ایک قوم ایک نصاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک کا نصاب انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کو مکمل طور پر تحقیق اور ہر طریقے سے دریافت کرنا ہو گا۔ حکومت کی طرف سے سنگل

قومی نصاب کا فیصلہ ایس این سی کے حالیہ نفاذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرے کے چند طبقات جنہوں نے پیسہ بنانے کے چکر میں خصوصاً پرائیویٹ سکولز اس کے نفاذ کو مسلسل روک رہے ہیں۔

ایس این سی کے پہلے مرحلے میں یہ کلاس 1 سے 5 کے لیے ہے جس کے بعد آنے والے مہینوں میں باقی تمام جماعتوں کے لیے نافذ ہو گا۔

کلاس 1 سے 5 کے لیے لازمی مضامین انگریزی، اردو، ریاضی، اسلامیات اور معاشرتی علوم، اقلیتوں کے لیے اسلامیات کی جگہ ”مذہبی تعلیم“ پڑھائی جاتی ہے۔ اس نصاب کا بنیادی مقصد انگریزی کو بطور زبان سمجھنا ہے۔

عملدرآمد کی پالیسی کے باوجود نجی اسکولوں نے ابھی تک ایس این سی کو نہیں اپنایا اور اب بھی اپنی کتابوں کے لیے NOC حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تمام تعصبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مواد تازہ ترین ہے اور ہماری قومی زبان اردو کو زندہ کرنے میں مدد ملے گی اور ایک قوم ایک نصاب کے نعرے کے تحت موجودہ حکومت کی طرف سے معیاری تعلیم کے ذریعے طبقاتی تقسیم کو کم کرنے کی ایک شاندار کوشش ہے۔

میرے خیال میں یہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ اس سے برابری ہوگی اور تمام بچے اسی طرح سیکھ سکیں گے۔ یہ یقینی طور پر تعلیمی تقسیم کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ قومی زبان اور ایک نصاب قومی زبان ایک وراثت ہے جسے اگلی نسلوں میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ جس دن کوئی قوم اپنی زبان بولتے ہوئے کمتر محسوس کرتی ہیں وہ زبان اسی دن مر جاتی ہے۔ میں اس بات کی کافی تعریف نہیں کر سکتا کہ ایس این سی نے ایک زبان کے طور پر اردو پر زیادہ توجہ دی ہے لیکن ایمانداری سے میری رائے یہ ہے کہ قومی زبان کی کتابیں اپنے ممالک میں تیار ہونی چاہئیں۔

آکسفورڈ کی اردو کتابیں ہماری روایتی اور قومی زندگی سے کوئی مماثلت نہیں رکھتیں۔ آئیے اردو کو دوبارہ زندہ کرنے کا موقع دیں اور اپنے بچوں کو یہ سیکھنے اور اپنی قومی زبان کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ قوم کے نظریے، زبان مذہبی محرکات، قومی پالیسیوں، اور سماجی اقتصادی ترقی، تکنیکی ترقی، تحقیق اور علم کی توسیع سے متاثر ہے۔ نصاب تعلیم کا ایک بڑا آلہ ہے جو درحقیقت پورے نظام کی تشکیل کرتا ہے۔ دنیا بھر میں ایک عام قاعدہ ہے کہ پرائمری اسکولوں کو اپنی قومی زبان کو صرف ایک مضمون کے طور پر نہیں بلکہ ان کی بولنے والی زبان کے طور پر لینا چاہیے۔

مجھے خوشی ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا اور مجھے امید ہے کہ اسے مزید تنازعات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہر نئی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ اگر ضرورت ہو تو ایس این سی پر نظر ثانی کی جائے۔ یہ نفاذ کا پہلا سال ہے اور یہ ہر گزرتے سال کے ساتھ بہتر ہوتا جائے گا انشاء اللہ۔ ہمیں صرف ایک موقع دینے کی ضرورت ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments