لمحہ حاضر میں زندہ رہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی زبان میں تھوڑی گٹ مٹ کرنے کے بعد ائر ہوسٹس نے ہماری مادری زبان انگریزی میں اعلان کیا کہ طیارہ کچھ دیر میں استنبول کے ہوائی اڈے پر اترنے والا ہے، یہ سنتے ہیں میں نے جوتے پہن لئے اور یہ سوچ کر آنکھٰیں موند لیں کہ چلو چند منٹ مزید سو لیتے ہیں وہاں پہنچ کر تو کام ہی کرنا ہو گا۔ شاید آنکھ لگ بھی گئی چند منٹ کے لئے مگر اچانک ذہن میں خیال آیا کہ استنبول اوپر سے کیسا دکھتا ہے کیا اس میں اب مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی؟

پہلی بار آیا تو بہت خوش تھا، اب کیا ہوا؟ ، پانچ گھنٹے کے بعد جو میٹنگ ہے جس کی پوری تیاری میں کرچکا ہوں میں اس وقت بھی اسی کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہوں؟ مجھے یاد آیا کہ میں چاہوں بھی کچھ لوگوں کو تنگ کیے بغیر جہاز کی کھڑکی سے نہیں جھانک سکتا۔ کیوں گزشتہ کئی سال سے میں ہمیشہ ائرلائن کے عملے سے فرمائش کر کے آئل سیٹ یعنی قطار کے باہر کی سیٹ لیتا ہوں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ باہر نکلنے میں یا لمبی فلائٹ کے دوران چہل قدمی کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ حالانکہ لینڈنگ سے پہلے اور ٹیک آف کے فوراً بعد دنیا کے بیشتر شہروں بلندی سے بے حد خوبصورت لگتے ہیں۔ بہت زیادہ ہوائی سفر کرنے والوں کو ان نظاروں سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ان کو بس اگلی منزل کی پڑی ہوتی ہے۔

مجھے ہوائی جہاز کا پہلا سفر یاد ہے شاید میں گیارہ سال کا تھا اور اپنے دو ہم عمر ماموں زاد بھائیوں کے ساتھ دبئی جا رہا تھا۔ ہمارے ساتھ کوئی بڑا نہیں تھا، اس لئے ہمیں سب کچھ سمجھا دیا گیا تھا، ٹکٹ لینا، امیگریشن سے گزرنا، کھڑکی والی سیٹ کے لئے جھگڑا کرنا، پی آئی اے کی بریانی کا ذائقہ، پائلٹ کا نام، دبئی جو اس وقت بالکل صحرا تھا مجھے سب یاد ہے۔ اس فلائٹ کا قصہ پھر کتنی بار کتنے سال لوگوں کو سنایا یہ یاد نہیں۔

دبئی فضا سے کیسے لگتا سب کو ازبر کرا دیا۔ مجھے شاید آج بھی اس دن کی خوشی ہے۔ لق و دق سے اس شہر میں گھومنا یاد ہے، شورمے اور حمس کا مزہ یاد ہے جو پھر کبھی نہیں آیا۔ کیوں کہ اس وقت آنے والے کل کی فکر نہ تھی، نظر میں کچھ اور نہ تھا۔ بس وہی لمحہ تھا۔ پھر اس کے بعد کئی ملک دیکھے کئی شہروں میں گیا وہ خوشی نہ ملی۔ ہر دورے کو دنیاوی کامیابی کے پیمانے میں ناپتا رہا، یہاں اتنے لوگ ملے ان سے یہ بات ہوئی یہاں سے یہ حاصل ہوا۔ کوئی سفر یاد نہیں کسی سفر کا کھانا یاد نہیں، کسی شہر کا نظارہ یاد نہیں۔

جن صاحب علم لوگوں کو دانائی عطا ہوتی ہے وہ کہتے ہیں آج میں زندہ رہو ابھی میں زندہ رہو، لمحہ حاضر میں زندہ رہو، اگر آگے ہی دیکھتے رہو گے تو، صبح کی رونق، کھانے کا ذائقہ، شام کی چائے، نوکری میں ترقی، امتحان میں کامیابی، اپنی ٹیم کی فتح کچھ بھی تمھیں خوشی نہ دے دکے گی اور اگر زندگی میں خوشی ہی نہیں تو کامیابی کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی انسان کی زندگی کے اچھے سال بے حد محدود ہوتے ہیں، اگر ان میں بھی خوبصورت یادیں نہ بنا سکیں تو کسی بھی چیز کا کیا حاصل۔

زندگی ایک نعمت ہے اور نہ جانے کتنی نعمتیں ہمارے پاس ہیں جن کا شکر ادا کرنا تو دور کی بات کبھی ان کو کچھ سمجھا تک نہیں۔ ہم سب نے شاید اپنی خوشی کو مشروط کر دیا ہے۔ اپنا گھر ہو گا تو خوش ہوں گے، پانچ لاکھ روپے تنخواہ ہوگی تو خوش ہوں گے، دو کروڑ کا منافع ہو گا تو خوش ہوں گے، مرسیڈیز ہوگی تو خوش ہوں گے، بڑا عہدہ ہو گا تو خوش ہوں گے، امریکہ پہنچیں گے تو خوش ہوں گے۔ کب یہ سب ہو گا؟ ہو گا بھی کہ نہیں؟ کب خوش ہوں گے؟

میں کراچی میں پلا بڑھا ہوں مجھے تو نہاری کی ایک پلیٹ سے، دودھ پتی کے ایک کپ سے، وسیم اکرم کے یارکر سے، رونالڈو کے ایک گول سے، پاکستان کی فتح سے، شفیق الرحمان کے ایک مضمون سے اور غالب کے ایک شعر سے خوشی مل جایا کرتی تھی۔ زندگی کی یہ ریس میری ریس ہو یا نہ ہو یہ رویہ میرا نہیں ہو سکتا ۔ مجھے یاد آیا کہ آج میٹنگ کے وقت پر میرے پسندیدہ فٹبال کلب مانچسٹر یونائٹیڈ کا میچ لائیو آنا تھا۔ مگر میں نے پھر بھی میٹنگ کا وقت منظور کر لیا۔ اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ میچ تو لائیو دیکھوں گا اور میٹنگ اگلے دن پر موخر کردوں گا۔

جہاز لینڈ ہونے میں کچھ وقت تھا میں اپنی نشست سے کھڑا ہو کر طیارے کے عقبی حصے میں چلا گیا جہاں ایک کھڑکی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ نشست نہیں ہوتی۔ کچھ دیر میں ایک ائر ہوسٹس آئی اور کہنے لگی کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں

میں نے مسکراتے ہوئے کہا استنبول بلندی سے بہت خوبصورت لگتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments