روحانیت سے راہ نجات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماسٹر قدوس نے فرقہ کیا بدلا، ہر ایک نے بدلہ لینے کی ٹھان لی۔

یہ اندوہناک خبر گھر والوں پر قیامت بن کر ٹوٹی۔ وہی ماسٹر قدوس جو شرافت اور انکساری کے پیکر سمجھے جاتے تھے پل بھر میں مرتد، کافر اور زندیق قرار پائے۔ عمر بھر کی نیکیاں رائیگاں گئیں۔

اہل محلہ عزیز رشتے دار تو دشمن جان تھے ہی، عظیم غم اہل و عیال کا نظریں پھیر لینا تھا۔ صدمے سے نڈھال سجدہ ریز ہوتے تو رو رو کر دعائیں مانگتے۔ التجائیں کرتے ” یا اللہ! بیوی، بچوں کو میری طرح حق سچ کے راستے پر ڈال دے۔ انہیں ہدایت دے ایمان کی دولت اور نعمت سے سرفراز فرما۔“

مگر یوں لگ رہا تھا جیسے دعائیں عرش تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں تحلیل ہو رہی ہیں۔

مخالفت بڑھی۔ طعن و تشنیع کا سلسلہ تو خیر جاری تھا اب رخ سماجی بائیکاٹ کی جانب ہو گیا۔ بیوی جسے ابھی حقیقی ایمان کی دولت نصیب نہ ہوئی تھی غصے سے آگ بگولا ہوجاتی اور تلملاتے ہوئے کہتی

” جائیے، اپنے ان ہوتے سوتوں کے پاس جن کی خاطر اپنے دین ایمان کا سودا کیا۔ اب اس عمر میں ہمیں ذلیل و خوار کرنے کا خوب ٹھیکہ اٹھایا ہے۔ اک عمر کی بنائی عزت دو کوڑی کی ہوکے رہ گئی ہے۔ اتنا ہی شوق تھا ایمان کی تبدیلی کا تو کوئی اور فرقہ نہ ملا ایک یہی کافر نظر آئے۔ خدا کی مار ان پر جن کی وجہ سے اچھے بھلے پرسکون گھر میں تلاطم آ گیا۔“

مولوی صاحب اور اہل محلہ نے سمجھایا اور کوشش کی کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے، ماسٹر صاحب رجوع کر لیں۔ مگر ماسٹر صاحب کا دل سکون اور سکینت پا چکا تھا۔ اب تو اپنی عزت، جان، مال، وقت اور اولاد قربان کر سکتے تھے مگر حق سے انکار گوارہ نہ تھا۔

بات چیت، بحث مباحثہ، مناظرہ سے جب کوئی صورت نکلتی نظر نہ آئی تو مولوی صاحب نے قطع تعلق کا حکم صادر فرما دیا۔ عمل نہ کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

ماسٹر قدوس ایک صلح جو ، امن پسند اور خاموش طبع شخصیت کے مالک تھے عمر ساٹھ، پینسٹھ کے درمیان تھی۔ چہرے پر معصومیت کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سا روحانی نور اللہ نے عطا کر رکھا تھا۔

طالب علم ہی نہیں اہل علاقہ بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور عزت کرتے۔ جہاں سے گزرتے لوگ جھک کے سلام کرتے عقیدت سے ہاتھ چومتے تھے۔

مگر اب معاملہ یکسر بدل چکا تھا۔ ماسٹر قدوس نے ایک ایسے فرقے کا انتخاب کیا تھا جو اسلام کے دائرے سے نکل چکا تھا۔ ماسٹر صاحب نے پڑھ رکھا تھا کہ تمام ہی فرقے ایک دوسرے کو نہ صرف غیر مسلم اور کافر سمجھتے ہیں بلکہ قتل کے فتوے تک دے رکھے ہیں، مگر وہ بحث مباحثہ میں الجھنا نہیں چاہتے تھے اس لئے زیادہ تر خاموش رہتے اور چپ چاپ ظلم سہتے۔

اس ساری مخالفت کے بیچ ان کے چار بچوں میں سے سب سے چھوٹی لڑکی گل رعنا بابا کا ساتھ دیتی۔ زیادہ تعلیم یافتہ تو نہ تھی۔ مگر بابا کی طرح یہ ادراک تھا کہ دین اور ایمان کا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان کا ذاتی معاملہ ہے۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ ”کوئی ہندو، سکھ، عیسائی یا یہودی ہو اس سے کسی کو سروکار نہیں ہونا چاہیے ہر انسان اللہ کے حضور جواب دہ ہے، اس کے بندوں کو نہیں۔“ کئی بار اس نے ماں اور بھائیوں کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر ڈانٹ ڈپٹ کر کے چپ کروا دیا گیا۔

” تم چھوٹی ہو۔ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں۔ بڑوں کی باتوں میں بولنے کی قطعی ضرورت نہیں“ گل رعنا مجبوراً خاموش ہوجاتی۔ مگر بابا کی حالت دیکھ کر اس کا وجود تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہوجاتا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماسٹر صاحب کی مخالفت آندھی و طوفان کی طرح تیز تر ہونے لگی۔ واجب القتل کا فتوی بھی صادر ہو گیا۔ ماسٹر قدوس اگر اپنے مذہب سے رجوع کر لیں تو ٹھیک ہے وگرنہ ان کے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ بہت ہو گیا۔ ہم کافی ڈھیل دے چکے ہیں۔ کل تک اپنا فیصلہ سنا دیں۔ دوسری صورت میں ہم ان کی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

اولاد جان کے درپے ہو گئی۔ بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ بڑا لڑکا جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتا ہوا پستول لے کر ان کی طرف بڑھا کہ ماں نے روک لیا منت سماجت کر کے اس ارادے سے باز رکھا۔ لڑکا شدید غصے میں بڑبڑاتا پستول لہراتا پیر پٹختا کمرے میں چلا گیا۔

بیگم نے ماسٹر قدوس کو پلٹ کر التجا بھری نظروں سے دیکھا اور رندھی آواز میں بولیں

”ماسٹر صاحب خدا کا واسطہ ہے۔ ہماری نظروں سے کہیں دور چلے جائیں۔ آج تو میں نے بیٹے کو روک لیا ہے۔ مگر شاید کسی دن میرے ہی ہاتھوں آپ کا خون ہو جائے گا۔ آپ کو ہزار مرتبہ سمجھا چکی ہوں مگر آپ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ میں اپنی پچیس سالہ ازدواجی زندگی کا واسطہ دیتی ہوں کہ فوری طور پر یہاں سے چلے جائیں۔ ہمارے حال پر رحم کریں۔ آپ نے تو ہم سب کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔“ یہ کہتے کہتے وہیں بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر شدت جذبات سے رونے لگیں۔

ماسٹر صاحب نے بھی نمناک نگاہوں سے بیوی کی جانب دیکھا۔ ہنسی خوشی گزرے سال نگاہوں میں کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ بے بسی سے بیوی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور بھرائی آواز میں بولے

” یہ دل کے سودے ہیں بیگم۔ تم نہیں سمجھو گی۔ اور میں شاید تمہیں کبھی سمجھا بھی نہ سکوں اس لئے بہتر ہے کہ ہم اپنی راہیں جدا کر لیں میرے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں ہے اس لئے میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تمہارے اور بچوں کے لئے میں ہمیشہ دعاگو رہوں گا اللہ تم سب کو بھی دین و ایمان کی دولت سے سرفراز کرے آمین۔“

تھکے تھکے مدھم لہجے میں کہہ کر اپنے کمرے میں آئے اور دکھی دل سے سامان سمیٹنے لگے۔

چند کپڑے اور ضروری سامان بیگ میں رکھا اور دروازے پر پہنچ کر لمحے بھر رکے بیگم کی طرف ایک آخری نگاہ کی اور اچھا میں چلتا ہوں رب راکھا۔ خوش رہو کہتے ہوئے قدم بڑھا دیے۔ گل رعنا تڑپ کے آگے بڑھی اور راستہ روکنے لگی۔ ”بابا مت جاؤ۔ خدا کے واسطے مت جاؤ بابا۔ “

ماسٹر قدوس نے شفقت بھرا ہاتھ بیٹی کے سر پر رکھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے دہلیز پار کرلی۔ دکھ درد اور اذیت سے ان کا کلیجہ پھٹا جا رہا تھا۔ بے چارگی سے آسمان کی جانب نمناک نگاہیں کیں اور کوئی شکوہ کوئی شکایت کیے بنا جھکا لیں۔

ان کا رخ نئے فرقے کو قبول کرنے والی بنی مسجد کی جانب تھا۔ چند کلومیٹر دور چار مختلف مسالک کی مساجد کو چھوڑ کر چوتھی مسجد اس فرقے کی تھی جس کے چاروں طرف چاق و چوبند خدام پہرہ دے رہے تھے

ایک خادم نے دور سے ماسٹر صاحب کو آتے دیکھا تو لپک کر بڑھا۔ سلام و دعا کے ساتھ پرجوش مصافحہ کیا اور سہارا دیتے ہوئے مسجد کے اندر لے گیا۔ امام صاحب عصر کی تیاری کر رہے تھے۔

پہلی صف میں ماسٹر قدوس سرپرست اعلی جناب جری اللہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ باجماعت نماز کے بعد وعظ کا سلسلہ ہوا۔ چندوں کی وصولی کو یقینی بنانے کے لئے نئے ٹارگٹ اور اہداف سے متعلق ہدایات دی گئیں۔

ماسٹر قدوس غائب دماغی سے یہ سب سن رہے تھے وہ آنے والے مستقبل کو لے کر فکر مند تھے۔ امام صاحب کے مختصر خطاب کے بعد ماسٹر قدوس نے جری اللہ سے سلام دعا کے بعد اپنے ساتھ پیش آئے واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا۔

سرپرست اعلی جری اللہ پچیس تیس سال کے دبلے پتلے نوجوان تھے۔ فرنچ داڑھی سر پر جناح کیپ سفید شلوار قمیص اور گفتگو میں انکساری اور عاجزی ان کی خاص پہچان تھی انہی کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر ماسٹر صاحب نے سچائی کا ایک بہتر راستہ چنا تھا۔ جری اللہ نے افسوس کا اظہار کیا اور چندے کی رسید بک لے کر اللہ کی راہ میں کچھ عنایت کرنے کی درخواست کی۔

ماسٹر صاحب نے جیب سے سو روپے نکال کر دیے سرپرست اعلی سو کا نوٹ دیکھ کر کچھ زیادہ خوش نہ تھے اللہ اور زیادہ قربانی کی توفیق دے کہہ کر رسید کاٹی۔

جب سے ماسٹر صاحب اس سلسلہ میں داخل ہوئے تھے محسوس کر رہے تھے کہ دل اطمینان پا گیا ہے روح کو پہلی بار سکون و سکینت کا احساس ہوا ہے۔ من جیسے چلا اٹھا ”پا لیا۔ پا لیا۔ حق پا لیا۔

یہی وجہ تھی کہ اب ماسٹر قدوس صاحب کے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ بھلا روحانی سکینت اور سکون کو چھوڑ کر محض لوگوں کی خاطر دین و ایمان کا سودا کیونکر کرتے جبکہ ان کے نزدیک انہیں منزل مل چکی تھی۔

جری اللہ نے تمام واقعات سننے کے بعد سب سے پہلے تو ماسٹر قدوس کی ثابت قدمی کو سراہا۔ پھر قرون اولی کے ایمان افروز واقعات سنا کر حوصلہ بڑھایا کہ جس میں حق کی راہ میں مالی قربانی کرنے جانوں کے نذرانے دینے اور تکالیف اٹھانے والوں کا ذکر تھا مگر حق سے ذرا برابر ادھر سے ادھر ہونا قبول نہ کیا۔

مدلل سحر انگیز گفتگو اور ایمان افروز واقعات سننے کے بعد تو جیسے ماسٹر صاحب کا ایمان مزید پختہ ہو گیا۔ سرپرست اعلی نے شفقت سے قدوس صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تسلی دیتے ہوئے بولے

”ماسٹر صاحب آپ بالکل مت گھبرائیں۔ آپ اب ہماری ذمہ داری ہیں۔ اگرچہ ہماری یہ فلاحی نہیں خالصتاً مذہبی جماعت ہے، پھر بھی ہم آپ کے لئے کوئی نہ کوئی بہتر حل کریں گے۔ فی الحال تو مرکز سے بات کر کے آپ کے مسائل سے آگاہ کرتا ہو۔ آج کی رات مسجد میں ہی قیام فرمائیں۔ کھانا گھر سے آ جائے گا۔ “

ماسٹر صاحب نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے جزاک اللہ کہا اور پھر مسجد سے ملحقہ کمرے میں سونے چلے گئے۔

دوسرے دن مرکز سے اجازت مل گئی کہ ماسٹر صاحب کو بھیج دیا جائے۔ جری اللہ نے یہ خوشخبری ماسٹر قدوس کو سناتے ہوئے گلے لگا لیا ماسٹر نے خدا کی حمد و ثنا کی۔

سرمئی پہاڑوں میں گھرا یہ شہر قیام پاکستان کے ساتھ ہی مہاجرین کے لئے روحانیت کا عالمی مرکز قرار پایا۔ شہر کے مشرقی حصے کی طرف سے آئیں تو مشہور دریائے چناب اور انگریز کا بنایا سو سال پرانا پل ہر آنے جانے والے کا استقبال کرتا ہے۔ شہر کی حدود میں داخل ہوتے ہی دو مختلف قبرستان داخلے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہیں۔ ایک قبرستان عام اور دوسرا بہشتی مقبرہ

عام قبرستان میں عام انسانوں کی تدفین کی جاتی ہے جبکہ خاص قبرستان میں خاص لوگ آسودہ خاک ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کا ایک بڑا حصہ دین کی خاطر عمر بھر دیتے رہے۔ انہیں جنت کی نوید سنائی جاتی ہے۔

شام کے دھندلکے سائے گہرے ہو رہے تھے دور کہیں کالے بادل گھٹا کی صورت اٹھ رہے تھے جب اس پاک اور روحانی سرزمین پر ماسٹر صاحب نے قدم رکھا۔

ماسٹر صاحب روح تک سرشار تھے۔ آنسوؤں کی جھڑی جاری تھی۔ فرط محبت و عقیدت سے پاک مٹی کو آنکھوں سے لگایا، چوما اور سجدہ شکر بجا لائے۔

شہر کے آغاز میں ہی سیکورٹی سیکٹر پر موجود ایک نوجوان سے مطلوبہ دفتر سے متعلق معلومات لی اور اس کی جانب قدم بڑھا دیے۔

دفتر میں موجود عملے کو اپنی آمد کا مدعا بیان کیا۔ ماسٹر صاحب کی روداد سن کر انہیں تسلی دی اور پہلے سے ملی ہدایات کے تناظر میں کھانا کھلانے اور آرام کی خاطر لنگر خانے لے گیا

ماسٹر صاحب آپ آرام کیجے، جلد ہی آپ کی رہائش کا انتظام کر دیا جائے گا۔
اتنا کہہ کر وہ رخصت ہوا۔ کھانا کھانے کے بعد ماسٹر صاحب برسوں بعد پرسکون نیند سوئے۔

ماسٹر قدوس کو فجر کے لئے اٹھا دیا گیا۔ وہ قریبی مسجد چل دیے۔ راستے میں روحانی شہر کے پررونق نظاروں کو آنکھوں سے نہارتے حمد و ثنا کرتے اور اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے رہے۔

نمازی مختلف سمتوں سے مسجد کی جانب رواں دواں تھے۔ حکومتی پابندیوں اور قوانین نے ان میں ایک اور ہی جوش و جذبہ بھر دیا تھا۔ مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر چکی تھی۔ ماسٹر قدوس کو دوسری صف میں جگہ ملی۔ دوران سجدہ خود پر قابو نہ پا سکے اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔

نماز کے بعد ساتھ بیٹھے نمازی نے تسلی دی۔ انہوں نے رومال سے آنسو پونچھے، ہچکیوں کے درمیان جزاک اللہ ہی کہہ سکے۔ الفاظ جیسے ریت کی مانند گلے میں خراش پیدا کر رہے تھے۔

ماسٹر قدوس کو رہائش کے لئے کمرہ دے دیا گیا جس سے وہ کافی مطمئن ہو گئے۔
مگر انہیں کیا علم تھا کہ یہیں سے ان کی آزمائش کا ایک اور نیا نہ ختم ہونے والا دور شروع ہو چکا ہے

جہاں ماسٹر قدوس رہائش پذیر ہوئے یہ چار دیواری کے اندر بنا کمرہ تھا جو گارے اور اینٹوں سے تیار کیا گیا تھا۔ رفع حاجت اور رسوئی نام کی کوئی جگہ مختص نہ تھی۔ گرد و غبار سے اٹے کچے فرش کے ایک کونے میں پرالی بچھا دی گئی تھی۔ سوتے تو پرالی کے باریک باریک تنکے ساری رات جگائے رکھتے اور یوں رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔

یہ دراصل ایک خالی متنازع پلاٹ تھا جس پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے فوری ایک کمرہ تعمیر کر دیا گیا تھا۔ ماسٹر صاحب کی بد قسمتی تھی کہ چونکہ اکیلے تھے اسی لئے قرعہ فال انہیں کے نام نکلا۔

اس مقدس شہر کے روحانی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک معزز شخصیت کی وجہ سے معاملہ کورٹ تک پہنچ چکا تھا۔ یہ معزز شخصیت اس سے پہلے بھی کئی پلاٹ مجبور اور بے کس مریدوں سے ہتھیا چکی تھی۔ یہ وہ آقا تھے جن کے سامنے بولنے، بات کرنے اور سوال اٹھانے پر پابندی تھی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اسے دین و ایمان پر حملہ قرار دے کر خاموش کروا دیا جاتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ زبان پر تالے تھے کہ حق کے لئے آواز نہ اٹھا سکیں۔ آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی گئی تھی کہ کچھ نہ دیکھ سکیں۔ کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا گیا تھا کہ مظلوموں کی آہ و بکا نہ سن سکیں۔

اب یہاں کے باسی صرف سب اچھا ہے، سب اچھا ہے کا ورد کرتے یا جی حضوری اور اطاعت کے نام کی تسبیح پڑھتے ہر حکم بجا لاتے تھے۔

دین و ایمان کی دولت سے سرشار ماسٹر صاحب چونکہ ان تمام باتوں سے لاعلم تھے اس لئے بہت سے انکشاف ہونا باقی تھے۔

صبر و شکر کے پیکر ماسٹر صاحب کے دن جیسے تیسے گزرنے لگے۔

ہمسائے میں خدا ترس لوگ آباد تھے جو ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ امتہ السلام خاص طور سے ان کا خیال رکھتی، اسے ان میں اپنے باپ کی جھلک نظر آتی تھی جو اس وقت بیرون ملک مقیم تھے اور کچھ ہی عرصہ میں سپانسر کرنے والے تھے۔

امتہ السلام ان کے پاس بیٹھتی، گزرے حالات واقعات سنتی۔ ماسٹر صاحب کو اس میں گل رعنا کی جھلک نظر آتی تھی۔

ماسٹر صاحب نے کبھی جگہ کی تنگی، دشواری اور مشکلات کا ذکر کسی سے نہ کیا۔ دو وقت کا کھانا اور عبادت ان کے روز مرہ معمول میں شامل تھے۔ صابر شاکر تو تھے ہی مزید سیکھ گئے۔ گھر والوں کی یاد ہر پل ستاتی تھی۔ ماسٹر صاحب کے مرکز میں آنے کا علم صرف گل رعنا ہی کو تھا۔

پھر اچانک ایک دن ان کے جگر کا ٹکڑا گل رعنا ان کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ ماسٹر صاحب کو ایک لمحے کے لئے یقین نہ آیا۔ پھر جیسے ہوش حواس کی دنیا میں واپس آئے۔ ”گل رعنا، او میری کڑی۔“ حیرت محبت کے ملے جلے جذبات سے پکارتے آگے بڑھے

وہ ”میرے پیارے بابا جانی“ کہہ کر ان سے لپٹ گئی۔
ماسٹر قدوس کے ناتواں جسم میں جیسے جان سی آ گئی۔ اس کے آنے کی خوشی پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔

ماسٹر قدوس بیٹی کو کمرے میں لے آئے۔ خوشی سے ان کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ کمرے میں بٹھایا اور تیز تیز لاٹھی ٹیکتے ہمسائیوں کی دیوار سے امتہ السلام کو بیٹی کی آمد کی پرجوش انداز میں خوشخبری سنائی۔ ساتھ ہی شربت تیار کرنے کی درخواست کی۔ امتہ السلام نے شربت تیار کیا۔ جگ اور گلاس لے کر خود ہی دینے چلی آئی۔

اس نے گل رعنا کو دیکھا سرخ و سپید رنگت۔ عمر یہی کوئی بائیس تئیس سال۔ دبلی پتلی خوبصورت نین نقش۔ ایک مکمل خوبصورت کشمیری مٹیارن تھی۔

” یہ میری بہت ہی پیاری بیٹی ہے۔ گل رعنا میری جان کا ٹکڑا۔ تمہیں بتایا تھا نا کہ سب نے میری مخالفت کی تھی۔ بس ایک یہ میری بیٹی تھی جس نے میرا ساتھ دیا۔ بہت سیانی بچی ہے میری ماشاء اللہ۔“ لو بیٹی شربت پیو ”

انہوں نے محبت سے گلاس بڑھایا

گل رعنا نے گلاس پکڑتے ہوئے اردگرد نگاہ دوڑائی۔ اور حیرت سے بابا کو دیکھا۔ کچا کمرہ، مٹی سے اٹا فرش، بغیر گدے تکیے کے لوہے کا پلنگ، ضرورت کے چند کپڑے۔ بس یہی کل متاع تھی جسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

” بابا کیا آپ اس کے لئے سب آسائش و آرام چھوڑ کر آئے تھے۔ کیا اس سے اچھی رہائش کا انتظام ممکن نہ تھا۔ ؟“

ماسٹر قدوس نے سر جھکائے عاجزی سے جواب دیا

” او میری کڑی بندہ دین ایمان اچھی چیزوں ساز و سامان کے لئے نہیں بدلتا بلکہ دین و ایمان روح کا سودا ہے۔ یہاں، یہ جو دل ہے نا، یہاں روحانی سکون سکینت اور اطمینان ملتا ہے اور یہ سب صاحب ایمان اور نصیب والوں کی قسمت میں ہی لکھا ہوتا ہے۔ تم کیا جانو میں کتنا پرسکون ہوں۔ کتنا خوش ہوں۔ کس قدر آسودہ حال ہوں۔ تم کیا جانو پتری۔“

گل رعنا دکھی دل سے سرجھکا کر سنتی رہی۔ رات ماسٹر صاحب نے بیٹی کو پلنگ پر سلایا امتہ السلام نے چادر تکیہ اور گدا فراہم کر دیا تھا گل رعنا نے بابا کو بہت کہا کہ آپ پلنگ پر سو جائیں میں نیچے سو جاتی ہوں مگر ماسٹر صاحب نے تمام تر شفقت بیٹی پر نچھاور کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا

ماسٹر صاحب نے پرالی پر چادر بچھائی اور شکر ہے میرے مولا کہتے ہوئے لیٹ گئے۔

گل رعنا کو اپنے بابا کی بے بسی دیکھ کر رونا آ رہا تھا اس نے کروٹ بدلی سرد آہ بھری آنکھوں میں تیرتے آنسو صاف کیے۔ اسے یاد تھا کہ پیارے بابا کیسے صاف ستھرے استری کیے کپڑے پہنتے تھے اس نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور بابا کو دیکھا۔ اس وقت بابا نے شکن آلود ملگجے کپڑے زیب تن کر رکھے تھے۔

سفر کی تھکان اور یہ سب سوچتے سوچتے اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں اور پھر وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ نیند جب اختیار اور بس سے باہر ہو تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔

ماسٹر صاحب فجر پڑھ کر آئے تو بیٹی سو رہی تھی۔ انہوں نے پیار بھری نگاہ اس پر ڈالی اور اسے جگانا مناسب نہ سمجھا۔ انہیں چھوٹے مرزا صاحب کے گھر جانا تھا۔ وہ وہاں مالی کا کام کرتے تھے۔ اگرچہ انہیں اس کا کچھ تجربہ تو نہ تھا۔ مگر وقت گزاری کے لئے جانا منظور کر لیا۔ جاتے جاتے امتہ السلام کو گل رعنا کا خیال رکھنے کا کہنا نہ بھولے۔

امتہ السلام نے گل رعنا کے اٹھنے پر ناشتے کا انتظام کیا۔ ناشتے کے بعد دونوں نے خوب باتیں کیں۔

گل رعنا کو آئے ایک ہفتہ ہو گیا۔ گھر کے اخراجات اس کے آنے سے بڑھ چکے تھے آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہ تھا۔ چھوٹے مرزا صاحب اتنا کام لینے کے بعد معمولی رقم ان کے ہاتھ میں تھما دیتے تھے اور ساتھ ہی کام ٹھیک سے نہ کرنے کا طعنہ بھی لازمی دیا کرتے ماسٹر صاحب سر جھکا کر سنتے اور کچھ کہے بنا پلٹ آتے وہ اس ڈانٹ ڈپٹ کو بھی اعزاز سمجھتے تھے۔

امتہ السلام کی گل رعنا سے اچھی دوستی ہو چکی تھی وہ روزانہ کھانے کے لئے کچھ نہ کچھ لے آتی۔

آخر کب تک دوسروں کے سہارے زندگی گزاری جا سکتی ہے، ضروریات زندگی میں ایک صرف کھانا ہی تو نہیں ہوا کرتا۔

گل رعنا نے نوکری کرنے کی ٹھانی۔ اس نے امتہ السلام سے ذکر کیا تو اس نے کسی اچھی جگہ کام دلانے کا وعدہ کیا۔ مگر چونکہ تجربہ نہ تھا، اس لئے فی الحال امکان کم تھا۔

ایک دن گل رعنا نے امتہ السلام کو خوشخبری سنائی کہ اسے روحانی بی بی کے گھر ملازمت مل گئی ہے۔

میں نے سنا ہے یہ لوگ بہت ہی نیک اللہ والے ہیں۔ بہت خوبصورت باتیں کرتے ہیں۔ مخصوص لب و لہجہ ہے جو مجھے بے حد پسند آیا۔ میں نے روحانی بی بی سے بات کی ہے کام کے سلسلہ میں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے اور ساتھ ہی اپنے ہی خاندان کے ایک دو گھر اور بتائے ہیں ”

گل رعنا پرجوش انداز میں امتہ السلام کو بتا رہی تھی۔ چہرے سے خوشی نمایاں تھی۔ اب وہ اپنے بابا کو اچھا کھلا سکتی ہے۔ ان کے کپڑے اور ضروریات کا پہلے سے بڑھ کر خیال رکھ سکتی ہے۔ ایک نئی چارپائی لے سکتی ہے جہاں وہ سکون کی نیند سو سکتے ہیں۔

یوں گل رعنا نے شہر کے سب سے معزز اور مقدس خاندان میں کام کرنے کا شرف حاصل کر لیا۔ ایک مہینہ خیر خیریت سے گزر گیا۔ ماسٹر صاحب کے حالات میں بہتری آنے لگی۔

رسوئی کا سامان چولہا، برتن، نعمت خانہ کے علاوہ چارپائی اور چند کپڑوں کا اضافہ ہو گیا۔ ماسٹر صاحب اب پہلے سے زیادہ خوش تھے۔ انہیں احساس ہونے لگا کہ مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ غلط نہ تھا۔ سیدھے راستے پر چلنے والوں کی اللہ ضرور مدد کرتا ہے۔ گل رعنا اور امتہ السلام کی صورت غیبی مدد انہیں مل گئی تھی۔ وہ اب ہر طرح سے مطمئن اور پرسکون تھے۔

مگر وہ اس بات سے قطعی لاعلم تھے کہ گل رعنا کے اپنے دل پر کیا گزر رہی ہے۔ وہ ابھی تک اپنے عقیدے پر قائم تھی۔ اس نے نئے مذہب کو قبول کرنا ضروری نہ سمجھا۔ وہ اپنے بابا کی خدمت خونی رشتے اور محبت کے انسانی جذبے کے تحت کر رہی تھی۔

ایک مہینہ بیت گیا۔ گل رعنا اب چھوٹے مرزا صاحب کے ساتھ ساتھ بڑے پیر صاحب کے گھر بھی کام پر مامور ہو گئی۔

گھروں میں نوکر ہو جانے کے بعد اس کی آزادی رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی۔

ایک دن وہ امتہ السلام سے ملنے آئی۔ گل رعنا کو دیکھ کر اسے خوشی ہوئی اور اس بات پر حیرت بھی کہ بہت دنوں کے بعد اس نے اپنی شکل دکھائی ہے۔ امتہ السلام نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا ٰ۔ یوں محسوس ہوا جیسے چنار میں اب وہ پہلے جیسی آب و تاب نہیں رہی۔ اس کے پتے مرجھا رہے ہیں رنگ پھیکا پڑ رہا ہے۔ امتہ السلام نے اسے قریب بٹھایا اور گرمجوشی سے اس کا کندھا دباتے ہوئے بولی

”ارے بھی کیا بات ہے اب تو ہمیں شکل ہی نہیں دکھاتی۔ ہاں بھئی اب بڑے خاندانی گھروں میں آنا جانا جو شروع ہو گیا ہے۔ ہم سے کیوں ملنا ہے آپ جناب نے۔“

امتہ السلام خوشی اور پرجوش انداز میں بولتے بولتے رک گئی اس نے حیرت سے گل رعنا کی طرف دیکھا۔ اس کی ویران آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی تھی جو بہے چلی جا رہی تھی اور پھر وہ بے قابو ہو کر سسکیاں لے کر رونے لگی۔

امتہ السلام کے مزید کچھ کہنے سے پہلے گل رعنا نے پیٹھ سے کپڑا ہٹایا۔ سرخ و سفید پشت پر استری سے جلے نشان نرم و نازک مخروطی انگلیوں اور ہاتھوں پر چھالے۔ سیب جیسے گال پر جگہ جگہ سرخ دھبے۔ گلابی ہونٹ ایسے جیسے کسی نے بے دردی سے نوچ لیا ہو۔ اس وقت گل رعنا کا انگ انگ زخموں سے چور تھا۔

امتہ اسلام کو گل رعنا کے آنے کی اس قدر خوشی تھی کہ وہ یہ سب دیکھ ہی نہ سکی۔ مگر اب اس کے دماغ میں بہت سے سوالات کیوں؟ کیسے؟ کب؟ کی صورت مچل رہے تھے جن کا جواب جاننے کے لئے بیتاب تھی۔

گل رعنا دھیمی آواز میں گویا ہوئی

” امتہ السلام یہ کیسے لوگ ہیں۔ ؟ جو انسانیت کا بھاشن دیتے ہیں۔ عورتوں کی مجالس میں کام والیوں سے حسن سلوک کی تلقین کرتے ہیں۔ خدا کا خوف دلاتے ہیں، مگر میرے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ تو ان کی کہی باتوں سے بالکل برعکس ہے۔

یہ دیکھو، میرے جسم پر زخموں کے نشان۔ بی بی کی بیٹی کرسی سے گر رہی تھی کہ میں نے لپک کے اسے تھام لیا۔ وہ رونے لگی تو میں اسے چپ کرواتی رہی۔ شومئی قسمت ان کے بیٹے کی شرٹ استری کر رہی تھی۔ وہ جل گئی۔ بی بی نے اسی گرم استری سے میری پیٹھ داغ دی۔ ان کے بیٹے کو علم ہوا تو الگ کمرے میں لے جا کے میرا جسم بھنبھوڑ ڈالا۔ میری چھاتیوں کو نوچنے لگا۔ یہاں تک میں درد اور تکلیف اور صدمے سے بیہوش ہو گئی۔ نہیں معلوم کہ اس کے بعد اس نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا۔ مگر میرے تڑپنے، رونے۔ سسکنے، چیخنے چلانے کا کسی پر رتی برابر اثر نہ ہوا۔ ”

”امتہ السلام میرے بابا کو ان سب خاندان والوں سے خاص عقیدت اور محبت ہے ان سے تقدس کی وجہ سے میری بات کا قطعی یقین نہیں کریں گے اس لئے میں نے بابا کو کچھ نہیں بتایا۔“

”امتہ السلام میں ایک مہینے میں سمجھ گئی ہوں کہ یہ لوگ کیسے ظالم جابر اور وحشی درندے ہیں۔ چہروں پر شرافت دیانت داری اور روحانیت کا ماسک چڑھا رکھا ہے۔ جی چاہتا ہے یہ ماسک اتار پھینکو۔ نوچ ڈالوں ان کے چہرے۔ مگر میری بات کا یقین کون کرے گا۔ ؟ الٹا مجھے ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا میری ہی کردار کشی کی جائے گی۔ یہاں تک کے ثبوت کے ساتھ چور چور بدن اور زخم دکھاؤں گی بھی تو کون مانے گا۔ “ امتہ السلام کیا کوئی ایسا طریقہ کوئی ایسا راستہ ہے کہ میں اپنی بے گناہی کا ثبوت سب کو چیخ چیخ کے دے سکوں؟ ظلم کی داستان ایسے سناؤں کہ سب میری بات کا یقین کریں۔ امتہ السلام بتاؤ کیا ہے ایسا کوئی طریقہ؟ ”

گل رعنا کی آواز رندھ گئی مزید بولنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا امتہ اسلام اٹھی اور پانی کا گلاس لا کے اس کے ہونٹوں سے لگایا، گل رعنا نے چند گھونٹ بمشکل گلے سے نیچے اتارے یہ چند گھونٹ پھانس کی طرح گلے میں اٹک رہے تھے۔ اس نے گلاس ایک طرف رکھا اور ہچکیوں کے درمیان دوبارہ بولی

”امتہ اسلام میں نے تو دوسرے دن سے ہی ظلم سہنا سیکھ لیا تھا۔ جب اس مقدس خاندان کا ہر لڑکا میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے تکنے لگا تھا۔ پھر موقع ملتے ہی سب نے باری باری اپنی ہوس پوری کی۔ میرے جسم کے انگ انگ کو زخمی کیا کھلونا سمجھ کے کھلواڑ کی۔“

پھر طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے بولی ”تمہیں معلوم ہے امتہ السلام جسمانی تسکین حاصل کرنے کے بعد ، خوب تیار ہو کر مذہبی تقریبات میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ جو خاص دن کے موقع کی مناسبت سے منعقد کی جاتی ہیں۔ جس میں ایمان افروز واقعات بیان کر کے لوگوں کے دلوں میں اس خاندان کی عزت رعب اور عقیدت بٹھائی جاتی ہے لوگ روبوٹ کی طرح بس سر ہلاتے رہتے ہیں امتہ السلام اطاعت اور غلامی سے سرشار یہ سب کیا میری بات کا یقین کریں گے؟“

امتہ السلام چپ چاپ گل رعنا سے یہ سب حالات سن رہی تھی اور دل ہی دل میں خوب پیج و تاب کھا رہی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ چیخ چیخ کے سب کو بتا دے کہ جسے تم لوگ مقدس خاندان سمجھتے ہو جن کی عقیدت کا دم بھرتے ہو۔ جن کو جھک جھک کے سلام کرتے ہو وہ اندر سے کیا ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ ؟

امتہ السلام نے خود سے ایک وعدہ لیا کہ اگر زندگی میں کبھی موقع ملا تو تمام سچائیاں دنیا کے سامنے لائے گی اور ان مکروہ چہروں کو بے نقاب کرے گی جنہوں نے شرافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ جو روحانیت کے نام پر لوگوں کے جذبات و احساسات سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ اس وقت وہ خوب جانتی تھی کہ لوگوں کا جواب کیا ہو گا۔

وہ جانتی تھی کہ اگر اب اس نے اس قسم کی کوئی بات کی تو گل رعنا اور اس کے بابا کو شہر بدر کر دیا جائے گا۔ اس لئے مصلحت کے تحت خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔

ظلم ہمیشہ نہیں رہتا۔ مجرم کتنا ہی چالاک ہوشیار ہو ایک دن قانون کے شکنجے میں ضرور پھنستا ہے۔ وہ وقت ضرور آئے گا اور جلد آئے گا جب لوگ اس نام نہاد عزت اور غیرت کو پیروں تلے روند ڈالیں گے۔ پھر ایسوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ امتہ السلام کو اس کا یقین تھا۔

ماسٹر قدوس کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی۔ گل رعنا کو دیکھا تو خود کو مجرم تصور کیا ان کے اندر بہت کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ گل رعنا کو لینے جب امتہ السلام کے گھر گئے تو دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا کچھ حصہ وہ سن چکے تھے مزید سننے کا حوصلہ نہ تھا شکست خوردہ پلٹ آئے۔ نڈھال ایسے بستر پر گرے کہ پھر نہ اٹھ سکے۔

گل رعنا پے درپے صدموں سے بالکل ہی ٹوٹ گئی چند دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی۔ جب تک سانسیں تھی زندگی کی گاڑی کو جیسے تیسے گھسیٹنا تھا۔ ایک ہفتے بعد کام پر جانا شروع کر دیا۔

ایک دن گل رعنا امتہ السلام کے گھر گئی اور اسے حیران اور پریشان کر دینے والی خبر سنائی ”امتہ السلام میں شادی کر رہی ہوں۔ “

”ہیں؟ اتنی جلدی۔ یوں اچانک۔ ؟ کس سے؟“
اس نے حیرت سے تکتے ہوئے کہا۔
گل رعنا سر جھکا کر شکست خوردہ جذبات سے عاری لہجے میں بولی
”منظور درزی سے۔“

”ہیں کیا؟“ وہ گل رعنا کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بولی ”ایسا کیسے ممکن ہے۔ پینتیس سال کا فرق ہے تم دونوں کی عمروں میں۔“ امتہ السلام کو جیسے شاک لگا

گل رعنا نے سسکی لی امتہ السلام کا ہاتھ ہولے سے ہٹایا اور بازو سے کپڑا سرکاتے ہوئے اس کے آگے کر دیا جہاں سوٹیوں اور ہتھیلی پر گرم کوئلے رکھنے سے پڑنے والے نشان نمایاں تھے۔

”کل ہی ایک بی بی نے سالن میں نمک ذرا سا تیز ہو جانے پر میرا یہ حال کر دیا ہے۔ ان کا جوان لڑکا ہر روز جسم کو ہاتھ لگاتا ہے۔ گلے لگاتا ہے۔ چھاتیاں نوچتا ہے۔ ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہے اپنی ہوس کو تسکین پہنچاتا ہے۔ میں کہاں جاؤں؟ امتہ السلام کس سے فریاد کروں؟ کسے اپنا درد غم سناؤں۔ ؟ المیہ تو یہ ہے کہ کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔ بابا ہوتے تو وہ بھی نہیں۔ ہمارا رشتہ آقا اور غلام کا ہے۔ پیر اور مرید کا ہے۔ مالک اور نوکر کا ہے۔ یہ ہمارے جسموں کے بھی مالک ہیں۔ ہم پر ظلم کرنا فرض سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہم ظلم سہنا۔

بھائی سمجھتے ہیں کہ میں بھی بابا کے نقش قدم پر ہوں۔ ہزار سمجھایا مگر نہیں مانتے میری واپسی کے راستے بھی مسدود ہو چکے ہیں۔ ”

”مگر گل رعنا، ادھیڑ عمر ہی نہیں وہ تین بچوں کا باپ بھی ہے، پھر تم کیسے یہ فیصلہ کر سکتی ہو۔ ؟“

امتہ السلام کے لئے یہ سب کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ گل رعنا نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھایا اور دکھ سے بولی۔

”اس نے کئی مرتبہ محبت کا یقین دلایا ہے وہ مجھے کبھی دکھی نہیں ہونے دے گا۔ پھر ایک مستقل ٹھکانہ مل جائے گا۔ تحفظ ہو گا ایک چھت ہوگی۔ اتنے مردوں سے جسم بھنبھوڑنے سے بہتر ایک کو ہی نوچنے کے لئے دے دیا جائے۔“


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
10 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments