بھونڈی تقریریں



ایک تجربہ کریں۔ جب آپ کی ٹی وی سکرین پر کوئی ایسی فوٹیج چل رہی ہو جس میں ایک بم دھماکے کے بعد کے مناظر دکھائے جا رہے ہوں، جہاں لوگ چیخ رہے ہوں، رو رہے ہوں ہر طرف خون ہو اور گوشت کے لوتھڑے بکھرے پڑے ہوں، تباہی کا دردناک منظر ہو۔ آپ ایک کام کریں کہ ٹی وی کی آواز بند کر کے اپنے موبائل پر اپنے پسندیدہ گلوکار کا انتہائی رومانوی گانا لگائیں اور وہ گانا سنتے ہوئے ٹی وی پر تباہی کے مناظر دیکھیں۔

آپ کو کیسا محسوس ہو گا؟ یقیناً آپ گانے کا لطف نہیں اٹھا پائیں گے، بلکہ آپ کو اپنا من پسند گانا انتہائی بھونڈا لگے گا۔ یہی حال تب ہوتا ہے جب آپ کسی سیاسی یا مذہبی رہنما کی تقریر یا اخلاقیات بھرا درس سنتے ہیں، مگر اس رہنما کا طرز عمل اس کی تقریر کے برعکس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں کی تقریریں اچھے الفاظ اور لہجے کے باوجود بھی بھونڈی لگتی ہیں۔

ایک لمحے راوی چین لکھتا ہے تو دوسرے ہی لمحے گلیوں میں معصوم لوگوں کی لاشیں گرتی ہیں۔ ایک طرف پاکستان کو عظیم قوم بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف پانامہ اور پینڈورا لیکس میں ہمارے دھرتی اور قوم کے محافظوں کے نام منظر عام پر آ جاتے ہیں۔ ٹی وی کی ایک سکرین پر پاکستان کی اخلاقی اقدار کا دم بھرا جا رہا ہوتا ہے تو دوسری سکرین پر چھوٹے بچوں کے ساتھ ریپ کی خبر چل رہی ہوتی ہے۔

لکھنے سے امن نہیں ہو جاتا، کہنے سے ترقی نہیں آ جاتی، کنٹینر پر چڑھ کر تبدیلی کا نعرہ لگانے سے تبدیلی نہیں آ جاتی، ولولہ انگیز ترانے گانے سے قومیں بڑی نہیں بن جایا کرتیں۔ رہنما ہی قوم کا بیڑہ پار لگاتے ہیں لیکن منافقت کے چوغے پہنے رہنما تقریریں کر کے قوم کا وقت تو برباد کر سکتے ہیں مگر ان کی زندگیوں میں کوئی سدھار نہیں لا سکتے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی فقط تقریروں سے نہیں بنتی۔ قائد اعظم، عبدالستار ایدھی اور روتھ فاؤ جیسے عظیم لوگوں کا طرز زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ قائد اعظم کا قول ”ایمان، اتحاد اور یقین محکم“ ان کی قیام پاکستان کی جدوجہد میں جھلکتا نظر آیا۔ ایدھی کی زندگی اور الفاظ کی سادگی میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔ روتھ فاؤ نے خدمت کا پرچار محض تقریروں کے ذریعے نہیں کیا بلکہ خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔

ٹی وی اور سوشل میڈیا پر روزانہ کے حساب سے ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما غربت کی چکی میں پستی ہوئی عوام کو سادگی کا درس دیتے نظر آتے ہیں مگر ان کا اپنا طرز زندگی پر آسائش ہوتا ہے۔ فحاشی کے خلاف جہاد کرتے ہوئے رہنماؤں کے اپنے سیکس سکینڈلز سوشل میڈیا پر گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ عورتوں کی عزت کا دم بھرنے والے ٹی وی سکرین پر عورتوں کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سچ کا پرچار کرنے والوں کے اپنے چہرے جھوٹ کے نقاب اوڑھے ہوئے ہیں۔ کرپشن کے خلاف ولولہ انگیز تقریریں کرنے والے اپنی کرپشن کو جواز فراہم کرتے نظر آتے ہیں۔ انقلاب کے نعرے لگانے والے خود کوئی قربانی دینا نہیں چاہتے۔

حالیہ مہنگائی کی لہر میں کئی سیاسی رہنما ٹی وی پر یہ کہتے سنے گئے کہ عوام کو چاہیے کہ چینی میں دو دانے کم ڈالیں، ایک روٹی کم کھائیں مگر خود عوام کے ٹیکس پر عیاشیاں کرتے تھکتے نہیں۔ سیاسی ایوانوں میں نوجوانوں کا مستقبل بہتر کرنے کی حکمت عملی تشکیل دینے کی بجائے بھونڈی تقریروں کے ذریعے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے، جھوٹے وعدوں کا انبار لگا کر روشن مستقبل کا سراب تخلیق کیا جاتا ہے۔

ہمارے سیاسی رہنما چین کی ترقی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن ان رہنماؤں نے کبھی اتنی زحمت نہیں کی کہ ماوزے تنگ کی جدوجہد کے بارے جان سکیں کہ کس طرح اس نے نشے میں ڈوبی چینی قوم کو صنعتی انقلاب کے ذریعے وقت کی سپر پاورز کے مد مقابل لا کھڑا کیا۔ ماوزے تنگ نے محض تقریریں نہیں کیں بلکہ قوم کو عظیم بنانے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی اور اس پر عمل کیا۔ تقریروں سے زندگیاں تبدیل ہوتیں تو بلا شبہ ہم دنیا کی عظیم قوموں میں شمار ہوتے۔

ہمارے نوجوانوں کو بھونڈی تقریریں کرنے والے رہنما نہیں چاہیں انہیں قائداعظم، عبدالستار ایدھی، روتھ فاؤ، مدر ٹریسا، اتا ترک، ماوزے تنگ، ابراہام لنکن اور مارٹن لوتھر جونئیر جیسے رول ماڈلز چاہیں جو بھونڈی تقریریں کر کے سراب تخلیق نہ کریں بلکہ حقیقت میں قوم کا مستقبل سنواریں۔

عظیم رہنما تقریر کرتے ہوئے اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیتے وہ سچ بولتے ہیں اور ایسا سچ جو ان کے طرز عمل سے پیوستہ ہو۔

عظیم رہنما اپنی کرسیاں، پوزیشن یا مقبولیت بچانے کے لیے جدوجہد نہیں کرتے بلکہ وہ لوگوں کی فلاح کے لیے کوشاں رہتے ہیں بالکل سورج کی طرح جو اپنی تمام تر روشنی پودوں اور درختوں کو دیتا ہے اور بدلے میں وہ پھل اور پھول دیتے ہوئے سورج کی طرف ہی بڑھتے ہیں۔

عظیم رہنماؤں کی اصل طاقت تقریر میں نہیں بلکہ ان کے مضبوط کردار میں ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں، ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کی بات سنتے اور مانتے ہیں۔ عظیم رہنماؤں کی تقریریں نہیں ان کے کام لوگوں کے دلوں پر ان منٹ نقوش چھوڑتے ہیں۔

Facebook Comments HS