ڈی چوک کے رقص سے قوالی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک کی اس وقت صورتحال اس سسرال جیسی ہے جو بہت چاہت اور محبت سے من پسند بہو بیاہ کر لاتے ہیں اور وہ بہو اس گھر میں آ کر وہ تباہی مچاتی ہے کہ خاندان توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے، من پسند اور بھولی بھالی بہو ڈھونڈنے کے لئے پہلے سسرال والے اچھی بھلی لڑکیوں کو رد کر دیتے ہیں، خوب سیرت اور اچھی شکل و صورت والی لڑکیوں میں بلاوجہ عیب نکالے جاتے ہیں

سسرال والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ بہو ایسی ہو کہ سو افراد میں بیٹھی ہوتو لوگ پوچھیں یہ لڑکی کون ہے، جب بتایا جائے کہ اس کی شادی ہو گئی ہے پھر لوگ پوچھیں یہ کن خوش نصیب کی بہو بنی ہے، شادی کے رسم و رواج بڑی دھوم دھام سے ادا کیے جاتے ہیں، لڑکی کو گھر لاتے ہوئے سونے سے لاد دیا جاتا ہے، فون کر کے لڑکی کی پسند، ناپسند پوچھی جاتی ہے، اس میں ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ لڑکی سسرال آ کر مشکور ہوگی اور تابعدار رہے گی

ہماری موجودہ حکومت بلکہ اس کو یوں کہا جائے ہمارے موجودہ وزیراعظم اس مثال پر پورا اترتے ہیں، پہلے من پسند بہو لانے کے لئے طویل تلاش شروع ہو گئی، ملک کا چپہ چپہ، گلی گلی، محلہ محلہ چھان مارا گیا، دستیاب مال کو رد کر دیا گیا بلکہ اتنی بری طرح رد کر دیا گیا کہ ان کو چور، ڈاکو اور نجانے کیا کیا خطابات دے کر عوام کے دلوں نفرت بھر دی، کسی کو ٹین پرسنٹ کا خطاب ملا تو کسی کو پورا ٹبر چور ہے کے القابات سے نوازا گیا، دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ جنہوں نے ٹین پرسنٹ کے لئے گڑھا کھودا تھا وہ خود ہی اس گڑھے میں گر گئے نہ صرف گرے بلکہ منہ کے بل گرے کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہے

پھر جب وزیراعظم پسند آ گیا تو وہ قرعہ جناب عمران خان کے نام کا نکلا، من پسند وزیراعظم کے لئے ملک بھر میں جشن منانے کے لئے شہر شہر جلسے کیے گئے، ڈھول، باجے بجائے گئے، چوکوں اور چوراہوں میں خواتین کے رقص کرائے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ مجمع اکٹھا ہو اور لوگ من پسند بہو (معذرت، یعنی وزیراعظم) کی تعریفیں کریں کہ واہ کمال انتخاب ہے، من پسند وزیراعظم ایسا چنا گیا کہ اگر ملک کے 22 کروڑ افراد اس چوائس (پسند) کو دیکھیں تو پوچھیں یہ کس کی بہو ہے

من پسند وزیراعظم بنانے کے لئے اچھی خاصی تابعدار بڑی بہو (جو آج کل لندن میں زیرعلاج ہے ) کو مسترد کر دیا گیا حالانکہ اس کی تابعداری نے ہی بڑے گھر کی عزت بڑھائی ہوئی تھی، ماضی میں کس معاملے میں بڑی بہو نے کبھی انکار کیا تھا، ایک دو ایشو تھے اصولی طور پر تابعدار بڑی بہو کی بھی کبھی کبھی مان لینی چاہیے تھی مگر اب بڑے گھر والوں کا دل بڑی بہو سے بھر گیا تھا اس لئے من پسند بہو کی تگ و دو شروع کی گئی

بڑی بہو کو نافرمان، چور، ڈاکو ثابت کرنے کے لئے بالآخر بڑی حویلی کے سامنے مجمع لگایا گیا، جی ہاں ڈی چوک۔ جس نے پاکستان کی تاریخ میں نیا باب رقم کیا، دلفریب اور دلربا نغمے بنائے گئے، جب آئے گا عمران۔ بڑھے کی اس ملک کی شان، بنے گا نیا پاکستان، گلی گلی میں شور ہے، پورا ٹبر چور ہے، عمران خان دے جلسے وچ اج میرا نچن نوں دل کر دا، خیراتی میڈیا نے یہ رقص عوام کو دکھائے، ان رقص کی حالت یہ تھی کہ لوگ جب سٹیج ڈرامہ دیکھنے جاتے ہیں تو گیٹ والے سے ہی پوچھ لیتے، ڈانس کتنے ہے، گیٹ والا بتا دیا، چار یا چھ، پھر چار یا چھ رقص مکمل ہونے پر حال خالی ہونا شروع ہو جاتا ہے اسی طرح ڈی چوک کے دھرنے میں رقص کی یہ حالت تھی، لوگ تقریر کم سنتے اور رقص دیکھنے کے انتظار میں رہتے

دل جلوں کی اکثریت نے انہی رقص کا بدلہ ووٹ دے کر اٹھایا اور پھر نئی حکومت آ گئی، ”من پسند“ عمران خان وزیراعظم بن گئے، اب من پسند کے کرتوت تو کچھ تھے نہیں، اس نے من پسند بہو کی طرح ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا، وہ چیزیں جو مدت سے سیٹ تھیں، ان کو ساڑھے تین برسوں میں تہہ و بالا کر دیا

”من پسند“ وزیراعظم کا جب انتخاب کیا گیا تو اسے فری ہینڈ دیا گیا، ہلہ شیری ملنے پر من پسند نے وہ زبان استعمال کی کہ معزز گھرانوں میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، یہ عادت من پسند نے حکومت ملنے کے بعد بھی اپنائے رکھی، ہونا تو یہ چاہیے کہ من پسند اپنی زبان کو لگام دیتا اور کچھ کر کے لوگوں کے دل جیت لیتا مگر کچھ پلے ہوتا تو کچھ بہتر کرتا

من پسند وزیراعظم نے جتنی تباہی پھیلائی اس پر ڈی چوک میں رقص کرنے والیاں اور ان کے جلسوں میں رقص کرانے کے لئے لے جانے والے بھی توبہ توبہ کر اٹھے ہیں، تین سال میں من پسند وزیراعظم اپنی قابلیت نہ دکھا سکے جس پر عوام سخت مایوس ہوئے کہ بس ظاہری حسن ہی ہے، کرتوت کچھ بھی نہیں ہے، بڑے گھر والوں کا اندازہ بھی غلط نکلا کہ اتنے ناز نخروں سے بیاہا ہے اس لئے تابعدار رہے گا مگر من پسند جس پر سب کچھ قربان کر دیا تھا وہ تابعدار ہونے کے بجائے اب آنکھیں دکھا رہا ہے

ڈی چوک میں رقص اور بھنگڑوں سے شروع ہونے والا سفر اب قوالیوں تک پہنچ گیا ہے، ڈی چوک جی وہی ڈی چوک جہاں عورتوں اور نوعمر بچیوں کے رقص دکھا کر عوام کو متوجہ کیا جاتا تھا اب وہاں حکومت نے محفل سماع کا اہتمام کیا ہے کہ ربیع الاول کا بابرکت مہینہ شروع ہو گیا ہے شاید کچھ اللہ کی طرف سے مدد مل جائے ورنہ رقص اور بھنگڑوں سے ہمیں وقتی کامیابی تو مل گئی مگر ساڑھے تین برسوں میں جو ذلت ملی ہے وہ 74 سالہ ملکی تاریخ میں بھی کسی کے حصہ میں نہیں آئی


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments