امن کی تعلیم
دور قدیم سے لے کر آج تک انسانوں نے سب سے زیادہ کوششیں دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے کی ہیں۔ کیونکہ لفظ ”امن“ ایک خوش گوار لفظ ہونے کے ساتھ ساتھ پر امن معاشرے اور خوبصورت دنیا کی طرف دھیان دلاتا ہے۔ ایسا بیان کیا جاتا ہے کہ امن ہی سب سے بڑا اور اونچا مقصد ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً ہر شخص ہی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ماضی میں امن حاصل کرنے اور امن لانے کے لیے لوگوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ اسی لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں کی تاریخ دراصل امن کے لئے کی گئی کوششوں کی تاریخ ہے۔
امن جو کہ اپنے اندر ایک وسیع معنی اور اپنی ایک خاص اور جداگانہ تاریخ رکھتا ہے، اکثر لوگ اس کے حقیقی معنی سے بے خبر ہیں۔ ان کے نزدیک امن وہ صورتحال یا زمانہ ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی جنگ و جدل نہ رہا ہو۔ یہاں تک بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ ”امن“ لاطینی لفظ ”PAX“ سے ماخوذ ہے جس کا معنی دو جماعتوں یا ملکوں کے درمیان کسی تنازعے یا جنگ کو روکنے کے معاہدے کے ہیں۔ امریکی فوجی تاریخ کے مطابق، جنگ کا نہ ہونا امن کہلاتا ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے جنگ دراصل امن کے حصول کے لیے ہی لڑی جاتی ہے۔ تاہم کئی اشخاص اور سکالرز اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک امن اس بات سے کہیں زیادہ معنی خیز اور اہم ہے۔
مثلاً البرت آئن سٹائن، مارٹن لوتھر جونیئر، جواہر لال نہرو، اور دیگر اشخاص کے نزدیک محض جنگ کا نہ ہونا امن نہیں بلکہ اس معاشرے یا ریاست میں انصاف اور قانون کی پاسداری، انسانی حقوق کی پاسداری اور شخصی آزادی کا ہونا اصل امن ہے۔ محض جنگ کے نہ ہونے کو امن کہنا بہت ہی چھوٹی بات ہے۔ شعبہ امن و تنازعات کے بہت بڑے اسکالر جوہان گالتنگ امن کو ایک سکے سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک امن کے دو رخ ہیں جن کا تعلق تشدد اور انتشار سے ہے۔
اگر کوئی ملک براہ راست جنگ میں شامل نہیں تو اسے جوہان گالتنگ منفی امن کہتے۔ اور اگر اس ملک یا معاشرے میں کسی قسم کا انتشار نہیں اور قانون اور انصاف کی پاسداری ہے تو پھرے وہ اسے مثبت امن یعنی حقیقی امن کہتے ہیں۔ امن کا تعلق براہ راست انسانی ذہن سے ہے۔ یونیسکو کے آئین میں شروعات کے اندر یہ بات درج ہے کہ ”جنگیں دراصل انسانوں کے ذہنوں میں شروع ہوتی ہیں“ ۔ اس لیے ضروری ہے کہ امن کی کوشش بھی انسانوں کے ذہنوں سے ہی کی جائے جو کہ تعلیم کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔
انسانی معاشرے میں اختلافات اور تنازعات کا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ مگر ضروری ہے کہ اسے تعمیری نظر سے دیکھا جائے۔ ان تنازعات کو بہتر طریقے سے حل کر کے امن کو یقینی بنایا جائے۔ دنیا کی ترقی کے لیے تنازعات کا بہتر حل نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں جب بھی کوئی نیا نظریہ یا خیال پیش کیا گیا تو اس کے نتیجے میں ضرور لوگوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات پیدا ہوئے۔ وہی معاشرے ہمیشہ ترقی کی جانب بڑھے جنہوں نے ان تنازعات کو تعمیری نظر سے دیکھ کر ان کا بہتر حل نکالا۔
قدیم یونان اور سلطنت روم کے زمانے سے ہی ہمیں ریاستوں کے امن کے لئے کی گئی کوششوں کے ثبوت ملتے ہیں، عظیم سلطنت روم نے ”Pax Romana“ یعنی روم میں امن کے معاہدے سے ہی اتنی بڑی سلطنت میں دو سو سالوں سے زائد عرصے تک امن برقرار رکھے رکھا۔ بیسویں صدی میں خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد منظم طور پر امن کے لیے کام کیا گیا۔ مختلف تنظیموں کا قیام عمل میں آیا جس میں سب سے بڑی اقوام متحدہ ہے۔ اسی سال یونیسکو کے قیام کے بعد باقاعدہ امن کی تعلیم کے لیے بھی کام شروع کیا گیا جس نے یقیناً دنیا میں امن لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
مگر اس کے باوجود سیاسی مقاصد کے حصول اور حکمرانوں کے ذاتی مفاد کی وجہ سے آج بھی کئی تنازعات ویسے کے ویسے موجود ہیں جیسے وہ سو سال پہلے تھے۔ موجودہ دور میں عالمی اختلافات اور تنازعات دنیا کی بہتری اور ترقی کے لیے نہ صرف رکاوٹ ہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جنگ اور جھڑپوں کی صورت میں انسانی جانوں اور مالی نقصان کی وجہ بھی بن رہی ہیں۔ اور کئی ایسے تنازعات ہیں جن کی وجہ سے جنگوں کا خطرہ آج اس اکیسویں صدی میں بھی موجود ہے جس میں خاص طور پر اسرائیل فلسطین، کشمیر اور شمالی چینی سمندر جیسے تنازعات سر فہرست ہیں جن کا پرامن طریقے سے حل ضروری ہے۔
امن کی تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سے لوگوں میں نہ صرف قوت برداشت پیدا ہوتی ہے بلکہ تنازعات کو ایک تعمیری نظر سے دیکھنے اور اس کا پرامن حل نکالنے کی صلاحیت آپ میں۔ پیدا ہوتی ہے۔ جس سے بالآخر معاشرے اور ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔



.Very informative and impressive
Good work dear👍