بنیادی انسانی حقوق سے متصادم بھارتی قوانین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اشرف المخلوقات ہونے کے ناتے عزت و احترام، انصاف اور امن ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ تمام ممالک قوانین اور ضوابط اسی لیے بناتے ہیں کہ لوگوں کو انصاف، عزت اور خوشحال زندگی جیسے بنیادی حقوق مہیا کیے جائیں۔ انسانی حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جو رنگ، نسل، مرتبے، مذہب، جنس، زبان اور سماجی مقام سے بالاتر ہو کر تمام انسانوں کو یکساں میسر ہوں۔ اس ضمن میں بنیادی شرط صرف ”انسان“ ہونا ہے۔ ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے ادارے قائم کرے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے انہیں عزت سے زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کر سکیں۔

مندرجہ بالا پیرائے میں اگر جنوبی ایشیائی خطے پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو اس خطے میں جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار، بہترین عسکری ہتھیاروں سے لیس، اپنی معاشی ترقی پر نازاں ایک دیو ہیکل ملک بھارت نظر آتا ہے۔ بھارتی سیکولرازم کی مثالیں دنیا میں دی جاتی رہی ہیں اور ایک عرصہ تک بھارتی جمہوریت کی کامیابی کا راگ بڑے سوز و گداز کے ساتھ الاپا جاتا رہا ہے۔ اسی جمہوری بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی کی نت نئی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔ سیکولر ریاستوں میں تمام مذاہب اور مکتبہ ہائے فکر کو مساوی حقوق فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ نام نہاد سیکولر بھارتی ریاست صرف ہندو دھرم کی برتری کے گھمنڈ میں مبتلا ہے۔

بھارت میں آر ایس ایس، بجرنگ دل اور ڈی جے ایس جیسی درجنوں انتہا پسند تنظیمیں ہیں جو بھارتی سرکار کی پشت پناہی میں سیکولر بھارت کو ”ہندو بھارت“ میں تبدیل کرنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں۔ ان کی وجہ سے ہندوؤں کے علاوہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا شہری ایک انجانے سے خوف میں مبتلا ہے۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہندو انتہاپسندوں کے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

بی جے پی جن نعروں کو بنیاد بنا کر انتخابات جیتی تھی وہ ”سبکا ساٹھ“ ، سبکا وکاس ”یا“ چمکتا ہوا ہندوستان ”جیسے نعرے پس منظر میں جا چکے ہیں اور صرف اکھنڈ بھارت کا نعرہ زبان زد عام ہے۔ ہندوتوا نظریے کا نصب العین مسلمانوں، عیسائیوں، بدھ مت کے پیروکاروں اور سکھوں کو تعلیم، روزگار، تجارت، غرض ہر شعبے میں پسماندہ رکھنا ہے۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کرنا اور انہیں زبردستی ہندو دھرم میں شامل کرنے جیسے واقعات روزمرہ کی بات ہیں۔ گمان یوں ہوتا ہے کہ جمہوری بنیادوں پر قائم ہونے والی حکومت اپنے ہی عوام کے جمہوری حقوق غصب کرتی جا رہی ہے۔

بھارت میں آج بھی پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قانون کی موجودگی انسانی حقوق پر ایک کاری ضرب ہے۔ اس قانون کے تحت پولیس کسی بھی شہری کو ”ریاست دشمن“ قرار دے کر اندراج مقدمہ اور گھر والوں سے ملاقات کے بغیر دو سال تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کی ایک اور مثال 1958 ء میں نافذ ہونے والا آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ہے۔ اس قانون کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر اور دیگر ریاستوں میں سینکڑوں عام شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی جا چکی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف کے اہلکاروں کے ہاتھوں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں جن کی تحقیقات تک نہیں کی جاتیں۔ 2020 ء میں بھارت میں کسان مخالف قانون بنائے گئے جن سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔ یہ قوانین بالخصوص پنجاب کے سکھ کسانوں کو زک پہنچانے کی غرض سے بنائے گئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نام نہاد بھارتی سیکولر ریاست اگر کسی طبقے کی سرپرستی کرتی ہے تو وہ صرف اور صرف انتہاپسند ہندو تنظیمیں ہیں۔

بی جے پی حکومت نے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے مسلم مفاد کے خلاف ایسے قوانین متعارف کروائے ہیں جن کے نفاذ سے اسلامی شخصیات اور مسلم دور کے شہروں، چوراہوں اور اداروں کے نام تبدیل کر کے ہندو نام رکھے جائیں گے۔ مسلمانوں کے دور حکومت کی تاریخ کو تعلیمی نصاب سے ختم کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔ نریندرا مودی کی گجرات حکومت کے دوران مسلمانوں کا قتل عام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، جس کو بھارتی میڈیا نے ہمیشہ ”ہندو مسلم فسادات“ کا نام دیا ہے۔ اقلیتوں کے خلاف اس امتیازی سلوک پر امریکی وزارت خارجہ نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا لیکن بھارت میں مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر کی سی صورتحال ہے۔

سیکولر اور جمہوری حکومت کی دعویدار ریاست نے اگست 2019 ء میں مقبوضہ کشمیر کے لیے ایک سیاہ دور کا آغاز کیا۔ بھارتی راجیہ سبھا کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے کشمیر کو دی گئی خصوصی ریاستی حیثیت ختم کر دی گئی جو درحقیقت کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکا تھا۔

سوچیے! اس تین سالہ بچے کی ذہنی حالت کیا ہوگی جس نے اپنے دادا کو اپنے سامنے گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا اور گھنٹوں اس کی لاش پہ بیٹھا روتا رہا۔ وہ بچہ جس ذہنی اذیت کا شکار ہوا ہو گا وہ کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہ لا سکے گا۔ وہ عورتیں جنہیں گرفتار کر کے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، جو کبھی اپنے غصے اور تکلیف کا اظہار نہیں کر پاتیں، وہ شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ (PTSD) جیسے مرض کا شکار ہو رہی ہیں۔ ریاستی ظلم و ستم کا شکار عوام ڈپریشن، ذہنی تناؤ، فوبیاز، اور دیگر کئی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اگر عالمی رویے کی بات کی جائے تو بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے دوہرا معیار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی کوئی خاطر خواہ رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ بھارت دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والا بڑا ملک بنتا جا رہا ہے لیکن اس پر ایف اے ٹی ایف چپ سادھے ہوئے ہے۔ مغربی ممالک جہاں انسانی حقوق کا چارٹر ان کی آئینی شناخت ہے، وہ بھی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر فقط مذمت تک محدود ہیں۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام اداروں اور عالمی انسانی حقوق کے مستند اداروں کو چاہیے کہ بھارت میں انسانوں پر تشدد کے معاملے کو ہر پلیٹ فارم پر نہ صرف زیر بحث لائیں بلکہ بھارت سے سفارتی اور تجارت تعلقات منقطع کریں۔ عالمی انسانی حقوق کا ادارہ اپنے بنائے گئے قوانین کا نفاذ کرے۔ اس کے علاوہ عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور ذہنی صحت کے اداروں کو بھی بھارتی درندگی کے شکار عوام کی جسمانی اور ذہنی صحت کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر بھارتی عوام کے دکھوں کا مداوا نہ کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب ظلم و تشدد کے زیر اثر پروان چڑھنے والی یہ نئی نسل انسانی معاشرے کے زوال کی وجہ بن جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ابوبکر ریاض کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments