کیا عمران خان سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے تاحیات قانون کی حکمرانی کے لئے جد و جہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو ایک ایسے معاشرے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں کوئی جرنیل بھی صرف اپنی کارکردگی اور صلاحیت کی بنیاد پر ’اوپر‘ آتا ہے۔ اس سے پہلے وہ حضرت عمرؓ کے دور کی یہ مثال بھی دے چکے ہیں کہ کیسے خلیفہ دوئم نے اپنے بہترین کمانڈر حضرت خالد بن ولید ؓ کو معزول کردیا تھا۔ سوچنا چاہئے کہ اداروں کے درمیان فاصلوں کی موجودہ صورت حال میں ایسی باتیں کرتے ہوئے کیا عمران خان سیاسی شہید بننے کی کوشش کررہے ہیں؟

اسلام آباد میں عید میلادالنبیؑ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جو طرز تخاطب اختیار کیا ، بدقسمتی سے وہ اس مبارک دن کی مناسبت سے موزوں نہیں تھا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کو رحمت اللعامین اور دوست دشمن کا بھلا چاہنے والے کی حیثیت سے پہچانا اور جانا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کاسب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ان کی ذات با برکات سے کبھی کسی کو کوئی اذیت نہیں پہنچی۔ تاہم سیاسی مشکلات میں گھرے وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر پیارے رسولﷺ کی محبت بھری اور انسان دوستی والی باتوں کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ حساب برابر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے بعض ایسے دعوے بھی کئے جن کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے۔

انہوں نے پاناما پیپرز کا طویل قصہ بیان کرتے ہوئے برطانیہ کے قانون کی مثالیں دیں اور وہاں پر نظام عدل کا حوالہ اس اتھارٹی کے ساتھ دیا گویا وہ برطانیہ میں بیرسٹر رہ چکے ہوں۔ حالانکہ گزشتہ روز ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ برطانیہ کی ایک براڈ کاسٹنگ کمپنی نے سابق وزیر خزانہ کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروگرام نشر کرنے پر معافی مانگی ہے۔ ان میں سے ایک پروگرام میں ان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا انٹرویو بھی نشر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اسحاق ڈار پر سرکاری اختیار ات کے ناجائز استعمال اور خزانہ چوری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ گویا جس نظام عدل کی مثال دیتے ہوئے ملک کا وزیر اعظم عوام کو یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ انہیں انصاف میسر نہیں ہے، اسی نظام میں اپنے ہی ایک خصوصی مشیر کا جھوٹ تسلیم کئے جانے پر وہ رد عمل ظاہر کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اس طرح وہ سچ، انصاف اور قانون کی بالادستی کا اعلان کرتے ہوئے دراصل جبر، انانیت اور اختلاف رائے کو مسترد کرنے کے افسوسناک رویہ کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس رویہ کا جواز نہ تو کسی جمہوری طریقہ میں تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی وزیر اعظم کی بیان کردہ مدینہ ریاست سے ایسا کوئی واقعہ نقل کیاجاسکتا ہے جہاں حکمران نے من پسند لوگوں کی غلطیوں کو نظر انداز کیا ہو اور مخالفین کو کچلنے کے لئے ان کے خلاف دروغ گوئی پر مبنی پروپیگنڈ ا کا سنگین ماحول پیدا کیا ہو۔

یہ قطعی مختلف بحث ہے کہ فی زمانہ تبدیل شدہ سماجی، معاشی، فنی اور سیاسی صورت حال میں کیوں کر ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہونے والے تجربات کو ہو بہو ویسی ہی شکل میں مروج کرنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ تاہم عمران خان خلافت راشدہ کے دور کی مثالیں دے کر اگر پاکستان کو ایک بہتر معاشرہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں اور قانون کے سامنے سب کو یکساں طور سے جوابدہ کرنے کا اصول عام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے، سیاسی مقاصد کے لئے دشمنی بنانے، اداروں میں تصادم پیدا کرنے اور حکومتی اختیارات کو غیر اخلاقی طور سے مخالفین کی کردار کشی کے لئے استعمال کرنے کی بجائے خود احتسابی کی بہتر اور واضح طور سے دکھائی دینے والی مثال قائم کرنی چاہئے تھی۔ انہیں اس کے ایک سے زیادہ مواقع مل چکے ہیں۔ ڈیڑھ دو سال پہلے چینی اور آٹے کی کمیابی کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد انہیں یہ موقع ملا تھا لیکن وزیر اعظم اپنے کسی ساتھی کو قانون کے مطابق سزا دلوانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ انہوں نے اس کی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ ماضی میں اختیار کئے گئے ہتھکنڈوں کی طرح تحقیقاتی کمیٹیاں بنا کر اور کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ، کے نعرے لگا کر معاملہ غتر بود کردیا گیا۔

اس حوالے سے انہیں ایک نیا موقع پنڈورا پیپرز سامنے آنے کے بعد بھی ملا تھا۔ پاناما پیپرز کی طرح طویل صحافتی تحقیقات کے بعد ان دستاویزات میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے بااثر لوگوں کی آف شور کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا تھا اور یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کمپنیوں کے ذریعے دنیا بھر کے طاقت ور لوگ اپنی ناجائز دولت کو غیر قانونی طریقہ سے چھپاتے ہیں یا اس پر ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ پاکستان کے 700 شہریوں کا نام پنڈورا پیپرز میں سامنے آیا ہے۔ ان میں سے درجن بھر لوگ وزیر اعظم کے قریب ترین ساتھیوں میں شامل ہیں لیکن ان میں کسی کو اپنا عہدہ چھوڑنے یا کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں ہے۔ احتساب کے کھوکھلے نعرے ضرور سنے گئے لیکن کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ سرکاری عہدوں پر براجمان آف شور کمپنیوں کے مالکان سے کسی جوابدہی کا کوئی اہتمام بھی نہیں ہؤا۔ ایسے میں جب ملک کا بزعم خویش دیانت دار وزیر اعظم پاناما پیپرز میں شریف خاندان کا نام آنے پر اب بھی نواز شریف کو مطعون کرکے انصاف عام کرنے کی بات کرتا ہے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے سے کتراتا ہے تو اسے دیانت، انصاف پسندی اور قانون کی عملداری سے زیادہ سیاسی مفاد پرستی کہا جائے گا۔ عمران خان کبھی نہیں مانیں گے لیکن ’اس حمام میں سب ننگے ہیں ‘ کے مصداق اب ان میں اور سابقہ حکمرانوں میں کوئی خاص فرق دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ کل تک عمران خان اور ان کے ساتھی نواز شریف اور آصف زرداری کی چوری کے قصے فروخت کرتے تھے۔ اب اپوزیشن لیڈر ببانگ دہل عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی بدعنوانی کا حوالہ دے کر عمران خان کو ’چوروں کا سردار‘ قرار دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم کی تازہ تقریر ان کی شدید سیاسی مایوسی اور پریشانی کی مظہر ہے۔ انہوں نے عید میلاد النبیؑ کے متبرک موقع پر اس دن کی تقدیس کو سیاسی الزام تراشی سے آلودہ کرکے قابل مذمت رویہ اختیار کیا ہے۔ اس دن محبت کا پیغام عام کرنے اور عفو و درگزر کی بات کرنا عام طریقہ ہے۔ اس موقع پر رسول پاک ﷺ کے اوصاف عالیہ بیان کرکے یہ یاد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو عیب جوئی، دروغ گوئی، الزام تراشی، بہتان باندھنے اور غیبت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ رسول پاکﷺ کی اسوہ حسنہ سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ دوسروں کی دل آزاری سے اجتناب کرنا چاہئے اور معاشرہ میں انتشار اور فساد پیدا کرنے کی کوششیں ترک ہونی چاہئیں۔ بدقسمتی سے عمران خان کی تقریر ان عناصر کا مجموعہ تھی جن سے پیارے رسول خدا نے منع فرمایا تھا۔ حیرت ہے کہ جو حکمران رسول پاکﷺ کی پیروی میں اپنی زبان پر قابو رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا، اس کے اس دعوے پر کیسے یقین کرلیا جائے کہ وہ ملک میں انصاف، مساوات اور قانون کی عملداری کا پاسبان ہے۔

 اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے حوالے سے عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اس فیصلہ کے حوالے سے صحیح غلط کی بحث سے قطع نظر جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان سے یہ واضح ہے کہ عمران خان سبک دوش کئے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بدستور آئی ایس کا نگران رکھنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ابھی تک اس خواہش کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کی ہے۔ کیوں کہ وہ جس آئیڈیل مدینہ ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں، نہ تو اس میں اس قسم کے طریقہ کی کوئی مثال ملتی ہے اور جس ملک کو آج انہوں نے قانون و اصول کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے یعنی برطانیہ، نہ ہی وہاں کے نظام میں اس کا کوئی نمونہ تلاش کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی تقرری کے سوال پر نظام حکومت میں شدید سنسنی خیزی پیدا کرنے کا سبب بنے۔ آج انہوں نے ایک بار پھر مدینہ ریاست کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں صرف بہتر کارکردگی دکھانے والا جنرل ہی اوپر جاتا تھا۔ کیا وزیر اعظم یہ کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاک فوج میں جنرل فیض حمید سے زیادہ باصلاحیت اور قابل کوئی جنرل نہیں ہے؟ کسی سربراہ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی نادانستہ کوشش بھی ایک منظم اور اپنے معیار و میرٹ پر فخر کرنے والی فوج کے وقار پر براہ راست حملہ تصور ہوگا۔

کیا عمران خا ن جان بوجھ کر مدینہ ریاست کا حوالہ دے کر فوج کے بارے میں ایسی باتیں عام کررہے ہیں جن سے فوج بددل ہو اور ان کے خلاف کوئی انتہائی اقدام پر مجبور ہوجائے؟ کیا عمران خان کو اپنے سیاسی سفر کا انجام ایک عبرتناک زوال کی صورت میں دکھائی دینے لگا ہے کہ وہ اب عوامی تقریبات میں فوج میں تقرری کے حوالے سے اصول و معیار کی بات کرنے لگے ہیں اور اے قانون کی عملداری کے ساتھ ملا کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ گویا پاک فوج کی قیادت نے میرٹ کو نظر انداز کیا تھا لیکن وہ اس کے راستے کی دیوار بن گئے؟ عمران خان کا یہ طرز گفتگو موجودہ ہائیبرڈ نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتا ہے۔ کیا عمران خان نے جان بوجھ کر یہ آخری جست لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ فوج ماضی کی طرح کسی غیر آئینی طریقے سے انہیں اقتدار سے محروم کردے تاکہ وہ سیاسی شہید کے طور پر ایک بار پھر مقبول لیڈر کا نیا جنم لے سکیں؟

یہ جؤا کھیلتے ہوئے وہ یہ فراموش کررہے ہیں کہ عوام کو مسلسل دھوکہ دینے کے لئے اپنے دور حکومت میں وہ کوئی ایک کامیاب منصوبہ بھی سامنے نہیں لاسکے۔ عوام کے دل جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کا پیٹ بھرا ہو۔ ملک میں بدتر معاشی حالات اور مہنگائی کی صورت حال میں عمر ان خان، عوام دشمن لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جس اپوزیشن کو انہوں نے نہایت محنت سے خود سے فاصلے پر رکھا ہے، وہ انہیں ولن کے طور پر پیش کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرے گی۔ اب ایک پیج کی بڑی طاقت کو للکار تے ہوئے وہ جس ’شہادت‘ کی تلاش میں ہیں، شاید وہ بھی ان کے مقدر میں نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2030 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments