آئندہ عام انتخابات کا جائزہ



لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے پر چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان بھی دم توڑ گیا۔ میں وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کے اس بیان سے 100 فیصد متفق ہوں کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں اور بہت سارے لوگوں کی حسرتیں اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔ جی ہاں! ان حسرتوں کا انجام تک پہنچنا صرف ملک و قوم کے ہی فائدہ میں نہیں بلکہ جمہوریت پسند حلقوں کے لئے بھی باعث مسرت ہونا چاہیے کیونکہ اہم مسئلہ پر تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ اس مسئلہ کو لے کر کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پربھی ایک طوفان برپا تھا جو کہ اللہ اللہ کر کے اپنے اختتام کو پہنچا۔ فیس بک اور ٹویٹر کے متعدد دانشور مذکورہ معاملہ کو بہت بڑے ایشو میں تبدیل کر کے حکومت کو روانگی کا پروانہ تھمانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔ حکومت کے خاتمہ اور قبل از وقت انتخابات کی دھڑادھڑ پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں مگر آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر برپا طوفان اختتام پذیر ہوا۔

جو لوگ قبل از وقت انتخابات کے خواہش مند ہیں ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اگر تاریخ کے اوراق کو بغور دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاست زیادہ تر واقعات یا سانحات کی محتاج رہی ہے۔ اس کی واضح مثال 2008 ءکے عام انتخابات ہیں جب سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا اور عوام نے اسی ہمدردی کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کو کرسی اقتدار پر براجمان ہونے کا موقع فراہم کیا۔ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو آج کل اپوزیشن سیاسی جماعتیں مہنگائی کے ایشو کو لے کر حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ مذکورہ احتجاج کی شدت کو دیکھا جائے تو اس میں اتنی جان محسوس نہیں ہوتی کہ اسلام آباد میں کوئی سیاسی تبدیلی رونما ہو سکے۔ اگر کوئی بڑا سانحہ یا واقعہ پیش نہ آیا تو میرا نہیں خیال کہ قبل از وقت انتخابات کی کوئی گنجائش باقی ہے۔ اگلے عام انتخابات بظاہر 2023 ءمیں ہی ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور سب سے بڑا سیاسی دنگل یقینی طور پر پنجاب میں ہی لگے گا۔

کچھ ہفتے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورہ جنوبی پنجاب کے دوران یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہاں کی قدآور سیاسی شخصیات پیپلز پارٹی کے کیمپ میں جا کر بیٹھ جائیں گی۔ جہانگیر ترین گروپ کے کچھ لوگوں کے بارے افواہیں گردش میں تھیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ بلاول بھٹو زرداری کے جنوبی پنجاب سے خالی ہاتھ لوٹ جانے کے بعد ایک بات تو واضح ہے کہ پنجاب میں آئندہ عام انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہی کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کے عذاب اور معاشی مشکلات کے باعث ملک کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں مگر پنجاب میں ہونے والے اب تک کے ضمنی انتخابات میں زیادہ تر حلقوں میں ہارنے کے باوجود تحریک انصاف کے ووٹوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جیت کا مارجن کم ہونے کے ساتھ سیالکوٹ کے صوبائی حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کی پکی سیٹ پر تحریک انصاف کی کامیابی اس بات کا مظہر ہے کہ اگلے انتخابات میں کوئی بھی پارٹی آسانی سے پنجاب میں کامیابی نہیں سمیٹ سکے گی بلکہ میچ آخری گیند سے ہوتے ہوئے سپر اوور میں داخل ہونے کی بھی شنید ہے۔

خیبرپختونخوا میں بھی کوئی بڑا اپ سیٹ ہوتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا۔ وہاں تحریک انصاف میں نئے دھڑے بندیوں کی قیاس آرائیاں تو آئے روز کی جاتی ہیں مگر بعد میں یہ بھی محض افواہیں ہی ثابت ہوتی ہیں۔ اے این پی، جے یو آئی (ف) اور پیپلز پارٹی میں اتنی سکت نہیں کہ وہ آئندہ الیکشن میں وہاں سے ڈارک ہارس ثابت ہو سکیں۔ اگر صوبہ سندھ کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو وہاں اب تک کی سب سے تگڑی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی ہی نظر آ رہی ہے جس کے ووٹ بنک میں ابھی تک کوئی بڑا ڈنٹ نہیں پڑ سکا۔ کراچی سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے مابین میدان سجنے کا امکان ہے جبکہ اندرون سندھ سے پیپلز پارٹی کا راستہ روکنا ابھی بھی آسان نہیں ہے۔ بلوچستان میں بی اے پی، بی این پی مینگل، جمہوری وطن پارٹی، جے یوآئی (ف)، پیپلز پارٹی اور پختونخوا ملی پارٹی و دیگر مقامی جماعتیں مضبوط حیثیت سے میدان میں ہوں گی ں۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی ابھی تک کی بڑی جماعتوں کے روپ میں اگلا الیکشن لڑنے کے لئے تیار نظر آ رہی ہیں۔ باقی آنے والا وقت ہی طے کرے گا کہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کیونکہ پورے وثوق کے ساتھ کوئی بھی بات لکھنا یا ہر خبر پر دسترس کا دعوے دار ہونا لاعلمی کی واضح مثال ہوا کرتا ہے۔ ویسے بھی سیاسی پنڈتوں کے مطابق سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، سیاست شطرنج کا کھیل جس میں کوئی بھی لفظ حرف آخر نہیں ہوتا اور کھلاڑیوں کو زیادہ علم کہ انہوں نے کون سا مہرہ کیسے اور کب چلنا ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان 2023 ء میں ہی ہو گا۔

Facebook Comments HS