معیاری تعلیم اور تعلیم کا فرق


یوں تو تعلیم کا فروغ ہی ہم جیسے ترقی پذیر ملک میں انتہائی مشکل رہا ہے اور ہزارہا کاوشوں کے باوجود اس راہ میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس کی بے شمار وجوہات ہیں جن میں ہمارے معاشرتی رویے بھی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں اور خاص طور پر والدین کو قائل کرنے کا ہدف پورا نہیں ہو رہا ہے وہاں اگر بات کی جائے معیاری تعلیم کی تو اس ہدف کے حصول کے لئے معاشرتی اثرو رسوخ رکھنے والے تمام ہی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس سلسلے میں اپنی کاوشوں کے ذریعے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اقوام عالم نے تعلیم جیسے انتہائی اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لئے میدان عمل آ کر کئی اہم کامیابیاں حاصل بھی کی ہیں ہر ملک اور ہر قوم کے اہم ترین اہداف میں تعلیم کا ہدف اور خاص طور پر معیاری تعلیم کا حصول ہے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے اس کے حصول کے لئے ممالک منصوبہ بندیاں کرتے ہیں اور عالمی ادارے بھی اس مقصد کے حصول میں ممالک کی مدد کیا کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں اقوام علم کے مشترکہ اہداف کا بھی خصوصی تذکرہ ضروری ہے کیونکہ ان اہداف ہی کی بدولت ہم جیسے ترقی پذیر معاشرے میں تعلیم اور معیاری تعلیم مین فرق واضح ہو سکا ہے ان (ایس ڈی جی) مقاصد میں معیاری تعلیم کا ذکر اس تفصیل سے کیا گیا ہے کہ ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ہمارے رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں مثال کے طور پر تمام عمر کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ممکن بناناقطع نظر رنگ، نسل، جنس اور مذہب کے مسلسل اور مفت، جامع، مساوی تعلیم کی بلا امتیاز فراہمی، پری پرائمری جماعتوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی ہر سطح پر کی جائے اور اس مقصد کے حصول کے لئے تربیت یافتہ اساتذہ فراہم کیے جائیں۔

سیکنڈری کی سطح پر تعلیم میں تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت بھی ضروری ہے مخصوص شعبوں میں مختلف مہارتوں پر کام کیا جائے اور موجود مہارتوں کو بڑھایا جائے۔

تعلیم میں موجود مختلف بنیادی معاشرتی رکاوٹوں کو ختم کر کے مساوات کو فروغ دیا جائے خاص طور پر جنس، عمر، نسل، رنگ، زبان، مذہب اور سیاست سے دور ہونا بھی ضروری ہے۔ معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی بھر سیکھنے کے مواقع تک رسائی اور ان کا جاری رہنا بھی ضروری ہے۔

یہاں یہ امر خوش آئند ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو اس سلسلے یعنی صرف تعلیم نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی بلا امتیاز رنگ، مذہب، نسل اور جنس کے فراہمی کو ممکن بنا رہے ہیں اور ان کی کاوشوں کو نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے اور یہی وہ ادارے ہیں جو کہ خاموش انقلاب کا سبب بن رہے ہیں ان اداروں میں ٹی سی ایف (دا سٹیزن فاونڈیشن)، کرن فاونڈیشن اور زندگی ٹرسٹ جیسے ادارے بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں نہ صرف معیاری تعلیم بلکہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، معاشرتی اور سماجی مہارتوں پر بھی خصوصی طور توجہ دی جاتی ہے تاکہ ایک مکمل اور مفید انسان معاشرے کو فراہم کیا جا سکے اور ان اداروں میں اساتذہ کی تربیت اور مخصوص شعبوں خاص طور پر بچیوں کے تحفظ اور ان کی آگہی کے لئے زندگی ٹرسٹ نے (ایل ایس بی) لائف اسکل بیسڈ ایجوکیشن جیسے حساس موضوع کو بھی پھیلانے اور نصاب تعلیم میں شامل کر کے ایک نئے اور روشن دروازے کو کھول دیا ہے اور اس سلسلے اقوام عالم بھی سرگرم نظر آتی ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا ا ور اسی میں ہماری کامیابی پنہاں ہے۔

Facebook Comments HS