعی قانون شکنی کی ہے لیکن متعلقہ ممالک کی حکومتیں ان معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کرکے یہ اندازہ کرسکتی ہیں کہ کن لوگوں نے ٹیکس چوری کیا، بدعنوانی سے اثاثے بنائے یا وہ منی لانڈرنگ میں ملوث رہے۔ البتہ یہ کام صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر کسی ملک کا نظام ٹھوس قانونی بنیاد پر استوار ہو اور بدعنوانی سیاسی خواہش کے لئے نعرے کے طور پر استعمال نہ کی جاتی ہو۔

آئی سی آئی جے نے پنڈروا پیپرز کے تحت ایک کروڑ 19 لاکھ 3 ہزار 707 دستاویزات شائع کی ہیں۔ ان میں 29 ہزار کمپنیوں کے حقیقی مالکان کا سراغ لگایا گیا ہے۔ دنیا کے 117 ملکوں کی 120 میڈیا کمپنیوں کے 600 صحافیوں نے دو سال تک یہ معلومات جمع کرنے کے لئے کام کیا ہے۔ ان میں 90 ملکوں کے 300 سیاست دان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ایسی خفیہ کمپنیاں بناتے ہیں جنہیں ٹیکس میں سہولت دینے والے ملکوں کی کمپنیاں معمولی معاوضے پر یہ خدمات فراہم کرتی ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں جو نام نمایاں ہیں ان میں اردن کے شاہ عبداللہ دوئم، یوکرائن ، کینیا اور ایکواڈور کے صدور اور چیکیہ کے وزیر اعظم شامل ہیں۔ پاکستان کے 700 جبکہ ناروے کے 300 لوگوں کے نام اس فہرست میں موجود ہیں۔ تاہم آف شور کمپنیاں بنانے والوں میں روسی شہری سر فہرست ہیں۔ حالیہ انکشافات کے مطابق ان کی تعداد 4437 ہے۔ اس کے بعد برطانیہ، ارجنٹائین، چین اور برازیل کے نام آتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کا خیال ہے کہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک سے 6 سے 32 کھرب ڈالر کو چھپایا گیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا خیال ہے کہ اس طریقہ سے ہر سال دولت مند لوگ مختلف ممالک سے 600 ارب ڈالر ٹیکس خرد برد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ تحقیقات اس عالمی تحریک کا حصہ ہیں جس کے تحت ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کام کیا جارہا ہے۔ اس اہم کام میں ہاتھ بٹانے کے لئے تمام ممالک کو دولت چھپانے کے رجحان کے خلاف قوانین بہتر بنانے ہوں گے اور قانون شکنی کرنے والے تمام عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1984 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments