مذہب کی جبری تبدیلی غیر اسلامی کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وطن عزیز میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ نہیں کہ یہاں شہروں، قصبوں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں با اختیار اور تگڑے لوگ کمزور اور بے زمیں مزاروں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کی بہن بیٹیوں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا اور عام باشعور انسان یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں جبر و ستم کا شکار ہیں۔

مسئلہ اگر بھوک ننگ کا نہ بھی ہو تو بھی سب کے ساتھ برداشت ہو جاتا ہے۔ مہنگائی ہے چلو کوئی بات نہیں۔ افلاس ہے، سیاسی بحران ہے، یا پھر انصاف کا فقدان جو کچھ بھی ہے سب کے ساتھ ہے مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے جب جبر ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے اور ریاستی ادارے اور سیاسی اشرافیہ اس پر صریحاً انکار کرتے نظر آتے ہیں اور پھر دلیل کے طور پر بھارت کا ریفرنس دے کر بات کو ٹال مٹول کر دیا جاتا ہے۔

پچھلے دنوں مذہب کی جبری تبدیلی کے حوالہ سے ایک بار پھر بل پیش کیا گیا اس دفعہ یہ بل انسانی حقوق کے کمیٹی کو پیش کیا گیا، لیکن اس بل کو غیر اسلامی اور آئین اور قانون سے متصادم قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا گیا۔ بلکہ یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ قانون تو پہلے سے موجود ہے جس کو قابل عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک بات سمجھ سے بالاتر کہ جب الوہی احکام موجود ہیں کہ دین میں جبر نہیں اور اقلیتوں کا موقف اور مسودہ کے مقصد بھی آیت کے مطابق بلکہ حمایت میں ہیں کہ دین میں جبر نہیں اور اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنا مذہب تبدل کرتا بھی ہے تو آئین اس کو اپنی دین کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت فراہم کرتا ہے (حالانکہ اس پر بھی بحث ہو سکتی ہے ) تو کونسل کو پھر تحفظات کس بات پر ہیں؟

بلاشبہ دین اور عقیدے خالصتاً روحانی معاملات ہوتے ہیں جس پر ہر انسان کا عمل کرنا اس کا ذاتی فعل ہے اور ہم جیسے کسی بھی انسان کو لوگوں کے گناہوں کا حساب لینے کا اختیار نہیں، حضرت انسان کو خدا کے اختیارات لینے سے گریز کرنا چاہیے اور یہ بات قیام پاکستان کے وقت بابائے قوم نے اپنی ایک تقریر (جس پر آج بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے) بتا دیا گیا ہے کہ ریاست کو شہریوں کے دین اور مذاہب سے کوئی سروکار نہیں۔

وہ اپنی عبادت گاہوں میں جانے اور اپنے دین و مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق رکھتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ بابائے قوم نے یہ بھی فرمایا کہ وطن عزیز میں حب الوطنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اپ دیکھیں گے کہ ہماری اس نئی ریاست میں یہاں ہندو، ہندو نہیں اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا بلکہ سب پاکستانی ہوں گے جس کا بعد میں ترجمہ اور شرح کر کے اسے متنازع بنانے کی کوشش بھی کی گئی۔

آج وطن عزیز میں اقلیتوں کی معصوم اور کم عمر بچیوں کو ورغلا کر راتوں رات ان کا مذہب تبدیل کروا دیا جاتا ہے اور کسی ادھیڑ عمر کے شخص سے اس کا نکاح کر وا کر کسی مذہبی جماعت کے حکم نامہ کی نقل متاثرین کے منہ پر مار دی جاتی ہے کہ اب احتجاج کرتے پھریں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نابالغ بچی جس کی عمر چودہ یا پندرہ سال ہو کا نکاح جائز ہے اور پھر کیا مذہب تبدیل کرنے کا مطلب نکاح ہی ہے اور پھر اقلیتوں کی بچیاں کی کیوں مذہب تبدیل کرتی ہیں بچے کیوں مذہب تبدیل نہیں کرتے؟

دنیا میں پہلے کیا کم ہماری جگ ہنسائی ہو رہی تھی جو ریاستی سر پرستی میں یہ سلسلہ جبر جاری ہے اور یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی جو اپنے عنوان سے ہی اسلام کی حمایت میں نظر آ رہی ہے کیسے خلاف شریعت ہو سکتی ہے، یعنی دین میں جبر نہیں اور مذہب کی جبری تبدیلی میں بھلا کیا فرق ہے۔ پھر بھی ہمارے ملک کا ایک سیاسی مذہبی ٹولہ اپنی تعلیمات کے منافی خیالات کو مذہبی رنگ دے کر اس بل کو خلاف شریعت قرار دے رہا ہے۔

حیرت یہ بھی ہے اگر سارے فیصلے اسلامی نظریاتی کونسل نے ہی کرنا ہیں تو پھر پارلیمنٹ یا سینٹ کی کیا ضرورت ہے۔ آئینی طور ملک کا اختیار بھی پھر اسلامی نظریاتی کونسل کو دے دینا چاہیے تاکہ بات تو صاف ہو جائے۔ ہم جو دن رات جمہوریت کا رونا روتے ہیں پھر اس ڈھونگ کو ختم کر دینا چاہیے اور سارے فیصلے اسلامی نظریاتی کونسل ہی کو سونپ دیں، عجیب منطق پیش کی جا رہی ہے۔ ملک کی ستانوے فیصد آبادی مسلمان ہے اور ملک کا آئین عین شریعت کے مطابق بھی ہے۔

پھر بھی محترم وزیر اعظم صاحب کا بیان۔ ”میرے ہوتے ہوئے ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں بنے گا جو اسلام کے منافی ہو گا“ عالم پناہ ایسا کون چاہتا کہ ایک اسلامی ملک میں کوئی قانون شریعت کے منافی بنے۔ کیوں آپ کے خیالات میں اس قدر انتہا پسندی ہے۔ مسودہ قانون کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جو کچھ بھی ہو، قانون کے دائرے میں ہو حتی کہ ملک کی اقلیتیں بھی اس حق میں قطعاً نہیں وہ صرف اتنی سی ڈیمانڈ کر رہی ہیں کہ انہیں ملک میں تحفظ حاصل ہو اور ان کی بیٹیوں کو جبری مذہب تبدیل کر وا کے فوراً شادی نہ کر دی جائے اور اگر آپ اقلیتوں کا مذہب تبدیل کروا کر سبز سفید جھنڈے سے سفید رنگ ختم کرنے کا تہیہ کر ہی چکے ہیں تو اس پر قانون سازی کر لیں اور معزز عدالتوں کو بھی اس میں شامل کر لیں۔ ہو سکتا ہے اس بار قابل احترام عدالتیں فیصلہ کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ اس بار اگر مظلوم اقلیتوں کی آواز نہ سنی گئی تو اس کی بازگشت پوری دنیا سن سکتی ہے۔ یہ ملک ہم سب کا اس میں ہم سب کو عزت اور وقار سے زندہ رہنا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments