طلبا ہمارے عہد کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A bad government cannot only be called as a ’bad‘ government; the real adjective should be this: Enemy! Yes, bad government is a real enemy for the country it governs, an enemy within!

#Mehmet_Murat_ildan

ہمارے بزرگ بھی اکثر سنتے آئے ہیں کہ ملک وقت کے نازک دور سے گزر رہا ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے صرف سنا اور ہم جیسے طلباء نے دیکھا ہے۔ دو سال ہونے کو ہیں مگر طلباء کی مشکلات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ کورونا کے دوران تعلیمی شعبے میں معیاری انفراسٹرکچر اور بجٹ کی کمی کی وجہ سے طلباء نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا۔ تعلیمی ادارے بند رہے اور ٹیکنیکل سہولیات کے فقدان کے باعث آن لائن نظام موثر طریقے سے سر انجام نہیں دیا جا سکا۔

چونکہ سلیبس پڑھایا ہی نہیں گیا تھا تو تقریباً تمام بورڈز نے سمارٹ یعنی تخفیف شدہ سلیبس متعارف کرایا مگر بد قسمتی سے کچھ بورڈز میں بالعموم اور فیڈرل بورڈ میں بالخصوص پرچے اس سلیبس سے باہر آئے جس نے طلباء کی تعلیمی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا اور ہیجانی کیفیت کا شکار یہ طلباء ایک مسلسل ذہنی کرب اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار رہے۔ مگر چلیں جیسے تیسے حکومت پاکستان اپنے اس فرض سے سبکدوش ہوئی اور انٹر سے آگے داخلے کا مرحلہ شروع ہو گیا جس میں سب سے زیادہ طوفان ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں آیا۔

سب سے پہلے تو اس کی فیس مبینہ طور پر پانچ سو روپے سے بڑھا کر چھے ہزار روپے کر دی گئی جو کہ والدین کے لئے بوجھ تھی اور مجھے ایک سے زیادہ لوگوں نے بتایا کہ کچھ لوگ محض فیس نہ ہونے کی وجہ سے یہ امتحان نہیں دے سکے۔ دوسرا مسئلہ ہر سال کی طرح ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لئے مختلف اکیڈمیوں کی بھاری فیسوں کا تھا مگر ان میں داخلے کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کہ پاکستان کے مختلف بورڈز مختلف کتابیں پڑھاتے ہیں مگر ایم ڈی کیٹ ایک ہی لیتے ہیں جو کہ طلباء کے ساتھ سراسر نا انصافی اور بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

اس سال پاکستان میڈیکل کمیشن نے یہ ٹیسٹ مختلف تاریخوں میں لیا اور طلباء کو بہت سی تکنیکی اور فنی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا مگر پی ایم سی نے طلباء کے تمام الزامات کو رد کر دیا اور کوئی ازالہ نہیں کیا جس پر کراچی سے عدالت میں کچھ درخواستیں بھی رجسٹر کروائی گئی ہیں۔ طلباء نے آؤٹ آف سلیبس چیزوں کی شکایت بھی کی ہے اور ٹیلیویژن پر کچھ مجوزہ دھاندلی کی بھی شکایت سامنے آئیں۔

اپنے ہم عمر باقی طلباء کی طرح میں بھی MDCAT کی تیاری کے لئے ایک اکیڈمی کا حصہ ہوں جہاں سینکڑوں طلباء رجسٹر ہیں۔ وہاں ایک رزلٹ بورڈ پر ٹاپ ٹوینٹی پوزیشنز درج ہوتی ہیں۔ یہ ٹاپ ٹوینٹی اسٹوڈنٹس پاکستان کے مختلف کالجز کے پوزیشن ہولڈرز بھی ہوتے ہیں مگر یہ طلباء بھی ہمارے نظام کا شکار ہونے سے نہیں بچ سکے۔ ہر روز ایک نئے قسم کا تکنیکی مسئلہ ان طلباء کو پیش آیا اور ہر روز ہمارے واٹس ایپ گروپ میں کسی نہ کسی لڑکی کی روتے ہوئے وائس ریکارڈنگ شیئر ہوئی جس کو سن کر صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ کئی قابل بچے محض ناقص نظام کے باعث فیل ہو گئے ہیں۔

وقت، پیسے اور صحت کے اس نقصان پر لڑکیاں تو اس قدر غمزدہ تھیں کہ بیان سے باہر۔ اس سب میں ہماری نوجوان نسل کا جو جذباتی اور نفسیاتی نقصان ہوا وہ ایک الگ قسم کا خسارہ ہے مگر اس کے تخمینے کو شاید ہمارے ہاں اتنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ اسی دوران بورڈ کے رزلٹ آنا بھی شروع ہو گئے اور یہاں بھی ایک غیر فطری تاثر بہت واضح دکھائی دیا۔ ایک تو فیل شدگان کو خواہ مخواہ پاس کر دیا گیا تو دوسری طرف پہلی تین پوزیشنز کے نمبروں کی شرح کورونا سے اموات کی شرح سے بھی زیادہ تیز تھی۔ کچھ طلباء نے قومی ہی نہیں عالمی ریکارڈ توڑ ڈالے۔

علم کو انسان کی ’‘ تیسری آنکھ ”کہا جاتا ہے۔ انسان کو اپنے مقصد حیات، مقصد تخلیق، سچائی کی پہچان ’حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور اگر یہ مقاصد حاصل ہی نہیں ہوئے تو ایک طالب علم کے ایک درجے سے دوسرے درجے میں پاس ہو جانے کی بھلا کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی تعلیمی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور طلباء کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ ہر طالب علم کو حق ہے کہ:

1۔ اسے میعادی تعلیم مفت دی جائے۔
2۔ کسی حد تک کسی بھی بنیاد پر خلاف ورزی کے بغیر کسی شخص کے احترام کا حق۔
3۔ قابل اطمینان حالات، ایک محفوظ ماحول، صاف اور موسم کے مطابق کلاسوں میں مطالعہ کرنے کا حق۔
4۔ آزادانہ طور پر اپنے خیالات اور عقائد کے اظہار کا حق۔

5۔ ٹائمنگ اور ٹیسٹنگ کے دائرہ کار کے پیشگی نوٹس کو حاصل کرتے ہوئے جبکہ ایک روزانہ ٹریننگ کے دن صرف ایک امتحان کا حق۔

6۔ اپنی مادری زبان میں سیکھنے اور عالمی مقاصد کو ایک مقصد کے طور پر لے جانے کے لیے

ان کے علم اور مہارت اور ان کی نمائش کے معیار پر معلومات کے مطابق ہر اسکول کے موضوع کے لئے تشخیص حاصل کرنے کے لئے حق۔

7۔ سکول اور اس کے ثقافتی زندگی، منظم واقعات کے انتظام میں حصہ لینے کا حق۔
8۔ عام تعلیمی ادارے کے تکنیکی وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے کا حق۔
9۔ اضافی نصاب کی فراہمی کا حق
10۔ ضمیر کی آزادی، معلومات، تقریر اور پریس نیز تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا حق
11۔ جسم و جاں کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لئے معیاری خوراک کا حق

آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ خدارا ارباب اختیار اور ہمارے پالیسی ساز ایک بار طے کر لیں کہ طلباء کو تعلیم دینی ہے یا محض نمبر؟

تعلیم نام ہے ایک نسل کے دوسری نسل کو اپنے احساسات، آداب زندگی، ذہنی وراثت، نظریات، تجربات، اور نتائج منتقل کرنے کا۔ تعلیم دراصل کسی قوم کی مادی و روحانی زندگی کی روح رواں ہوتی ہے۔ جتنا کسی قوم کا نظام تعلیم مضبوط، مستحکم اور دینی اصولوں سے ہم آہنگ، جاندار و قوی ہو گا وہ قوم اتنی ہی مضبوط اور طاقتور ہو گی اور ترقی کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہو گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments