یہودی سازش کی حقیقت
یہودیوں کے بارے سازشی مفروضات تو پہلے سے موجود تھے لیکن خاص کر روس میں بادشاہت کو تحفظ فراہم کرنے اور بادشاہ سے جتنی غلطیاں ہوتیں اسے یہودیوں پر ڈالنے اور اس کے پیچھے یہودی سازش کے ہونے کا پرچار کرنے کے لئے ان مفروضات کو خاص طور ہوا دی گئی۔
1900 کے اؤائل میں روسی خفیہ پولیس نے ایک دستاویز ”The Protocols of the Learned Elders of Zion“ تیار کیا جس کا مقصد یہودیوں کو ریاست مخالف قرار دینا اور تمام خرابیوں کا ملبہ یہودیوں پر ڈالنا تھا۔ اس دستاویز میں یہودیوں کہ رہنماؤں کی خفیہ ملاقات کا تذکرہ ہے جس میں وہ معیشت اور میڈیا پر کنٹرول کے ساتھ مذہبی تنازعات کو ابھار دے کر دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس دستاویز کے مطابق جو یہودی کہتے کہ ہم یورپ کے ساتھ امن و امان سے رہنا چاہتے ہیں تو وہ چالاکی کر رہے ہیں۔ اسی کو بنیاد بنا کر آج تک یہودیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں یہ اب تک کی سب سے مشہور اور سب سے زیادہ پھیلنے والی اشاعت ہے۔
یہ دستاویز ایسا فارمولا ہے جس کی بنا پر تقریباً سازشی مفروضات قائم ہیں جیسا کہ
”یہودی ہر جگہ ہیں“ ،
”یہودی ہر ادارے کے پیچھے ہیں“ ،
یہودی صرف مرکزی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں ”،“ یہودی کامیابی قریب تر ہیں ”۔
1903 میں اس کے کچھ حصے روسی اخبار Znamya میں شائع ہوئے۔ اس وقت تو زیادہ لوگوں نے اس پر توجہ نہیں دی لیکن 1905 میں روس جاپان کی جنگ میں روس کی ناکامی کی وجہ بھی یہودی سازش کو ہی قرار دیا گیا۔ روس اور مشرقی یورپ میں تو اجتماعات میں یہودیوں کو جلایا جاتا تھا۔ اس کے بعد 1917 میں روسی انقلاب کے موقعہ پر مغربی پروپیگنڈا کہ تحت بالشویک پارٹی کو ایسے ظاہر کیا گیا کہ یہ بھی یہودی سازش ہے اور لینن اور اس کی حکومت کے پیچھے بھی یہودی ہی ہیں۔
1917 سے لے کر 1920 تک اس دستاویز کو مارکسی تحریک کو یہودی سازش ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ ہنری فورڈ نے 1920 میں اس کی تقریباً پانچ لاکھ کاپیاں چھاپیں جسے ہٹلر اور جوزف گوئبلز نے بھی سراہا لیکن جب وقت نے اس دستاویز کو غلط ثابت کر دیا تو فورڈ نے معافی مانگ لی۔
1920 کے شروع میں الفرڈ روزن برگ نے ہٹلر کو اس دستاویز سے متعارف کروایا۔ وہ اسے اپنی سیاسی تقریروں میں بھی استعمال کرتا رہا اور اس بیانیے کو بھی ابھارتا رہا کہ یہودی بالشویک دنیا کو کنٹرول کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ 1920۔ 1930 تک نازی پراپیگنڈہ میں اس دستاویز نے بھرپور کردار ادا کیا۔ 1919 سے لے کر 1939 تک نازی پارٹی نے اس کے کم از کم 23 ایڈیشن شائع کیے۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست کے پیچھے بھی یہودی سازش وجہ قرار پائی۔
اسلامی دنیا میں بھی اس دستاویز پر یہ تاثر قائم ہو گیا۔ اسلامی رجعت پسندوں نے اسرائیل کے خلاف اسے استعمال کیا 1988 کے میثاق حماس Hammad Covenant کے آرٹیکل 22 کے مطابق تو روسی انقلاب، فرانسیسی انقلاب، لبرل ازم سب کے پیچھے یہودی سازش ہے۔
1921 میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ اس دستاویز کا زیادہ تر حصہ مریس جولی (Maurice Joly) کہ فرانسیسی۔ طنزیانہ سیاسی فکشن Dialogue in Hell Between Machiavelli and Montesquieu (1864) سے لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ناول Briarrtz سے بھی اس دستاویز کے لئے رہنمائی لی گئی۔ جس سے اس دستاویز کی وقعت کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔
اسرائیل کے موجودہ کردار سے قطع نظر یہودی سازش کے مفروضے کے پیچھے یہ سب تاریخی وجوہات ہیں۔ اب حالات ایسے ہیں کہ کوئی بھی اگر نئی تحریک پاکستان میں اٹھے تو اسے بھی یہودی سازش کے کھاتے ڈال دیا جاتا ہے اور ہم حقوق کی جنگ لڑتے ہی رہ جاتے ہیں۔


