گھٹن کے ماحول میں۔۔۔ عطا تراب کی ایک نظم


\"\" قلم قبیلے کے ہاتھ شل ہیں

سخن طرازوں کو چپ لگی ہے

کہ مال و زر کو سدا غنیمت سمجھنے والی سپاہِ دہشت

دیارِ خوشبو کو سخت نرغے میں لے چکی ہے

سپاہِ دہشت کے مورچے ہیں سفید گنبد

کہ جن کے ہر اک بلند گو سے

فضا میں مہلک خدنگ پھینکے گئے ہیں

جن پر ادق عبارات مندرج ہیں

غضب تو یہ ہے

کہ سادہ لوحوں کو مرگ ناموں پہ آسمانی ہدایتوں کے گمان ٹھہرے

تراب مقتل میں زندگی کا ہنر ہمی کو عطا ہوا ہے

لکھو کہ دل کی بھڑاس نکلے!

لکھو کہ سہمے ہوؤں کا خوف و ہراس نکلے!

Facebook Comments HS

2 thoughts on “گھٹن کے ماحول میں۔۔۔ عطا تراب کی ایک نظم

  • 28/01/2017 at 11:35 شام
    Permalink

    واہ واہ سبحان ﷲ۔ حالاتِ حاضرہ کی عکاسی کرتی ہوئی شاندار نظم ہے۔

  • 14/02/2017 at 3:04 شام
    Permalink

    واہ کیا خوب لکھی ہے …!
    محترم کی لکھی گئی ہر نظم پڑھ کر جگر لالہ میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے

Comments are closed.